بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / پولیس کی کارکردگی قابل ستائش

پولیس کی کارکردگی قابل ستائش


ربیع الاول کے بارہویں دن ایک بار پھر پشاور کے ایک اوردرسگاہ زرعی تربیت گاہ کوخون میں نہلادیا گیادہشت گردی کے اس سانحے میں 11 بے گناہ افرادجن میں اکثریت طلبہ کی تھی شہیدہوگئے اس سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے شہیدہونے والے تمام طلبہ ،چوکیدار اور دیگرافراد کاتعلق انتہائی غریب گھرانوں سے تھا۔فرنٹیرریجن ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے طالبعلم قاسم علی شاہ پانچ بہنوں کااکلوتابھائی تھااس واقعہ کے دوسرے دن قاسم علی شاہ کی بہن کے بیان کوبعض اخبارات نے بہت نمایاں طورپرشائع کیاتھاجس میں بہن نے کہاکہ غریب والدنے لکڑیاں بیچ کرقاسم علی شاہ کوپڑھایاتھا‘ اسی طرح بنوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلم امین جان کے بارے میں بتایاجاتاہے کہ اس نے ایک دہشت گرد کو کمرے میں بندکردیاتھامگروہ دوسرے دہشت گردکی گولیاں کانشانہ بنے بندکئے جانے والا دہشت گردبعد ازاں پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنا۔اس واقعہ میں بونیر، چترال، دیر اور مانسہرہ کے اوگی سے تعلق رکھنے والے شہید طالبعلموں کاتعلق بھی غریب خاندانوں سے تھا کسی بھی طورپریہ سانحہ پشاورکے آرمی پبلک سکول اورباچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے وارداتوں سے مختلف نہیں تھا۔ اس موقع پرماضی کی طرح ایک بار پھرپولیس کے افسران اورجوانوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیاہے اس کی نظیر نہیں ملتی دہشت گردوں کے زرعی تربیت گاہ میں داخل ہونے کے چندہی لمحے بعدیعنی لگ بھگ5منٹ کے اندراندرپولیس افسران اورجوانوں کے دستے موقع پر پہنچ گئے اورپولیس کی بروقت کاروائی سے اگرایک طرف دہشت گردوں کوزرعی تربیت گاہ تک ہی محدودکردیاگیا۔

تودوسری طرف زرعی تربیت گاہ کے اردگردرہنے والے سینکڑوں لوگوں کوبچانے میں بھی کامیابی ملی ہے پولیس افسران اورجوانوں میں ایس ایس پی پشاور سجاد خان کاکردار انتہائی نمایاں رہا ہے سانحے کی اطلاع ملتے ہی سجاد خان وردی کی پرواہ کئے بغیر سونے کے لباس میں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئے اورزرعی تربیت گاہ پہنچتے ہی سجادخان نے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کی نگرانی شروع کی اورچندہی لمحوں میں تینوں کے تینوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیاایس ایس پی پشاورکی اس بہادری اورجوانمردی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ دسمبر 2008 میں جب شہید صفوت غیور پشاور پولیس کے سربراہ بنے توعسکریت پسندوں کے خلاف نتیجہ خیز کاروائیوں کاآغازہوا ان کاروائیوں میں خیبرپختونخواپولیس کے اہم افسران سمیت سینکڑوں اہلکاروں نے جان کی بازی لگا کر ہزاروں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ یقیناًسجاد خان نے اپنے سینئر پولیس افسران شہید صفوت غیور ، شہید عابدعلی،کالام خان،خورشیدخان اوردیگرکی تقلید کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو نہ صرف للکارا بلکہ ان کوہلاک کرنے میں بھی کامیاب ہوئے سجادخان کی طرح دیگرپولیس اہلکاربھی خراج تحسین کے مستحق ہیں‘تمام ترقبائلی علاقوں اور ملحقہ اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف 2004 سے فوجی کاروائیوں کاسلسلہ بھی جاری ہے ان تمام ترکاروائیوں میں خیبرپختونخو اپولیس کی کاروائیوں کوانتہائی حوصلہ افزاء اورنتیجہ خیزقرار دیا جا چکاہے جبکہ شمالی وزیرستان ،جنوبی وزیرستان، سوات اورخیبرایجنسی کے علاوہ دیگرقبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں کے نتیجہ میں عسکریت پسندوں کے نٹ ورک اورمضبوط ٹھکانے تباہ ضرورہوئے ہیں ۔

تاہم عسکریت پسندبھاگ کر سرحد پار افغانستان میں رہائش پذیر ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اورافغانستان کے سرحدی علاقوں میں جاری عسکریت پسندی کے تانے بانے امریکہ اور دیگرعالمی قوتوں کے اس علاقے میں اپنی اپنی مفادات کے تحفظ کیلئے کئے جانیوالے اقدامات سے ملتے ہیں ‘دہشت گردی کے باعث اگرایک طرف بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں تو دوسری طرف اس سے پاکستان اورافغانستان کے مابین تعلقات دن بدن کشیدہ ہوتے جارہے ہیں اب جبکہ امریکی حکام نے واضح طورپرپاکستان اور جنوب ایشیاء کیلئے پالیسیاں تبدیل کی ہیں توان تبدیلیوں کے منفی اثرات پاکستان پرپڑنے والے ہیں‘حکمرانوں کوچاہئے کہ وہ قومی لائحہ عمل کے مطابق داخلہ اورخارجہ پالیسیوں پرفوری نظرثانی کریں ورنہ دہشت گردی کے اس جاری رجحان سے ملکی اورقومی سلامتی کوشدیدخطرات سے دوچارہوناپڑے گا۔