بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / جنرل قمرجاوید باجوہ کی نئی ذمہ داریاں

جنرل قمرجاوید باجوہ کی نئی ذمہ داریاں

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے 16 ویں چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھال لیاہے کمانڈ تبدیلی کی تقریب آرمی ہاکی سٹیڈیم میں منعقد ہوئی اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کمانڈسٹک جنرل قمر جاوید باجوہ کے سپرد کی پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیررسمی بات چیت میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی ان کا کہنا ہے کہ مادر وطن کے دفاع اور امن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ میرے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے آپ لوگ میرے لئے دعا کریں میں اپنی ذمہ داری دیانت داری سے سرانجام دوں گا ۔ انہوں نے معاشرے میں میڈیا کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں مایوسی کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں پاک آرمی دنیا کی بہترین فوج ہے اس سے قبل کمان تبدیلی کی تقریب سے اپنے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے برسرزمین حالات کے تناظر میں پاک فوج کے کردار کا احاطہ کرنے کے ساتھ بھارت کو خبر دار کیا وہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے ایسا سمجھنا خود اس کیلئے خطرناک ہو گا ۔

ان کا کہنا ہے کہ بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمیں اندرونی خطرات سے نجات پانا ہو گی ان کا کہنا ہے کہ مقبوضو کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے خطے کا امن خطرے میں ہے وہ علاقائی امن کیلئے افغانستان کے مسئلے کو بھی سیاسی مفاہمت سے حل کرنے کی تجویز دیتے ہیں راحیل شریف کا کہنا ہے کہ سی پیک کے دشمن سازشیں بند کرکے اس کے ثمرات میں شریک ہوں۔وطن عزیز میں امن کے قیام اور مصیبت کی ہر گھڑی میں پاک فوج کا کردار مثالی رہا ہے اس ادارے کا نظم و ضبط اور جذبہ پوری قوم کیلئے فخر کا باعث رہا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت میں جس عزم کا اظہار کیا وہ قابل اطمینان ہے۔ مادر وطن کے دفاع‘ سلامتی اور ترقی کیلئے ہر کاوش میں پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔

این ایف سی اجلاس کے فیصلے

وفاقی حکوت نے نیشنل سکیورٹی فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے این ایف سی کے اجلاس میں مجموعی محاصل کا تین فیصد فنڈ میں دینے کی تجویز دی گئی ہے اجلاس میں صوبوں کی ورکنگ رپورٹس پیش کی گئیں جن پر سیر حاصل بحث کے بعد اتفاق ہوا کہ ان رپورٹس کو 10 دسمبر تک اَپ ڈیٹ کیا جائے جبکہ بات چیت کا اگلا دور دسمبر کے تیسرے ہفتے میں ہوگا۔ این ایف سی کے پلیٹ فارم پر اہم معاملات کا طے پانا ہمیشہ قابل اطمینان رہا ہے تاہم اس اہم باڈی کی کاروائی میں کسی صوبے کے تحفظات سامنے آنا فوری توجہ کا متقاضی بھی ہوتا ہے۔

خیبرپختونخوا امن و امان کی صورتحال سے دوچار بھی رہا اور یہاں کی معیشت کو نقصان بھی پہنچا اس سب کا تقاضا تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کو نیشنل سکیورٹی فنڈ سمیت وسائل کی تقسیم کے ہر مرحلے میں اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے آئندہ کے اجلاسوں سے قبل ورکنگ پیپرز اور ایجنڈے کے حوالے سے بروقت رابطے یقینی بنائے جائیں اس سب کیساتھ خیبرپختونخوا کے بجلی منافع کی بروقت ادائیگی اور واجبات کی کلیئرنس ضروری ہے۔ بجلی اور گیس کی پیداوار میں بڑا شیئر ڈالنے والے اس صوبے کی اکانومی کو مستحکم بنانے کیلئے صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانا بھی ضروری ہے جس کیلئے سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔