بریکنگ نیوز
Home / کالم / حقائق بمقابلہ دعوے!

حقائق بمقابلہ دعوے!


وزیراعظم نے اعلان کر رکھا ہے کہ ’’موجودہ حکومت نے گزشتہ بیس برس کے مقابلے میں زیادہ پیداواری منصوبوں پر کام شروع کیا ہے‘ شہری اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے‘ صنعتی شعبہ کے لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی‘ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں۔ موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک بجلی کی پیداوار کیلئے مہنگے ایندھن پر انحصار کافی حد تک کم ہو جائیگا اور لوڈشیڈنگ تاریخ کا قصہ بن جائے گی۔‘‘ کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہو یا جلسہ عام ایک جیسے بیانات سننے والی قوم کیلئے برسرزمین حقائق اور رہنماؤں کے بیانات پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔

بنیادی آئینی حقوق کی شقوں کے مطابق ہر پاکستانی کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ریاست کی ہے اور ریاست کے ایماء پر یہ ذمہ داری بہرصورت حکومت نے ادا کرنا ہوتی ہے آئین کے ماتحت مروجہ پارلیمانی جمہوری نظام کا مقصد بھی بلاامتیاز تمام شہریوں کے مسائل حل کرکے سلطانی جمہور کے ثمرات جمہور تک پہنچانے کا ہوتا ہے اور اگر کوئی حکمران یہ آئینی تقاضا پورا نہ کرے تو اس کی بے تدبیریوں کا ملبہ جمہوری نظام پر پڑتا ہے جس سے اس سسٹم کے ناکارہ ہونے کا تاثر ابھرتا ہے تو اس سے غیرجمہوری عناصر کو جمہوریت کا مردہ خراب کرنیکا موقع ملتا ہے اس تناظر میں اچھی حکمرانی ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہوتی ہے اگر کوئی حکومت آئینی تقاضوں اور عوامی امنگوں کے مطابق اپنی گورننس بہتر بنائے جس میں میرٹ کی حکمرانی ہو‘ انصاف کا بول بالا ہو‘ امن و امان کی صورتحال پر متعلقہ حکومتی مشینری کی گرفت مضبوط ہو‘ لوگوں کے روٹی روزگار کے مسائل بغیر کسی سفارش اور نذرانے کے میرٹ پر ازخود حل ہورہے ہوں‘ لوگوں کو انکی قابلیت اور استعداد کے مطابق روزگار کے وسائل بلاامتیاز دستیاب ہورہے ہوں اور بجلی گیس کے نرخوں میں آئے روز کے اضافے کا انہیں جھٹکا نہ لگایا جارہا ہو‘ اسی طرح عوام کے لئے توانائی کے بحران کی نوبت نہ آنے دی جائے تو اس حکومت کی اپنے کارناموں کے نقارے بجائے بغیر بھی ازخود عوام میں پذیرائی ہوتی رہے گی ۔ کسی حکومت کیلئے عوامی اضطراب کی فضاء اُس وقت ہموار ہوتی ہے جب اسکے انتخابی وعدوں اور نعروں کا عشرعشیر بھی اس کے دور حکومت میں پورا ہوتا نظر نہیں آتا اس تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کا یہ باور کرانا کہ توانائی کا بحران حل کرنے سے متعلق جو کام سابق حکومت کے کرنے کے تھے وہ ہمیں کرنا پڑ رہے ہیں۔

تو انہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ سال دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کی مہم کے دوران جو وعدے اور دعوے بالخصوص توانائی کے بحران کے خاتمہ کے سلسلہ میں انہوں نے اور نواز لیگ کے دیگر عہدیداران نے عوام سے کئے تھے‘ اُن سے متاثر ہو کر ہی عوام نے کے اقتدار کے لئے اُنہیں مینڈیٹ دیا تھا‘ اس لئے اگر آج حکمران نواز لیگ عام آڈمی کے لئے روٹی‘ روزگار‘ غربت‘ مہنگائی اور بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ سے متعلق مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے تو آئندہ عام انتخابات میں عوام کے ہاتھوں اس کا انجام بھی پیپلزپارٹی سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا‘ لہٰذا عبرت لینی چاہئے۔

یقینی بات ہے کہ وزیراعظم دوہزار اٹھارہ تک توانائی کے بحران کے مکمل خاتمہ کی عوام کو یہ کہہ کر نوید سنا رہے ہیں کہ مذکورہ عرصے کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ تاریخ کا قصہ بن جائے گی تو اس سنگین مسئلہ کے حل کو وہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر وزیراعظم کے اعلان کے مطابق ملکی وسائل سے ہی ہم پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں تو ہمیں توانائی کی مد میں کسی اور سے مدد لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور ہم نہ صرف توانائی میں خودکفیل ہو جائیں بلکہ بجلی برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آجائیں مگر وزیراعظم کے ان وعدوں کے پیش نظر اُن کی حکومت کی موجودہ ساڑھے تین سال کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس معاملہ میں سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیں آتا جبکہ اب وہ توانائی کے مسئلے کو ہی آئندہ عام انتخابات کے لئے اپنی مہم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اگر فی الواقع حکومت اپنی کوششوں اور بہتر منصوبہ بندی سے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے قابل ہو گئی ہے تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے سال دوہزار اٹھارہ کا انتظار کیوں کیا جارہا ہے؟۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عمر فاروق۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)