بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / کمان کی تبدیلی

کمان کی تبدیلی


جنرل زبیر محمود حیات نے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والی تقریب میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اس تقریب میں جنرل راشد محمود نے نئے چیئرمین کو کمان سونپی تقریب میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے مارچ پاسٹ بھی کیا جنرل قمرجاوید باجوہ آج آرمی چیف کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھال رہے ہیں جنرل راحیل شریف ایک خصوصی تقریب میں انہیں فوج کی کمان حوالے کرینگے اور روایتی چھڑی بھی پیش کرینگے جنرل راحیل شریف نے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف سے الوداعی ملاقاتیں کرنے کے ساتھ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا ہے صدر مملکت ممنون حسین نے جنرل راحیل شریف کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کی خدمات گراں قدر ہیں وطن عزیز کی عسکری قیادت میں تبدیلی کے حوالے سے نومبر کے آخری عشرے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل جنرل باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہیں سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ جنرل قمر جاوید باجوہ کو انتہائی پیشہ ور قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے آپریشنز میں جنرل باجوہ کی کارکردگی نمایاں تھی جنرل بکرم اپنی حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت ہو‘ مودی کی آبی جارحیت سے متعلق دھمکیاں یا برسرزمین صورتحال کے تناظر میں دیگر ذمہ داریاں نئی عسکری قیادت اپنی صلاحیت ‘اب تک کی شاندار خدمات‘ عزم وحوصلے اور قوم کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ اپنی روایات قائم رکھے گی اس سب کے ساتھ ضرورت ملک میں معیشت کے استحکام کے لئے اقدامات کی ہے جس کیلئے سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ تعمیر وترقی کے حوالے سے اقدامات ممکن ہوسکیں ‘معاشی استحکام کے ساتھ عوامی ریلیف بھی جڑی ہوئی ہے جس کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت مجموعی طور پر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے اور سیاسی ماحول کو خوشگوار بنایا جائے تاکہ جمہوری ادارے بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔
نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات

خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں وطن عزیز میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق 2015ء میں28 دن تک کے 2لاکھ 44 ہزار746بچے ہلاک ہوئے خیبر پختونحوا کی سطح پر صوبے کی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کوترجیح قرار دے رہی ہے صوبے میں اس حوالے سے دیگر اقدامات کے ساتھ صحت انصاف کارڈز کا اجراء ایک اہم سکیم ہے جس سے ایک کروڑ 40لاکھ افراد کو مفت علاج کی سہولت ملے گی کیا ہی بہتر ہوکہ صوبے میں بچوں کے علاج کیلئے مراکز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ پہلے سے موجود یونٹس کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں بچوں کے یونٹس میں مریضوں کی زیادہ تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے گنجائش بڑھائی جائے اس مقصد کے لئے ذمہ دار حکام کو خود چلڈرن یونٹس کا دورہ کرکے حالات دیکھنا ہونگے‘جہاں وبائی امراض کے دنوں میں خصوصاً صورتحال بہت تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔