Home / اداریہ / اقتصادی شعبے میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت

اقتصادی شعبے میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت

منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں غربت کی شرح38.8 فیصد تک بڑھ گئی ہے مہیا اعدادوشمار کے مطابق غربت کے معاملے میں قبائلی علاقہ جات73.7 فیصد کی شرح سے سب سے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح49.2 فیصد ہے اور یہ تیسرے نمبر پر ہے اسکے ساتھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہاہے کہ ملک میں قرضوں کے اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جس میں قرضوں کا مجموعی حجم22ہزار ارب روپے سے بھی بڑھ گیا ہے بینک دولت پاکستان کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ قرضوں کے والیوم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتیں بیرونی قرضے کی قسط منظور ہونے کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی اورعالمی اداروں کا ان پر اطمینان قرار دیتی چلی آرہی ہیں موجودہ حکومت نے معیشت کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قراردیا معاشی استحکام امن کے قیام کے ساتھ جڑا ہے جس کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے اقتصادی اعشاریوں میں بہتری ریکارڈ پر موجود ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کوئی چھپی بات نہیں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات اور خصوصاً گردشی قرضوں کا خاتمہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سرمایہ کاری کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کررہا ہے تاہم اس سب کے باوجود ہماری معیشت کا انحصار بیرونی و اندرونی قرضوں پر ہے ہمیں ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ لینا پڑ رہاہے عام آدمی کو اکانومی میں بہتری کا کوئی احساس نہیں ہو رہا اس کے یوٹیلٹی بل مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن پر بن رہے ہیں جبکہ غربت کی شرح میں اضافہ ذمہ دار اداروں کی فائلوں میں موجود ہے اس سب کیساتھ اوپن مارکیٹ کی صورتحال اذیت ناک ہوچکی ہے مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے وفاق اور صوبوں نے کوئی پلاننگ کی نہ ہی صوبوں کے لیول پر اضلاع اور تحصیل لیول پر اس مقصد کیلئے کوئی مستقل کاروائی دیکھنے میں آئی برسرزمین حالات اور مہیا اعدادوشمار اس بات کے متقاضی ہیں کہ منتخب سیاسی قیادت مرکز اورصوبوں میں عوام کی ریلیف یقینی بنانے کے ساتھ اکانومی کو بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کیلئے اقدامات تجویز کرے مرکز اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ جیسے معاملات نمٹائے جائیں خیبرپختونخوا اس سارے کیس میں زیادہ توجہ کامستحق ہے۔

یہاں کے مخصوص حالات اور جغرافیہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس صوبے کے مرکز کے ذمے پن بجلی کے منافع کے بقایا جات اور جاری مدت کی اقساط فی الفور یقینی بنائی جائیں اس سب کیساتھ یہاں کی صنعت کو مزید مراعات پر مشتمل جامع پیکج دیا جائے اس صوبے میں پیدا ہونیوالی گیس کو بجلی کی پیداوار میں استعمال کرنے اور مقامی صنعت کو کم نرخوں پر سپلائی کرنے کیلئے ٹھوس پالیسی بھی ناگزیر ہے منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ میں فاٹا کے اندر غربت کی جو تشویشناک شرح بتائی گئی ہے اس میں کمی کیلئے بھی اصلاحات کا عمل جلدازجلد مکمل کرنیکی ضرورت ہے ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ اس وقت حکومت کے اکانومی کی بہتری کیلئے اٹھائے تمام اقدامات کا ثمر آور ہونا عام آدمی کی ریلیف سے جڑا ہے جسے یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے اس تلخ حقیقت کو بھی سامنے رکھنا ہوگا کہ تمام تر بہتر ہوئے اقتصادی اعشاریوں کا کوئی براہ راست فائدہ عام شہری قطعاً محسوس نہیں کر رہا۔