بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اے ٹی ایم سکینڈل کا اہم ملزم گرفتار

اے ٹی ایم سکینڈل کا اہم ملزم گرفتار


اسلام آباد،کراچی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے اے ٹی ایم ا سکینڈل کی تحقیقات میں اہم ملزم کو گرفتار کر کے سیکٹروں اے ٹی ایم کارڈز برآمد کر لیے۔ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے نے ایسے آلات کا بھی پتا چلا لیا جن کی مدد سے اے ٹی ایم ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔انچارج سائبر کرائم ونگ راولپنڈی اسلام آباد رانا عمران سید نے بتایا کہ ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔تفتیش کاروں کے مطابق ضرورت پڑنے پر بیرون ممالک سے بھی معاونت کے لیے رابطے کیے جا سکتے ہیں، تاہم دو طرفہ معاہدے نہ ہونے سے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بنکوں کو بھی سیکیورٹی اقدامات بڑھانے چاہئیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال ملک میں 4 کھرب روپے سے زائد کا لین دین اے ٹی ایم کے ذریعے ہوا۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم سے متعلق فراڈ کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی روک تھام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہنگامی پلاننگ کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے حکام کا مزید کہنا ہے کہ تمام بنک اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرکے صارفین کو ایسے اے ٹی ایم کارڈز جاری کرسکتے ہیں جن کا ڈیٹا چرایا نہ جا سکے۔گزشتہ دنوں اے ٹی ایم کے ذریعے اسکمنگ سے صارفین کا ڈیٹا چرا کر رقوم چوری کرنے کا انکشاف ہوا جس میں کئی بینک صارفین کو اپنی رقوم سے ہاتھ دھونا پڑا جب کہ انہیں اس چوری کا پتا بینک کے بتانے پر پڑا۔اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کارڈ کے پیچھے مقناطیسی اسٹرپ سے اکانٹس تفصیلات چرا کر غیر قانونی کام کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح ملک کے اندر اور باہر مختلف جگہوں سے رقوم غیر قانونی طور پر نکلوائے گئیں، اب تک 296 کھاتے داروں نے مشکوک لین دین کی شکایت کی اور نکلوائی گئی رقم کا اندازہ ایک کروڑ 2 لاکھ روپے ہے۔