بریکنگ نیوز
Home / کالم / چاہ بہار کی بندر گاہ

چاہ بہار کی بندر گاہ


گزشتہ چند دنوں میں بین الاقوامی سیاسی تھیٹر پر دو ایسے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جن کا پاکستان کیساتھ گہرا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہے اور جن کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ ضروری ہے پہلے تو آتے ہیں چاہ بہار کی بندرگاہ کے اگلے روز باقاعدہ افتتاح کی طرف‘ ہندو بنیا بڑا کایاں ہے انجام کار اس نے افغانستان اور وسط ایشیاء کیساتھ براہ راست تجارت کرنے کیلئے ایک متبادل راستہ تلاش کر ہی لیا ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں اس نے بھاری سرمایہ کاری کرکے اسے اس قابل بنا دیا ہے کہ اب وہ اسے استعمال کرکے وہاں سے اپنا تجارتی سامان افغانستان کی سرزمین تک پہنچایا کرے گا چاہ بہار سے افغانستان کی سرحد تک سڑک کو بھی اس نے کشادہ کر دیا ہے اب بھارت ‘ افغانستان کیساتھ یکطرفہ یا دو طرفہ تجارت کیلئے پاکستان کے اندر سے گزرنے والے روایتی قدیمی راستہ استعمال کرنے کا محتاج نہیں رہا یہ البتہ اور بات ہے کہ سائز حجم اور علاقے کے لحاظ سے چاہ بہار کی بندرگاہ اتنی بڑی نہیں کہ وہ گوادر کی بندرگاہ کا مقابلہ کر سکے وہ اس کے عشر عشیر بھی نہیں گوادر کی بندرگاہ اس ساحلی پٹی میں یقیناًدیگر تمام چھوٹی موٹی بندرگاہوں بشمول چاہ بہار سے کئی گنا بڑی ہے ایران کیساتھ اگر پاکستان کے تعلقات خوشگوار رہتے ہیں ۔

تو و ہ یقیناًچاہے گا کہ چاہ بہار کی طرف آنیوالے بھاری اور بڑے بحری مال بردار جہاز کو وہ گوادر کی بندرگاہ پر آف لوڈ کر لیاکرے اور پھر وہاں سے چھوٹے چھوٹے جہازوں میں وہ اسکو چاہ بہار تک پہنچائے بھارتی جاسوس کلبھوشن نے گرفتاری کے بعد جو انکشافات کئے ان کے پیش نظر گوادر کی ساحلی پٹی پر ہمیں کافی چوکس رہنا ہو گا کیونکہ اس علاقے میں بھارت کی جانب سے تخریبی کاروائیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا گوادر کی بندرگاہ بھارت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے وہ نہ پاکستان اور نہ چین کی اکانومی کو پھیلتے پھولتے دیکھ سکتا ہے اور اب تو امریکہ بھی گوادر کی بندرگاہ کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے چاہ بہار کی بندر گاہ سے اگر ایران کی معاشی حالت اچھی ہوتی ہے تو یہ پاکستان کیلئے باعثمسرت ہے لیکن ہماری حکومت کو بروقت ایرانی حکام کو بھارت کی ممکنہ ریشہ دوانیوں سے خبردار کرنا ہو گاخدشہ یہ ہے کہ چاہ بہار کے راستے تجارتی سامان لے جانے کی آڑ میں اسلحہ وبارود پاکستان میں تخریب کاری کیلئے افغانستان نہ بھجوائے اور یا پھرگوادر کا امن عامہ خراب کرنے کیلئے اسے بلوچستان کی ساحلی پٹی پر نہ استعمال کرے آخر افغانستان کی سرزمین کو بھی تو بھارت پاکستان میں تخریب کاری کیلئے استعمال کر رہا ہے دوسری اہم صورتحال جس کا ہم ذکر کرنا چاہتے ہیں۔

وہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی یہودی نوازپالیسی جو اب اپنا جوبن دکھلا رہی ہے ہو سکتا ہے اس کالم کے چھپنے تک امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکا ہو یا کرنے والا ہوحالانکہ اقوام متحدہ نے اس شہر کو متنازعہ قرار دے رکھا ہے اور یہ مسلمانوں کیلئے بھی اتنا اہم ہے کہ جتنا عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ آخر کیوں ایسا کرنے جا رہا ہے کہ جب اس سے پہلے گزرنے والے امریکی صدر نے کبھی بھی اس معاملے میں ایسا فیصلہ کرنے کا کبھی بھی سوچا تک نہیں کیوں وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا چاہتا ہے ؟ امریکہ کیلئے دنیا میں کیا درد سر کم ہیں جوہ ایک نیا درد سر خریدنے جا رہے ہیں اس سے تو مشرق وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس سے ایک ایسی آگ بھڑک اٹھے گی کہ جس کو بجھانا پھر امریکہ کے بس میں نہ ہوگا اس قسم کے غیر دانشمندانہ اقدامات سے دنیا میں کئی عسکری پرائیویٹ تنظیمیں بنیں کہ جنہوں نے پھر دنیا میں ہر جگہ امریکی املاک کو تباہ کرنے کی کوشش کی امریکہ کو اب تو ہوش کی دوا لینی چاہئے ۔