بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / ستاروں پر یقین رکھنے والوں کے ستارے بدل گئے، ناسا

ستاروں پر یقین رکھنے والوں کے ستارے بدل گئے، ناسا


کراچی۔ امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں آسمانی برج کا اعلان نہیں کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ علمِ نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں ایک دو دن کا نہیں بلکہ تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے۔

ناسا کے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں برج کے بارے میں کوئی اعلان جاری نہیں کیا بلکہ اس کی ’’اسپیس پلیس‘‘ نامی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع شدہ مضمون میں یہ بتایا گیا ہے کہ علمِ نجوم کا فلکیات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی سلسلے میں نجومیوں کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ اگر نجومی واقعی سائنس سے کوئی تعلق رکھتے تو وہ دائرۃ البروج کو 12 کے بجائے 13 حصوں میں تقسیم کرتے تاکہ زیادہ درست حساب لگایا جاسکتا۔

اس تیرہویں فرضی برج کو تحریر میں ’’اوفیوکس‘‘ (Ophiuchus) کا نام دیا گیا تھا لیکن میڈیا نے اس مضمون کا غلط طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایسی خبریں چلا دیں جیسے ناسا نے نجومیوں کی تائید کرتے ہوئے ایک برج کا اضافہ کردیا ہو۔

اس سے پہلے بھی خلائی تحقیق کے سنجیدہ اداروں اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل ایسوسی ایشن (آئی اے یو) سمیت، ماہرینِ فلکیات کی تنظیمیں متعدد بار نجومیوں کے حساب کتاب میں غلطیوں کی نشاندہی کرچکی ہیں اور یہ بتاچکی ہیں کہ نجومی جن اعداد و شمار کی بنیاد پر برجوں کے بارے میں بتاتے ہیں وہ کم و بیش 3 ہزار سال پرانے ہیں اور اس پورے عرصے کے دوران کسی برج میں سورج کی آمد و رخصت کے دنوں میں لگ بھگ ایک مہینے کا فرق آچکا ہے اور ہر سال 20 منٹ 22 سیکنڈ کا فرق بڑھتا جارہا ہے۔