بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت کو ایک اور شرمندگی کا سامنا

بھارت کو ایک اور شرمندگی کا سامنا

پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش بری طرح ناکام بناتے ہوئے اپنے پانیوں سے دور دھکیل دیا، پاک بحریہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان کے مطابق نیوی کے فلیٹ یونٹس نے پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور اس کی نقل وحرکت کو محدود کردیا، پاک نیوی نے بھارتی آبدوز کو خفیہ رکھنے کی ہر کوشش کو بھی ناکامی سے دوچار کیا،بھارتی بحریہ کی جانب سے پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، بھارت کو ایل اوسی پر جارحیت کا موثر جواب ملتا ہے اور عین اسی روز جب بھارتی آبدوز کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی خود بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اپنے 13فوجیوں کے مارے جانے کا اعتراف کیا، اس سے قبل بھارتی فوج اپنا جانی نقصان چھپاتی رہی تاہم جنرل راحیل شریف نے جب اس نقصان کی بابت بتایا تو بھارت کو بالآخر تسلیم کرنا ہی پڑا۔

اس ساری صورتحال میں بھی پاکستان واضح کررہا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑجواب دیاجائیگا، ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیری قوم کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھارت کی جانب سے جاری جارحیت خطے میں امن کے حوالے سے خطرہ ہی ہے، بھارت میں انسانی حقوق کیلئے بنائے گئے قاعدے قانون کو روندا جارہا ہے،کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، اس ساری صورتحال پر عالمی برادری اور امریکہ جیسے ممالک کا خاموش رہنا خود ان کی غیر جانبداری کو سوالیہ نشان بنادے گا، پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ کو اس ضمن میں خطوط بھجوائے گئے ہیں‘ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اپنا کردار اد کرے۔

مردم شماری پر یقین دہانی مسترد

سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے مردم شماری کیلئے 2017ء میں مشروط تاریخ مسترد کردی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ ملک میں سارے کام فوج نے کرنے ہیں تو دیگر اداروں کی کیاضرورت ہے؟ کسی بھی ریاست میں مردم شماری کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا، وطن عزیز میں اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے میں یکے بعد دیگرے آنیوالی حکومتوں کی جانب سے تاخیر پہلے ہی ہوچکی ہے جس کے ازالے کیلئے اقدامات متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہیں ان اداروں کو اس بات کا ادراک واحساس کرنا ہوگا کہ وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی عمل میں پلاننگ کا بڑا انحصار آبادی سے متعلق اعداد وشمار ہی پر ہے۔

یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں وفاق اور صوبوں کو ایک میز پر اکٹھے ہوکر حکمت عملی طے کرنی چاہئے، اس میں وفاق اور صوبوں کے اداروں کی افرادی قوت اور وسائل کا مشترکہ استعمال اس بڑے اور اہم آپریشن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، ضرورت مردم شماری اور پلاننگ کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی بھی ہے تاکہ ڈیٹا زیادہ سے زیادہ محفوظ اور درست رہے۔