بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آئیڈیاز نمائش اور وزیراعظم کا خطاب

آئیڈیاز نمائش اور وزیراعظم کا خطاب

وزیراعظم نوا ز شریف نے دفاعی نمائش آئیڈیاز2016ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اپنی حکومت کی ترجیحات اور اَب تک کی کامیابیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح سود تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے توانائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے افراط زر میں تاریخی کمی اور شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے ۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت سماجی شعبے پرخصوصی توجہ دے رہی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ملکیتی حقوق حاصل ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء میں 261 غیر ملکی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں جبکہ خود پاکستانی کمپنیوں کی تعداد157 ہے نمائش میں رکھے گئے آلات حرب کی تعداد 2 ہزار سے بھی زائد ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ کہنابالکل درست ہے کہ عالمی اداروں میں پاکستانی معیشت کی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے ان کا یہ کہنا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے پاکستانی معیشت میں بہتری کے معترف ہیں ۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے حکومتی اقدامات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تاہم اس سب کے نتیجے میں عام شہری ریلیف نہیں پا رہا امن کے قیام کے ساتھ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ ترغیبات دی جا رہی ہیں۔

تاہم اس حقیقت سے صرف نظر ممکن نہیں کہ خود مقامی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کرتے وقت اپنے ہی اداروں کے بنے دفتری گھن چکروں میں پھنس کر رہ جاتا ہے اسے سرمایہ کاری اور اس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو استحکام دینے کی اپنی کوشش رائیگاں جاتی نظر آتی ہیں وہ صرف ایک یوٹیلٹی کنکشن کے لئے دفتروں کے چکر کاٹتا ہے اسے زائد بلنگ ٹیکس اور دیگر حوالوں سے درجنوں مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اب جبکہ سی پیک کے ذریعے سرمایہ کاری کا عمل بڑھ رہا ہے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں مزید فروغ پانے والی ہیں حکومت کو اپنے اقدامات ثمر آور بنانے کے لئے انویسٹرز کے ساتھ عام شہریوں کو بھی سروسز کی فراہمی کا نظام آسان بنانا ہوگا بجلی کا کنکشن ہو یا سوئی گیس کی سروس کاروباری لائسنس ہو یا مشینری کی امپورٹ و تنصیب خام مال کی درآمد ہو یا تیار مصنوعات کی برآمد ہر شعبے میں سہولتیں دے کر ہی حکومتی اقدامات کو سودمند کہا جاسکتا ہے بصورت دیگر سب کچھ اعلانات تک ہی محدود رہے گا۔

آپریشن کے ثمرات ضائع نہ ہونے پائیں

میڈیکل کے شعبے میں مریض کی سرجری کے بعد اگر احتیاط نہ کی جائے تو زخم خراب ہو کر اذیت کا باعث بن جاتے ہیں طبی اصطلاح میں پوسٹ آپریشن کیئر کی خصوصی اہمیت ہے اسی طرح تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن ہو ٗمہنگائی یا ملاوٹ کے خلاف آپریشن اس کی کامیابی کا انحصار پوسٹ کیئر پر ہے پشاور میں تجاوزات کے خاتمے کے بعد ملبہ اٹھانے اور دوبارہ سے انکروچمنٹ کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کا فقدان ساری ایکسر سائز کو ضائع کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے گرانی اور ملاوٹ کے خلاف ایک دو روز کا آپریشن چیک اینڈ بیلنس کا مربوط نظام نہ ہونے کے باعث قطعاً فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا ٹریفک نظام میں بہتری کے اقدامات روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ نہ ہونے کے باعث کسی صورت ریلیف کا ذریعہ قرار نہیں دئیے جاسکتے ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات میں صرف وقتی کاروائی کو کافی سمجھنے کی روایت ختم کردی جائے۔