بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مودی کی بھڑک

مودی کی بھڑک

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ وہ پاکستان جانے والے پانی کی بوند بوند روک دینگے نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ستلج‘ راوی اور بیاس کے پانیوں پر ہمارا حق ہے نریندر مودی کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان جانیوالے پانی کو بھارت میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کیلئے ٹاسک فورس بنا دی ہے بھارت سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے میں ناکامی کے بعد ایل او سی پر جارحیت کاموثر جواب پا رہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہمارا ایک جوان شہید ہوتا ہے تو بھارت کو چار لاشیں اٹھاناپڑتی ہیں بھارت کو آبدوز کی در اندازی کی کوشش میں ناکامی کے بعد ڈرون کے گرائے جانے پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس ساری خفت میں بھارتی وزیر اعظم آبی جارحیت کے طور پر پانی بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں بھارت ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم سے توجہ ہٹانے میں کوشاں ہے تو دوسری طرف اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے شدید تکلیف ہے اس تکلیف میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

کیونکہ سی پیک کی اہمیت دیکھتے ہوئے کئی ممالک اس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں اوربھارت سے یہ بات کسی صورت ہضم نہیں ہو رہی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے موجودہ صورتحال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے عالمی ادارے کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد پر بھارتی رویئے کا نوٹس بھی لینا ہوگا اس کیساتھ عالمی برادری خصوصاً وہ ممالک جو انسانی حقوق کے حوالے سے زیادہ سرگرم رہتے ہیں انہیں بھی اس سارے منظر نامے میں دیکھنا ہوگا کہ آزادی کا مطالبہ کرنیوالے کشمیری شہریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم ہیومن رائٹس کی کس درجہ میں خلاف ورزی ہیں۔برسر زمین حالات اور پے در پے اختیار کردہ ہتھکنڈوں میں ناکامی پر بھارت خود جان چکا ہے کہ اسے کس طرح منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اب یہ بات خود بھارت کے مفاد میں ہے کہ وہ منفی ہتھکنڈے چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئے ۔

خیبرپختونخوا کے تحفظات

خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی کے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے صوبے کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگامی طور پر طلب کئے گئے اجلاس کیلئے خیبرپختونخوا کو ورکنگ پیپرز تک نہیں بھجوائے گئے جبکہ سیکرٹری فنانس کے رابطے کے باوجود اجلاس کا ایجنڈا بتانے سے بھی گریز کیا گیا۔ این ایف سی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے۔

جس پر وفاق اور صوبوں کا اکٹھے ہونا ضروری ہے اس کمیشن کے اجلاس کیلئے صوبے کو ورکنگ پیپرز بروقت نہ بھجوانا کسی طور درست نہیں خیبرپختونخوا اپنے جغرافیے اور حالات کی بنیاد پر خصوصی توجہ کا مستحق بھی ہے صوبے کی حکومت سی پیک اور بعض دوسرے معاملات پر بھی تحفظات رکھتی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ این ایف سی اور دوسرے اہم پلیٹ فارمز پر بات چیت کے ذریعے سارے معاملات طے کئے جائیں ضروری یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا کو ایجنڈا اور ورکنگ پیپرز بروقت نہ بھجوائے جانے کے ذمہ دار اداروں سے پوچھ گچھ کی جائے اور اس ضمن میں صوبے کی شکایات کا ازالہ کیا جائے سیاسی قیادت ہمیشہ الجھے معاملات بات چیت کی میز پر ہی سلجھاتی رہی ہے اور یہ روایت برقرار رہنی چاہئے۔