بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کوہاٹ میں خواتین بھکارنوں کی شامت

کوہاٹ میں خواتین بھکارنوں کی شامت


پشاور۔ڈپٹی کمشنر کوہاٹ خالد الیاس نے مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کونوجوان خواتین بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور غیر مقامی بھکاریوں کو فوری طور پر ضلع بدر کرنے کا حکم دیاہے اسی طرح انہوں نے عوام کی سہولت اور صحت عامہ کی بہتری کے لئے کوہاٹ میں قصائیوں، مرغی اور مچھلی فروشوں کے لئے الگ مارکیٹ کے قیام کے لئے ٹی ایم اے کو قابل عمل پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

یہ حکم انہوں نے ٹاؤن ہال میں کوہاٹ کے 25 تحصیل کونسلوں کے لئے منعقدہ کھلی کچہری میں دیا جس میں دوسروں کے علاوہ تحصیل ناظم ملک تیمورخان،نائب ناظم شاہد محمود، تحصیل کونسلرز،اسسٹنٹ کمشنرز صاحبزادہ سمیع اللہ، طاہر علی اورعباس آفریدی، ٹی ایم او محمد شعیب اور قومی تعمیر نو محکموں کے حکام نے بھی شرکت کی۔تحصیل کونسلرز نے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے باری باری اپنی متعلقہ تحصیل کونسل کے بڑے بڑے مسائل جن میں سے زیادہ تر کاتعلق تعلیم،صحت ، صفائی، آبپاشی اور آبنوشی کے شعبوں سے تھا، کی نشاندہی کی جبکہ علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے مفید تجاویز بھی دیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کونسلرز کی جانب سے پیش کردہ مسائل کے حل کے لئے موقع پر موجود سرکاری محکموں کے حکام کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ان پر واضح کیا کہ کھلی کچہری میں کئے گئے فیصلو ں پر من و عن عملدرآمد لازمی ہے اور عملدرآمدنہ کرنا متعلقہ محکمے کی نااہلی تصور ہوگی جس پر اس محکمے کے ذمہ دار حکام کے خلاف حسب قاعدہ محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے یقین دلایا کہ یہاں پر کئے گئے تمام فیصلوں پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل ہوگا اور گزشتہ کھلی کچہریوں میں کئے گئے فیصلوں پر90فیصد عملدرآمد اس کا واضح ثبوت ہے۔خالد الیاس نے کہاکہ یہ کھلی کچہریاں ماضی سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ہر مسئلے کا فالو اپ کیا جاتا ہے اور اس کی مکمل رپورٹ تیارکرکے چیف سیکرٹر ی کو بھیجوائی جاتی ہے جس سے وہ خود مانیٹر کرتے ہیں۔