بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارتی وزیر اعظم کی اسلام دشمنی

بھارتی وزیر اعظم کی اسلام دشمنی


کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان وہی فرق ہے کہ جو سردار پٹیل اور گاندھی جی کے درمیان تھا سردار پٹیل ایک نہایت سخت قسم کا متعصب ہندو تھا اور وہ کھلے عام مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کیا کرتا تھا جبکہ اس کے علی الرغم گاندھی جی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی پالیسی پر چلتے تھے وہ مسلمانوں کو میٹھی گولی سے مارنا چاہتے تھے کانگریس ہمیشہ سے گاندھی جی کے مسلمانوں کے بارے میں افکار اپنائے ہوئے ہے جبکہ بی جے پی نے سردار پٹیل والا وتیرہ اپنایا ہوا ہے یہ وہی نریندرا مودی ہے ناں کے جب وہ بھارتی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کے دور میں ایک ریل گاڑی میں درجنوں مسلمانوں کو قتل کروا دیا گیا تھا یہ وہی نریندرا مودی ہیں کہ چند سال پہلے جب ایک مسلمان بھارتیہ جنتا پارٹی کی موٹر کار کے نیچے آ کر ہلاک ہوا تو موصوف نے طنزا فرمایا تھا کہ کیا فرق پڑتا ہے کتے موٹر کاروں کے نیچے آ کر ہلاک ہو جایا کرتے ہیں کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے اس کو اسرائیل نے بھی وہ گر سکھائے ہیں کہ جو یہودیوں نے فلسطینی جنگجوؤں کو دبانے کے لئے استعمال کئے ہیں یہ جو بھارتی فوج چھرے دار بندوقوں سے کشمیر ی حریت پسندوں کے منہ پر گولیاں چلا کر انہیں اندھا کر رہی ہے یہ گر بھی بھارت نے اسرائیل سے ہی سیکھا ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسندوں نے ان پاکستانی فنکاوں کا بھی قاضیہ تنگ کر دیاہے جو فلموں میں کام کرنے یا میوزیکل شوز میں حصہ لینے کے لئے وہاں گئے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے ان فلمسازوں کو بھی دھمکی دی ہے کہ جن کی دعوت پر ہمارے فلمی فنکار وہاں گئے ہیں کہ اگرانہوں نے ان پاکستانی فنکاروں کو اپنے ہاں فلموں میں کام کرنے دیا تو ان کی بھی خیر نہیں گزشتہ دو تین برسوں میں اس سے پہلے بھی بھارتی انتہا پسندوں نے ہمارے کئی گلوکاروں کو بھارت میں اپنے فن کا مظاہر ہ کرنے نہیں دیا صرف اقوام متحدہ میں تقریر کرنے سے بات نہیں بنے گی ہمارے فارن آفس کو چاہئے کہ وہ یورپ امریکہ اور افریقہ اور وسطی ایشیا کے تمام ممالک میں کشمیر میں بھارتی افواج کی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے وہاں کے میڈیا میں ایک بھرپور مہم چلائے اور پاکستان کے خلاف بھارتی پراپیگنڈے کا ترکی بہ ترکی جواب دے پاکستان کو چاہئے کہ وہ فوراً سے پیشتر انہی خطوط پر کام کرکے کہ جو بھٹو مرحوم نے وضع کئے تھے اور جن کے تحت وہ1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔

آج اس قسم کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی ضرورت ہے بھٹو جیسا متحرک وزیر خارجہ یا وزیراعظم ہم کہاں سے لائیں کہ جو بذات خودد نیا کے تقریباً ہر ملک کے دارالحکومت گیا اور تمام اسلامی ممالک کے سربراہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی اہمیت کا احساس دلایا چونکہ سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان کا بھٹو اسلامی ممالک کو یکجا کرنے کی کوشش میں پیش پیش تھے ان دونوں کو شاید اس جرم کی سزا میں اغیار نے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا بہرحال یہ جو50 اسلامی ممالک سے زیادہ تعداد والی او آئی سی ہے یہ آخر کس مرض کی دوا ہے پاکستان اس ادارے کا بھی ایک ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کر ا سکتا ہے بھارت کی مسلمان دشمن اور کشمیر میں برریت پرپاکستان زیادہ عرصے تک آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا پاکستان کے اندر جو سیاسی پارٹیاں پاکستان کے بجائے بھارت کی وکالت کرتی ہیں عوام کو اب ان کے بارے میں بھی ایک حتمی فیصلہ کرناہو گا۔