بریکنگ نیوز
Home / کالم / قرض اور ترقی

قرض اور ترقی


پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اسکو مزید ترقی دلانے کے لئے حکومتی سطح پر بہت کے ایسے کام سر انجام دینے ہیں کہ جن سے اس ملک میں ترقی کا پہیہ چل پڑے۔ ا س کیلئے سڑکیں ،پُل ، کارخانے ، وغیر ہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے دیگر ملکوں اور اداروں سے قرض لئے جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ دنیا کی اکانومی سود پر چلتی ہے اس لئے ہمیں جو بھی اورجہاں سے بھی قرض لینا ہے اُس کے لئے سود بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ ان قرض دینے والے اداروں میں سر فہرست آئی ایم ا یف ہے کہ جس سے ہمارا ملک قرضے لیتا ہے مگر اُس کی کچھ شرائط بھی پوری کرنی ہوتی ہیں ۔جن میں ٹیکسوں کا لگانا بھی شامل ہے ۔ تو ہمارے ملک میں قرض لئے جاتے رہے اور اُن کا سود ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے رہے ۔ جس سے قرضوں کا حجم روزبروز بڑھتا ہی گیا۔یہاں تک کہ اب یہ حجم تقریباً بیس بائیس ارب تک جا پہنچا ہے۔ اس حکومت سے قبل جتنی بھی حکومتوں نے قرض لئے وہ کسی ترقی کے کام میں نہیں لگائے گئے تاکہ لئے گئے قرض کا پیسہ خود جنریٹ ہو کر ادئیگی میں معاون ہو ۔ جو بھی قرض لیا گیا وہ نانی کا فاتحہ سمجھ کر ہڑپ کیا جاتا رہا ۔ وہ قرض چاہے کسی جمہوری حکومت نے لیا ہو یا کسی آمریت نے لیا ہو اُسے ایوب حکومت کے بعد صرف کھانے پینے میں ہی استعمال کیا گیا ۔

جس کے نتیجے میں قرض کا سود ادا کرنے کے لئے بھی قرض لیاجاتا رہا۔ اس حکومت نے جو بھی قرض لئے اُس کو صحیح جگہ پر استعمال کیا گیا ۔جس سے دیکھا جائے تو قرض کا حجم بظاہر بڑھا مگر اس کا اگر ترقی کے کاموں سے موازنہ کیا جائے تو یہ قرض نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے کہ اس قرض کو ایسے منصوبوں پر لگایا گیاہے کہ جو ترقی میں اضافہ کا سبب ہیں اور ان منصوبوں نے بہت جلد اپنے اخراجات کو واپس کر دینا ہے اس لئے اس قرض کو اضافے کا نام دینا ہمارے نزدیک کوئی انصاف والی بات نہیںْ موجود حکومت کے آنے کے وقت ملک میں بجلی کا بحران تھا ۔ ملک میں سولہ سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنی پڑتی تھی جس سے کارخانوں کا پہیہ گھومنابند ہو چکا تھا اور مجموعی اکانومی میں تنزل کا رحجان تھا۔اسی طرح سڑکوں کا برا حال تھا جس کی وجہ سے مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں بہت زیادہ خرچ آ تا تھا جس سے مہنگائی کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ مگر اس حکومت نے جو بھی قرض لئے وہ سڑکوں کی بہتری اور بجلی کے کارخانے لگانے میں استعمال کئے جس کی وجہ سے پہلے مرحلے میں کارخانوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کیا گیا جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا اور سڑکوں کی وجہ سے کارخانوں کے مال کو ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچانے میں آسانی ہوئی اور کارکانوں میں پیداہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی اور اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہو۔

‘ اور جب ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا تو اس کا فائدہ ہمارے کارخانہ داروں اور ہمارے کسانوں کو ہو گا۔ اس لئے کہ کارخانے وہ خام مال استعمال کرتے ہیں جو ہمارا کسان پید ا کرتا ہے ۔اس طرح زراعت اور صنعت میں متوازی ترقی ہو رہی ہے۔ اب بجلی کے کارخانوں میں پیداواری صلاحیت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے بہت سے فیڈروں کو زیرو لود شیڈنگ پر کر دیاگیاہے یعنی اب کارخانوں کیساتھ ساتھ عام شہری کو بھی لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور اس سے جو ترقی کی رفتار ہے اس میں متعدد بہ اضافہ متوقع ہے اور جب ان پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے تو لامحالہ حکومت کے آ مدن میں بھی اضافہ ہو گا اور جب حکومت کی آمدن بڑھے گی تو یہ آمدن قرضوں کی ادائیگی میں کام آئے گی ۔ یعنی اب لئے گئے قرضوں کی ادئیگی کے لئے مزید قرض نہیں لینا پڑے گا اور لئے گئے قرض انشا ء اللہ بہت جلد ادا ہو جائیں گے ‘انشا ء اللہ ملکی پیداوار بھی بڑھے گی جس سے قرضوں کی ادائیگی بھی انشاء اللہ ہو جائے گی اوربجلی کے کارخانوں میں اضافے سے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی اور ٹیوب ویلوں میں اضافہ بھی ہو گا اور یہ انشاء اللہ چلتے ھی رہیں گے۔ اس سے زراعت کو مزیدفروغ ہو گا۔ اور جس طرح لئے گئے قرضوں کو زراعت کی ترقی کے لئے استعمال کیا جارہاہے اس سے ملک زرعی اجناس میں بھی خود کفیل ہو جائے گا۔ تو کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا نہیں ہے بلکہ ماضی میں لئے گئے قرضوں کی ادائیگی کابھی بندوبست کر دیاہے۔