بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / امریکی فیصلے پر مسلم و عالمی برادری کا شدید ردعمل

امریکی فیصلے پر مسلم و عالمی برادری کا شدید ردعمل


غزہ + اسلام آباد + لندن۔ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کرنے اور اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کو مسلم و عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے حماس سے اسرائیل کے خلاف نئی انتفاخہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا گیا ہے ۔

اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس 13 دسمبر کو ہوگا‘ قومی اسمبلی نے امریکی فیصلے کے خلاف متفقہ قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے امریکہ سے اپنا اقدام واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ فلسطین میں مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں اور پرتشدد مظاہرہ میں 43 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں تاہم امریکہ نے تمام احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن رد عمل پر جوابی حکمت عملی پہلے سے تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کو عالم اسلام پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے امریکی اقدام کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی یہ امریکی اعلان امت مسلمہ پر براہ راست حملہ ہے ایسے وقت میں جب مشرق وسطٰی میں انتشار کی صورتحال ہے امریکہ نے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی مسئلہ فلسطین پر 8سے زائد قراردادوں سے انحراف کرتے ہوئے متذکرہ اعلان کر دیا ہے ۔

نیشنل اسمبلی آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور قراردادوں کے نفی میں امریکہ اپنا یہ اقدام واپس لے ۔دریں اثناء فلسطین کی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق امریکی اعلان کے خلاف نئی انتفاضہ (جدو جہد آزادی) تحریک چلانے کا اعلان کردیا ۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفاضہ (جدو جہد آزادی) کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انتفادہ کیلئے کام کرنا چاہئے۔

ہم حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے جبکہ (آج ) یوم جمعہ کو امریکی فیصلے اور اسرائیل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔اسماعیل ہانیہ نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن عمل معطل کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کا بھی بائیکاٹ کردیں۔امریکہ نے جہنم کا دروازہ کھول دیا ہے۔نئے امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ‘بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ’ ہے اور ‘یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی ہے امید ہے امریکہ فیصلہ واپس لے لے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ‘اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے آٹھ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فیصلے کے حوالے سے رواں ہفتے کے اختتام تک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یوراگوائے نے اس ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے جو (آج )جمعے کو منعقد ہوگا۔ادھر یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے یروشلیم پر اسرائیلی حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا۔انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ترکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ‘ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔صدر طیب اردگان نے کہاکہ امریکہ نے بم پر سے پن ہٹا دی ہے۔ادھرترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع امریکہ قونصل خانے کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جبکہ تیونس میں تمام بڑی لیبر یونینز نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔

فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے ردعمل پر کہا کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔پاکستان ،فلسطین ،مصر،ایران،ترکی،فرانس ،جرمنی ،برطانیہ اوراردن سمیت عالمی برادری نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

جمعرات کو یورپی ،ایشائی اور اماراتی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی خبروں تشویش ہے اور پاکستان امریکا کے کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ دنیا میں پہلے ہی کم تنازعات اور خوف موجود تھا جو امریکا کی طرف سے ایک اور متنازع فیصلہ کر لیا گیا، فیصلے سے مزید کشیدگی بڑھے گی جبکہامریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ٹیلرسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطی میں امن عمل آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد جہاں اسلامی اور عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے وہیں امریکا نے جوابی حکمت عملی مرتب کرنا شروع کردی ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں نے امریکی وزارت خارجہ کی ایک دستاویز شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ القدس کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اپنا رد عمل نرم رکھے۔

دستاویز پر چھ دسمبر کی تاریخ درج ہے جسے تل ابیب میں قائم امریکی سفارت کاروں کو بھیجا گیا ہے۔ دستاویز میں صدر ٹرمپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ القدس کے حوالے سے خبر کا اعلانیہ خیر مقدم کریں گے میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ آپ سرکاری رد عمل میں ہاتھ ہلکار رکھیں۔خبر رساں اداریرائٹرز کے مطابق دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کے جانے کے رد عمل میں مشرق وسطی اور پورے مشرق وسطی میں مزاحمت ہوسکتی ہے۔ ہم اس فیصلے کے اثرات وعواقب کا جائزہ لے رہے ہیں۔