بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / کمیشن رپورٹ اور سیاسی گرمی

کمیشن رپورٹ اور سیاسی گرمی


پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق جسٹس علی باقر نجفی کمیشن رپورٹ جاری کردی ہے رپورٹ سے متعلق ذرائع ابلاغ میں آنے والی تفصیلات کے مطابق آپریشن کی منصوبہ بندی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی نگرانی میں ہوئی وزیر اعلیٰ نے آپریشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا حکومت کی خواہش تھی کہ ٹریبونل حقائق تک نہ پہنچ سکے ٗ خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ رپورٹ کی کاپی ملنے پر جائزہ لیں گے اور حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کمیشن نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ٗ رپورٹ جاری ہونے پر لاہور میں وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اہم اجلاس بھی ہوا ٗ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق کمیشن کی رپورٹ آنے کیساتھ ہی وطن عزیز کی پہلے سے گرما گرمی کی شکار سیاسی فضاء میں مزید حدت ریکارڈ کی جا رہی ہے ملک کی تندوتیز بیانات اور عوامی جلسوں میں دھواں دھار تقریروں سے لبریز فضاء میں پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ انکی جماعت ریاستی رٹ بحال کرائے گی۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اب جو بھی ہوگا ووٹ سے ہی ہوگا اس کیساتھ دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی ایک دوسرے کیخلاف بیانات کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے عدالتوں میں زیر سماعت کیسوں کا فیصلہ تو عدالتوں ہی میں ہوگا سیاسی فضاء کی گرما گرمی بھی اپنی جگہ جمہوری عمل اور عام انتخابات کے قریب آنے پر ہونیوالی تیاریوں کا حصہ سہی تاہم اس سارے منظر نامے میں وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں اور عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے توجہ اس بات پر بھی کرنا ہوگی کہ ملک کی اقتصادی حالت میں سدھار لایا جائے قوم کو مزید قرضوں تلے نہ دبایا جائے عام آدمی کو سہولیات فراہمی کی جائیں جو پینے کے صاف پانی کیلئے بھی پریشان ہے غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں اس مقصد کیلئے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے اس سب کیساتھ فاٹا اصلاحات‘ آبی ذخائر ٗ وسائل کی تقسیم اور دیگر اہم معاملات کو بھی مل بیٹھ کر حل کیا جائے تاکہ تعمیر و ترقی کا عمل بہتر اور لوگوں کو بھی ریلیف ملے۔

پھولوں کے شہر کی بگڑی شکل

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے گزشتہ روز ایک کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ پشاور کسی زمانے میں دنیا کا خوبصورت شہر کہلاتا تھا لیکن لینڈ مافیا اور حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث یہ ورثہ تباہی کے دہانے پر ہے ٗ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت کی حالت زار کسی ایک سڑک یا علاقے میں کسی ترقیاتی منصوبے سے بہتر ہونے والی نہیں‘ آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ ٗناقص اور تکنیکی مہارت سے عاری منصوبہ بندی اور ٹاؤن پلاننگ کے قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھے جانے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے موجودہ حالات میں شہر کی عظمت رفتہ کی بحالی دو حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے اول یہ کہ مہیا وسائل اور افرادی قوت کا درست استعمال کرنے کیساتھ اب تک کی غفلت و لاپرواہی پر پوچھ گچھ کی جائے اور دوسرا ضرورت کا حقیقی ادراک کرتے ہوئے باہمی مشاورت سے درست منصوبہ بندی کی جائے ٗ اس حقیقت کو ہر سطح پر مدنظر رکھنا ہوگا کہ شہر کی موجودہ شکل کو اگر ابھی درست نہ کیا گیا تو اسکے بعد صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا۔