بریکنگ نیوز
Home / کالم / محدود روایتی جنگ کا خطرہ

محدود روایتی جنگ کا خطرہ

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے پار پاکستانی آبادی کے معصوم اور نہتے عوام کے خون سے ہولی کھیلنے کیلئے بھارت نے بلااشتعال فائرنگ کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسکی وسعت اور شدت میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اپنی جارحانہ کاروائیوں کے ردعمل میں پاکستان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرنا چاہتاہے‘ جسے جو از بنا کربھارت ایل او سی کے پار اپنے من پسند مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے سرجیکل سٹرائیک کی راہ اختیار کرنے کا بہانہ ڈھونڈنا چاہتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کی ایسی حرکت دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم کی وسعت میں پھیلاؤ اور شدت میں اضافہ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے جس سے نہ صرف اس خطے بلکہ دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی حقیقت کے پیش نظر محدود روایتی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے دفاعی تجزیہ کار بھارتی اشتعال انگیزیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے برصغیر میں محدود پیمانے پر جنگ کے شعلے بھڑکنے کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج نے اس سال جولائی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد اٹھنے والی مزاحمتی تحریک کو دبانے کیلئے قتل وغارت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس میں سینکڑوں کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں‘ جن میں چھرے دار بندوقوں کی فائرنگ سے بصارت کھو بیٹھنے والی عورتوں اور بچوں سمیت ڈیڑھ ہزار افراد بھی شامل ہیں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وحشیانہ ظلم و بربریت کے باوجود اب بھارت کیلئے کشمیر میں آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کوکچلنا ممکن نہیں بھارت کو اب یہ ادراک ہوچلا ہے کہ کشمیر اسکے ہاتھ سے نکل چکا ہے اس لئے وہ مایوسی اور شکست خوردگی کے عالم میں قتل و غارت کا دائرہ وسیع کر رہا ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیر کو لہولہان دیکھنے کے باوجود عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی‘ انسانی حقوق کی تنظیمیں‘ عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں خون خرابے سے مجرمانہ چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں خود پاکستان کو بھی اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے یہ معاملہ جس شدت سے بین الاقوامی فورموں پر اٹھانا چاہئے تھا وہ شدت نظر نہیں آرہی‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان او آئی سی ‘انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشن اور اقوام متحدہ میں زوردار انداز سے آواز بلند کرے‘ چین کے تعاون سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے‘ عالمی برادری کی بے حسی سے شہہ پاتے ہوئے بھارت ایل او سی کی خلاف ورزیوں میں اس حد تک آگے بڑھ گیا ہے کہ اسکی فوج نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول آبادی حتیٰ کہ مسافر بسوں اور ایمبولینس گاڑیوں تک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک چالیس افراد شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان نے بے گناہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے ممکنہ ہولناک نتائج سے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے‘ ادھراعلیٰ سطحی فوجی حکام کے اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیاگیا اس موقع پر بتایا گیا کہ معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا غیر پیشہ ورانہ اور ناقابل قبول حرکت ہے‘ اجلاس میں اس امر کو سراہاگیا کہ بھارت کی جارحانہ کاروائیوں کا فوری موثر جواب دیا جارہا ہے ‘ پچھلے دنوں بھارتی فوج فائرنگ سے ایک ہی دن سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعدپاکستان کے فوجی حکام نے بتایا تھا کہ اس دن جوابی کاروائی میں 11 بھارتی فوجی مارے گئے لیکن بھارتی فوج اپنے جانی نقصان کا اعلان نہیں کرتی ، بھارتی فوج بھی مرد بن کر اپنے نقصانات کا اعتراف کرے۔ اس کے بعد دیکھا گیاکہ بھارتی فوج نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور پہلی مرتبہ اپنے جانی نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ سے تین بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ نے وزیراعظم نوازشریف کے زیر صدارت اپنے اجلاس میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے شہید ہونیوالے شہریوں اور فوجیوں کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کی بھرپور حمایت کا عزم دہرایا۔