بریکنگ نیوز
Home / کالم / راہول گاندھی: مشکلات بھرا سفر!

راہول گاندھی: مشکلات بھرا سفر!


بھارت کے سیاسی منظرنامے پر جاری گرما گرمی سے کانگریس خاندان بطور خاص توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے راہول گاندھی واضح طور پر کانگریس کے اگلے صدر بننے والے ہیں نریندر مودی نے ان پر چاہے جو بھی الزام لگایا ہو مگر راہول صرف وہ قربانی کا بکرا محسوس ہوتے ہیں جنکی قربانی دینے سے انکی والدہ ہچکچاتی نظر آتی ہیں ماں جانتی ہیں کہ بھارت جس پرتشدد سیاست کا اکھاڑہ بن چکا ہے‘ اس میں نوجوان گاندھی اپنے بدقسمت والد یا دادی سے زیادہ ہی خطرات کی زد میں ہوں گے کم نہیں اور اب جبکہ انہوں نے اپنی آستینیں چڑھا لی ہیں تو ان کا اگلا کام کثیر الجہتی ہے‘ جس میں سے دو مسائل فوری توجہ کے طلب گار ہیں اقتصادی لوٹ مار اور وہ سماجی دراڑیں جو مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مزید گہری ہوگئی ہیں اقتصادی بدمعاشوں نے سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے جبکہ مذہب کے لبادے میں بربریت بھی مضبوط ہوئی ہے جو خود کو بظاہر قوم پرست قرار دیتی ہے‘ یہ دونوں ملکر راہول گاندھی کیلئے ایک فاشسٹ چیلنج ہیں‘ راہول کی دادی نے ان افراد کی ناجائز رقوم سے بھرے بینکوں کو قبضے میں لیکر زرمبادلہ کے تحفظ اور انسداد سمگلنگ قانون کے تحت ان لوگوں کو بند کردیا تھا‘ یہ قانون ایمرجنسی کے ان چند ذیلی اقدامات میں سے ایک تھا جن سے اختلاف بہت کم حد تک ممکن تھا اور اگر اُس پروگرام کو اندرا گاندھی کے کم عقل جانشین بند نہ کر دیتے تو اُس نے ہندو اور مسلمان داؤد ابراہیموں کا راستہ روک دیا ہوتا‘ 1985ء میں ممبئی میں کانگریس کی صد سالہ تقریبات کے دوران راجیو گاندھی نے کانگریس کارکنوں کی کمر سے دولت مندوں کا بوجھ ہٹانے کے عزم کا باآواز بلند اظہار کیا تھا۔

ان دولت مندوں نے فوراً راجیو کے قریبی دوستوں اور قابل اعتماد رشتے داروں اور اپنی ملکیت میں موجود میڈیا کے ذریعے ردعمل دیا انہوں نے ’بوفورز سکینڈل‘ کا سارا الزام راجیو پر ڈال دیا‘ جبکہ حیرت انگیز طور پر وہ سب دوست اور رشتے دار بچ گئے جو اس جرم میں حقیقی شریک تھے۔ جب مودی نے گزشتہ ہفتے اپنی انتخابی مہم کے ایک جلسے میں کہا کہ گاندھیوں کے دل میں گجرات کے لئے ہتک ہے‘ تو وہ آدھے صحیح تھے‘ فیروز گاندھی اس خاندان کی بنیاد ہیں‘ وہ گجراتی طالب علم اور مہاتما گاندھی کے اپنے منتخب کردہ شخص تھے۔ یوں مودی کا اس خاندان کی گجرات کے لئے نفرت کا دعویٰ قائل کرنے میں ناکام رہتا ہے شاید وہ اس روایت کی طرف اشارہ کر رہے ہوں کہ جو فیروز گاندھی نے خود شروع کی تھی یعنی بے قاعدہ کاروبار پر کڑی نظر رکھنا‘ جس میں سرفہرست گجراتی تھے‘ جو اب مودی کے بدعنوان گروہ کا حصہ بن چکے ہیں‘شاید یہ عدم اتفاق نہ ہو کہ جن دو بڑے کاروباریوں وجے ملیا اور سبراتا روئے‘ جنہیں آج دوسروں کیلئے نشان عبرت بنانے کی کوشش ہو رہی ہے‘ وہ مودی کے دور میں پروان چڑھنے والوں سے علاقائی یا لسانی طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ صد سالہ تقریر کے بعد لگتا ہے کہ اس گروہ نے عہد کر لیا تھا کہ گاندھی خاندان میں سے کوئی بھی دوبارہ بھارت کی سربراہی نہیں کریگا‘ جب سونیا گاندھی کی اس اعلیٰ ترین عہدے کیلئے کوشش آخری منٹ پر ناکام بنا دی گئی تو اس میں مرکزی کردار ملائم سنگھ یادیو کا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ جن دولت مندوں کے بارے میں راجیو نے خبردار کیا تھا۔

ملائم سنگھ کے ان سے تعلقات تھے‘یہ کانگریس اور بھارت کے لئے ایک خوش آئند علامت ہے کہ راہول گاندھی نے انتخابی جلسوں اور پارلیمنٹ میں کچھ بدعنوان کاروباری شخصیات کا نام لیا کانگریس کے نئے رہنما نے مودی کو چند کاروباری شخصیات کو غیر منصفانہ انداز میں نوازنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان شخصیات میں سے ایک کا نام فرانس کیساتھ جنگی طیاروں کے نئے معاہدے میں بھی لیا جا رہا ہے مگر ان کیلئے گئے ناموں میں ایک نام‘ جو کہ شاید سب سے بڑا ہے‘ اب بھی سنائی نہیں دیا۔ یہ ٹائیکون عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما اروند کیجریوال کی سب سے ناپسندیدہ شخصیت ہے‘راہول گاندھی کی صورت میں یہاں امید کی ایک کرن موجود ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ اروند کیجریوال نے گجرات میں اپنے حامیوں کو کانگریس کو ووٹ دینے کی ہدایت دی ہے ۔

شاید راہول پہلے ہی ان میں سے کچھ کی بھنک محسوس کر رہے ہوں جیسا کہ ان کے والد نے کیا تھا ان کی لڑائی اپنے ہی گڑھ سے شروع ہوگی چنانچہ وہ فوراً ہی اپنی لڑائی کا رخ دیہی علاقوں کی پریشانیوں کی طرف موڑتے ہوئے بے روزگاری اور اس سے آگے بھی لیکر جائیں گے راہول گاندھی کے لئے بڑا چیلنج براہ راست مذہبی فاشزم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہیں شروعات شاید تعلیمی اداروں کو ملک کے عالمی طور پر شہرت یافتہ مایہ ناز سیکولر تعلیم دانوں کے حوالے کرنے سے کرنی چاہئے‘شاید انہیں ان اداروں میں مودی کے دور میں پروان چڑھنے والے تفرقے باز مواد سے صاف کرنے کیلئے فیومیگیشن بھی کرنی پڑے‘گجرات اور دوسری جگہوں میں سیاسی طور پر مضبوط مجرموں کیخلاف مقدمات دوبارہ شروع کرنا ایک ایسا چیلنج ہوگا جس سے وہ بھاگ نہیں سکتے ایک اچھے مستقبل کے لئے بھارت کی تقدیر بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا قریبی جائزہ لیا جائے‘ جو کہ بظاہر اس بدمعاش گروہ کے لئے ہی کام کرتا ہے جس نے عوام کی مرضی کو کہیں دبا دیا ہے۔ اُتر پردیش میں حالیہ شہری انتخابات میں برقی طور پر تبدیل شدہ نتائج کی اطلاعات راہول گاندھی کو لاحق پہلے چیلنج کا ثبوت ہے۔ بھارت کی روح کے لئے جدوجہد تو ایک ایسا چیلنج ہے‘ جسے کچھ وقت کے لئے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: جواد نقوی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)