بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / جمہوریت کے تقاضے

جمہوریت کے تقاضے


باراک اوباما جب ایتھوپیا گئے اور افریقن یونین کی تقریب میں خطاب کیا تو اسکے چند چیدہ چیدہ جملے یہ تھے’میں امریکی صدارت کے دوسرے دور کے آخر آخر میں ہوں۔ میں بتانا چاہوں گا کہ مجھے اپنے کام سے لگن ہے اور مجھے امریکی قوم نے جو عزت دی ہے‘ میں اسکا پورا پورا پاس رکھنے کی کوشش کررہا ہوں‘میں شاید تیسری مرتبہ بھی الیکشن لڑتا لیکن ہمارا آئین اسکی اجازت نہیں دیتا اور امریکہ میں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ میں شاید تیسری مرتبہ الیکشن بھی جیت لیتا لیکن یہ ایک اچھی بات نہ ہوتی۔ حالانکہ میں صحت کے لحاظ سے بُرا نہیں لیکن اس کرسی پر نئے خون کی آمد کا رستہ بند ہوجاتا۔ ویسے بھی میں وائٹ ہاؤس کی پابندی سے بور ہوگیا ہوں۔ میں اب اپنے خاندان کو وقت دینا چاہوں گا۔ اپنی مرضی سے نکل کر شاپنگ کرنا چاہوں گا۔ اب افریقہ میں دیکھئے ، کئی ممالک میں دس ‘پندرہ اور بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ صدر اور وزیر اعظم رہنے والے اگر اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ صرف وہی اس ملک کو چلاسکتے ہیں تو یہ ان کی لیڈر شپ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر اتنے عرصے میں وہ دوسری صف کے رہنما نہیں پیدا کرسکے تو یہ پوری قوم کی ناکامی ہے۔ نیلسن مینڈیلا کو دیکھ لیں ۔ تین دہائیاں جیل میں گزارنے کے بعد صرف ایک دفعہ صدر کی ٹرم گزارنے کے بعد نہایت شرافت سے حکومت سے الگ ہوگئے تھے کیونکہ ان کو اپنی قوم‘ اپنے سیاستدانوں پر اعتماد تھا کہ جس مملکت کی بنیاد انہوں نے رکھی وہ نہایت آرام و سکون سے چلتی رہے گی‘۔

میراگزشتہ ہفتہ ترکی میں خاصا مصروف گزرا۔ کچھ کانفرنس کا پروگرام بہت ٹائیٹ تھا اور کچھ وقت بھی کم تھا ۔تاہم جب بھی فرصت ملتی میں مقامی سیاست سے آشنا ہونے کی کوشش کرتا۔ ہر شخص اس حقیقت کو مانتا تھا کہ اردوان نے ترکی کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم بیس سال سے حکومت میں رہتے رہتے ان کے انداز میں بھی رفتہ رفتہ رعونت آنا شروع ہوگئی ہے۔ مخالفین پر الزامات کی بھرمار، ہر کسی سے پنگا لینا اور بڑے بڑے فضول پراجیکٹ شروع کرنا اسکے تکبر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اقتدار کو اپنی مقبولیت کے دور میں چھوڑنا سب سے معقول اقدام ہے نہ کہ لوگ ایک ہی چہرہ دیکھ دیکھ کر اُکتا جائیں اور پھر وہ حکمران کھینچ کر تخت سے اتارے جائیں۔ ایک سہ پہر کو ہم سمندر کے کنارے چائے پی رہے تھے تو میرے میزبانوں نے استنبول کے ایشیائی طرف میں ایک بہت بڑے زیر تعمیر مسجد کی طرف اشارہ کیا۔ معلوم ہو اکہ اردوان یہ مسجد اپنے گھر کے قریب بنارہے ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے مساجد میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل جب موصوف وزیر اعظم تھے تو وہ یہ کہہ کر کہ قصرِ صدارت ترکی کے صدر کے شایان شان نہیں اس لئے ایک پورا جنگل صاف کرکے اس میں ایک ہزار کمروں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا صدارتی محل تعمیر کرچکے ہیں۔ جس میں اب خود تشریف فرما ہیں۔

پاکستان ترکی کے نزدیکی دوستوں میں سے ہے اور اکثر مذہبی پارٹیاں اردوان کو ماڈرن صلاح الدین ایوبی مانتی ہیں۔ کہیں ان کی تلاوت کی ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں اور کہیں ان کی تقاریر فخر سے پیش کی جارہی ہیں۔ جبکہ اردوان کا اپنا خاندان آف شور کمپنیوں کے سکینڈل میں بدنام ہورہاہے۔ اسکا اثر ترکی کی معیشت پر پڑرہا ہے اور پچھلے دو تین سالوں میں ترکی لیرا تقریباً تیس فیصد گر چکا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سیاحت جو ترکی کی معیشت میں ایک اہم جزو تھا، اب آدھے سے بھی کم رہ گئی ہے۔ کئی ہوٹل تو دیوالیہ ہوکر بند ہوچکے ہیں۔ شام کی سرزمین میں دخل اندازی اور پھر شامی پناہ گزینوں کی آمد ایک دوسرے کرائسس کا اشارہ دے رہی ہے۔ ترکی نے بھی اس اُمید پر تیس لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے کہ بین الاقوامی امداد ملے ۔ یورپ کو تو اس بلیک میلنگ کے ذریعے ڈرا رہے ہیں کہ اگر امداد نہیں آتی تو ترکی ان تمام شامی مہاجرین کو یورپ کی طرف دھکیل دیگا۔ لگتا ہے کہ وہی پاکستان کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ ہم نے بھی افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود نہیں رکھا اور آج اسکا نتیجہ بھگت رہے ہیں جبکہ ایران نے ان کو کیمپوں تک محدود رکھا اور اس طرح سے اس بہانے دوسرے ممالک کو ایران میں دہشت گردی نہیں کرنے دی۔ اب ترکی میں بھی شامی مہاجرین اسی طرح شتر بے مہار پھررہے ہیں۔ دس لاکھ تو صرف استنبول کی گلیوں میں رہ رہے ہیں۔

میں یہ ساری معلومات آپ کے سامنے اسلئے رکھ رہا ہوں کہ نہ تو پاکستان میں لیڈرشپ نے سیاستدانوں کی دوسری صف تیار کی ہے اور نہ اردوان کرنے کو تیار ہے۔ اس لئے کم از کم سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ ممبران پارلیمنٹ اس بات کا ادراک کرلیں کہ وہ کب تک ایک خاندان کے دودھ پیتے بچے کو بھی فوراً اپنا لیڈر مانتے رہیں گے۔ ان کو چاہئے کہ پارلیمنٹ میں تیسری دفعہ وزیر اعظم کے انتخاب کا فیصلہ واپس لے لیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھیSexually transmitted leadership کی بجائے نئے خون کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کا قانون پاس کرنا چاہئے۔ ہر سیاسی جماعت کے ارکان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کا لیڈر بھی انسان ہے اور ان کی ہر خطا کی توجیہہ پیش کرنا اپنے آپ کو غلامی میں دینے کے مترادف ہے۔ سیاسی اجلاس میں ہر سیاسی پارٹی کے اندر کھلی بحث ہونی چاہئے۔ جمہوریت کی راگ الاپتے الاپتے اپنی پارٹی میں بھی جمہوریت نافذ کریں تو مجال ہے جو عوام مشکل وقت میں فوج کی طرف دیکھیں۔ اس وقت کوئی بھی پیغمبر کی جگہ نہیں لے سکتا اسلئے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو کھلے دل سے اپنے اپنے لیڈروں کی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہئے اور ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر احتساب کی روایت ہونی چاہئے۔