بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / اک نظر ادھر بھی

اک نظر ادھر بھی


پاکستان خصوصاََ خیبر پختونخوا میں ایسے اداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو خصوصی طور پر مختلف معذوریوں کا شکار افراد کے علاج ، دیکھ بھال ، انھیں درپیش مسائل کے حل اور انھیں معاشرے کا کارآمد و فعال رکن بننے میں مدد دینے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار افراد کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ انکا عام معمولات زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ شعور و آگاہی کی کمی کا یہ حال ہے کہ کہیں تو معذور بچوں کے والدین انکی ذہنی و جسمانی حالت میں بہتری لانے کی کوشش ہی نہیں کرتے ، انھیں نارمل بچوں جیسے حقوق مثلاََ تعلیم وتفریح ، علاج معالجے کے مواقع اور جائیداد میں حصے وغیرہ سے محروم رکھا جاتا ہے اور اگر کہیں والدین میں اپنے معذور بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کا جذبہ سامنے آتا بھی ہے تو آس پاس کے لوگوں کی جانب سے حوصلہ شکنی اور سرکاری سطح پر سہولیات کی عدم دستیابی اس جذبے کو پروان چڑھنے نہیں دیتے۔سرکاری و معاشرتی سطح پر بے توجہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر معذور افراد کے مصائب و آلام زندگی بھر انکے ساتھ رہتے ہیں جبکہ والدین کے انتقال کے بعدان افراد کیلئے معمولات زندگی مزید تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔اُدھراگرچہ ماڈرن میڈیسن کا تصور چار ستونوں پر قائم ہے۔یعنی مرض کو پیدا ہونے سے روکنے کی کوششیں، مرض کے علاج کیلئے اقدامات‘ انسانی صحت کی بہتری کیلئے اقدامات اور مریض کی مکمل بحالی یا اسے حتی الامکان نارمل زندگی گزارنے کے قابل بنانے کیلئے اقدامات،لیکن ہمارے ہاں شعبہ طب کو ادویات اور سرجری کے ذریعے علاج معالجے تک محدود رکھا گیا ہے ۔

preventionکے حوالے سے بھی تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے لیکن rehabilitaion(بحالی )کا شعبہ بڑی حد تک نظر انداز ہے جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔خاص طور پر معذور افراد کے معاملے میں بحالی کا عمل اس لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ متعددذہنی و جسمانی معذوریاں عمر بھر کا روگ ہوتی ہیں اور ا ن معذوریوں کا شکار افراد کوبحالی کے عمل کے ذریعے ہی کسی نہ کسی حد تک معا شرے کا فعال رکن بنانے کی کوشش ہو سکتی ہے‘‘۔ ماہرین کی تجاویز ہیں کہ’’ ایک تو سرکاری سطح پر ہیلتھ پالیسیاں تشکیل دیتے وقت ماڈرن میڈیسن کے مختلف شعبوں(جن کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا) کے تقاضوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے اورپالیسی ساز اداروں میں فزیو تھراپسٹ سمیت دیگر شعبوں کے ماہرین کو بھی نمائندگی دی جائے۔دوسرے کم از کم ہرتحصیل کی سطح پر (بحالی مراکز) اورسپیشل ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ معذور افراد کیلئے تعلیم حاصل کرنے اور بحالی مراکز سے استفادے کے مواقع پیدا ہوں۔ تیسرے تمام پبلک مقامات بالخصوص ہسپتالوں ، سکولوں، مساجداور تفریح گاہوں وغیرہ میں معذور افراد کی وہیل چیرز پر آمد و رفت ممکن بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔یہ کام کرنا(یو این سی آر پی ڈی) کے کنونش کے تحت بھی حکومت پاکستان کیلئے لازمی ہے ، علاوہ ازیں معذور افراد کیلئے بیرونی ممالک سے منگوائے جانے والے خصوصی آلات اور گاڑیوں وغیرہ پر ٹیکسوں کی چھوٹ بھی دی جانی چاہئے۔ہر سال دسمبر کے اوائل میں خصوصی افراد کاعالمی دن رسمی طور پر منا لینا ان افراد کے مصائب و آلام کم نہیں کر سکتا،۔

زمینی حقائق پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک خصوصی افرادکی نگہداشت اور انھیں معاشرے کے صحت مند و فعال اراکین بنانے کے حوالے سے اتنا آگے جا چکے ہیں کہ اب ان ممالک میں اِس دن کی خاص بات اُن خصوصی افراد کو اعزازات سے نوازنا ہوتا ہے جنھوں نے پچھلے ایک سال کے دوران مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں لیکن پاکستان میں تاحال اس دن کی اہمیت صرف معذوری اور معذوروں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور حکومت کی توجہ انکے حقوق کی ادائیگی کی جانب مبذول کرانے کے ایک موقعے سے زیادہ نہیں ، وہ بھی بڑے محدود پیمانے پر۔ مذکورہ عالمی دن کی مناسبت سے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ گزرے ایک سال کے دوران خصوصی افراد کو درپیش مسائل و مشکلات اور انکے حل کیلئے مختلف سطحوں پر کچھ ہوا یا صورتحال جوں کی توں رہی اور اگر کچھ نہیں ہوا تو آنے والے سال میں کچھ ہونے کو یقینی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔