بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امریکہ کودوٹوک جواب

امریکہ کودوٹوک جواب


امریکی وزیر خارجہ جمیزمیٹس کوگزشتہ روز کے دورے میں پاکستان کی جانب سے ہر سوال کاواضح جواب دیاگیا، اس کیساتھ ہی بھارت کی جانب سے افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال ہونے پر تشویش سے بھی آگاہ کیا گیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیساتھ امریکی عہدیدار کی ملاقات سے متعلق جاری اعلامیے میں بتایاگیا ہے کہ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر خارجہ سے بات چیت میں کہا کہ مشکلات کے باوجود پاکستان نے اپنی استطاعت سے زیادہ کام کیا‘ جیمز میٹس دوسرے اعلیٰ امریکی عہدیدار ہیں جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا، اس سے قبل اکتوبر میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، امریکی وزیر خارجہ دہشت گردی کیخلاف کوششیں دگنا کرنے کا مطالبہ کرنے کیساتھ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں، دوسری جانب عین اسی روز جب امریکی وزیر خارجہ پاکستان میں اعلیٰ قیادت کیساتھ ملاقاتیں کررہے تھے امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ مائیک پومپیو نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم نہ کیں تو امریکہ ان کے خاتمے کیلئے کچھ بھی کر گزرے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ پاکستان کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ارادوں سے آگاہ کریں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں، پاکستان کا موقف ہر حوالے سے وہی ہے جو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا ہونا چاہئے، جہاں تک پاکستان کے کردار کا سوال ہے تو اس سے آنکھیں بند کرنا حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے، خطے میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو خود امریکی عہدیدار بھی دہراتے ہیں، پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی انسانی جانیں جانے سے کتنے ہی گھرانے متاثر چلے آرہے ہیں، اقتصادی شعبے کا نقصان مجموعی طورپر اکانومی کو متاثر کرچکا ہے، ان حالات کا تقاضا ہے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی برادری زمینی حقائق کا ادراک کرے تاکہ خود اس کی غیر جانبداری پر اٹھتے سوالات ختم ہوں، خود پاکستان کو موثر خارجہ حکمت عملی کے ساتھ اپنا موقف پوری دنیا پر واضح کرنا چاہئے تاکہ ڈومور کے مطالبے کرنے والے اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔

ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس ختم کرنیکی سفارش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی ہے، کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے 4شہر دنیا کے 20آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں‘ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش اپنی جگہ وطن عزیز میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے ذمہ دار اداروں کو مہیا وسائل اور سہولیات کے ساتھ کارکردگی کا پابند بنانا بھی ضروری ہے، اس مقصد کیلئے ماحولیات کے دفاتر اور میونسپل سروسز کے ذمہ دار اداروں کے مابین باہمی رابطہ کا موثر نظام بھی ضروری ہے، ماحول اورصفائی کے مجموعی عمل کو پلاسٹک کے شاپنگ بیگز نے بری طرح بلاک کررکھا ہے‘ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ای پی اے کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کیلئے موثر قانون سازی کی جائے‘ خیبرپختونخوا حکومت اس حوالے سے پہل کرچکی ہے، اب صرف عمل درآمد کیلئے اقدامات میں تیزی کی ضرورت ہے، جس پر وزیراعلیٰ کو خود نوٹس لینا ہوگا۔