بریکنگ نیوز
Home / کالم / تین ناسور

تین ناسور

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنی الوداعی تقریر میں صاف صاف کہا کہ ملک کو تین اہم مسائل کا سامنا ہے جرائم ‘ انتہا پسندی اور کرپشن ‘ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو ان کی شدت کا احساس ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا تقاضا ہے راحیل شریف نے ملکی مسائل کا بالکل صحیح پوسٹ مارٹم کیا ہے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس ملک میں کونسا ادارہ خود مختار ہے اور اس کے کرتا دھرتا بغیر کسی سیاسی مداخلت کے کام کر سکتے ہیں؟ کیا ایف آئی اے ‘ نیب ‘ ایف بی آر ‘ کسٹمز وغیرہ اپنے طرز عمل میں سو فیصد آزاد ہیں؟ کیا سیاسی حکمرانوں نے ان کے ہاتھ نہیں باندھ رکھے ؟ملک بھر میں کیا پولیس کرپٹ لوگوں‘ انتہا پسند عناصریافرقہ واریت پھیلانے والوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے ہاتھ ڈال سکتی ہے؟ اس ملک کا مسئلہ ہی گورننس کا ہے؟ گڈ گورننس کا راگ تو ہماری کئی حکومتیں الاپتی آئی ہیں پر گڈ گورننس کیلئے تو بنیادی شرط یہ ہے کہ آپ ریاستی اداروں کو قانون کی کتاب کے مطابق کھلم کھلا چھٹی دے دیں آپ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو یہ ٹاسک دے دیں کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر اپنے علاقوں میں نہ فرقہ واریت پھیلانے والوں کا لحاظ کرے بھلے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے پروردہ ہوں؟ کسی بھی کرپٹ انسان پر ہاتھ ڈالنے سے نہ ہچکچائے بھلے اس کا تعلق حکمران پارٹی سے کیوں نہ ہو کسی بھی انتہا پسند کو پنپنے نہ دے ان پر یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ اگر انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا تو پھر انکی بھی خیر نہ ہوگی اس طرح کی ہدایات نیب اور ایف آئی اے کو بھی دی جاسکتی ہیں۔

ایف بی آر کے کرتا دھرتوں کو بھی اشرافیہ پر بھاری ٹیکس لگا کر اسے وصول کرنے کی ہدایات جاری کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ انہیں یقین دہانی کرا دی جائے کہ ان کے کاموں میں حکومت مداخلت نہیں کریگی آپ یقین کریں اگر چیدہ چیدہ سرکاری اداروں کے چلانے والوں کی تقرری میرٹ پر ہو جائے اور ان کے کاموں میں ٹانگ نہ اڑائی جائے تو وہ تینوں مسائل حل ہو سکتے ہیں کہ جن کی طرف راحیل شریف نے اپنی الوداعی تقریر میں اشارہ کیا ہے کسی زمانے میں پبلک سروس کمیشن کا ایک مقام تھا‘ ایک نام تھا اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے جو سرکاری تعیناتیاں ہوا کرتی تھیں وہ ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک صاف ہوتیں اور خالصتاً میرٹ پر ہوتیں آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کے ہر صوبے خصوصاً بلوچستان اور سندھ میں اس اہم ریاستی ادارے پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں آج گلی بازاروں کوچوں میں لوگ اس قسم کی باتیں برملا کر رہے ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا ممبر بننے کیلئے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں اور اس ادارے میں پھر مختلف سرکاری محکموں میں بھرتی کیلئے جو سٹاف چنا جاتا ہے سے بھی پیسے وصول کر کے چنا جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آرمی ‘ فضائیہ اور بحریہ میں کام کرنیوالوں کا معیار سویلین محکموں کے اہلکاروں سے کیوں اتنا اچھا ہے؟

محض اس لئے کہ وہاں ان اداروں میں بھرتی کے وقت نہ پیسہ چلتا ہے اور نہ کسی کی سفارش۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری افواج کو اسلامی دنیا کی بہترین افواج اور دنیا کی تیسری بہترین فوج قرار دیا جاتا ہے راحیل شریف نے جن تین معاشرتی بیماریوں کا ذکر کیا ہے انکا علاج اس وقت تک نہیں ہو سکتاجب تک سیاستدان سرکاری اہلکاروں کی بھرتی اور ٹرانسفر میں مداخلت کرنا نہیں چھوڑیں گے سول سروسز اکیڈمی میں قائد اعظم کا وہ فرمان پڑھایا تو ضرور جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین صرف ریاست کے اور ریاستی قوانین کے غلام ہوتے ہیں انہیں حکومت وقت کا کوئی بھی غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہئے پر یہ صرف نصاب کی حد تک ہے اس پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔