بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ کیس کی سماعت

پانامہ کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس میں وزیر اعظم نوازشریف کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد کی نشاندہی کی ہے عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ اگر 2006ء سے پہلے آف شور کمپنیوں کی ملکیت ثابت ہوگئی تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ سعودی بینکوں سے قرضہ کیسے لیا گیا ٗ جدہ فیکٹری کتنے میں اور کیسے فروخت ہوئی جبکہ قطری شہزادے کا خط تصدیق شدہ نہیں عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے کیس میں تراشے لانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا عدالت کا کہنا تھا کہ اگر شائع ہونے والی خبروں پر فیصلہ سنایا تو آپ کے مؤکل کیلئے بھی پریشانی ہو سکتی ہے سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو آئندہ پیشی پر اپنے دلائل35منٹ میں ختم کرنے کی ہدایت بھی کی کیس کی اگلی سماعت اب 6دسمبرکو ہوگی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شریف خاندان نے عدالت میں ایک اور ٹرسٹ ڈیڈ بھی جمع کرائی ہے پانامہ پیپرز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے ساتھ پوری دنیا میں انکوائریاں شروع ہوئیں نئے قوانین بنے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کاروائی بھی ہوئی اس میں اہم شخصیات نے از خود استعفے بھی دئیے وطن عزیز میں انکوائری کا معاملہ سیاسی قیادت کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں قائم باڈی کے ٹی او آرز پر اتفاق نہ ہونے کے باعث تاخیر کا شکا ررہا۔

اب کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اورعدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ضروری ہے جو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہی ہوگا اس سب کے ساتھ اس وقت ضرورت وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اقدامات کی ہے جس میں سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں ملک کی معیشت تمام تر حوصلہ افزا اقتصادی اعشاریوں کے باوجود کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہے عام شہری کی مشکلات روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہیں گرانی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے این ایف سی سمیت بہت سارے معاملات حل طلب ہیں آبی ذخائر میں اضافہ ناگزیر ہے توانائی بحران کا فوری حل ضروری ہے اس سب اور دیگر اہم معاملات پر سیاسی قیادت کو یکجا ہو کرسب کے لئے قابل قبول فیصلے کرنا ہونگے‘ پانامہ کیس عدالت عظمیٰ میں ہے اس پر فیصلہ آنے تک غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرنا درست نہیں ہوگا قومی قیادت کو زیادہ توجہ عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہئے۔

ٹریفک کیلئے متبادل روٹس

صوبائی دارالحکومت کی مرکزی شارع جی ٹی روڈ پر احتجاج یا کسی اور وجہ سے ٹریفک کی بندش پر لوگوں کو متبادل روٹس استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے پہلے یہ صورتحال کبھی کبھار پیش آتی تھی اب یہ معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہے پشاور کے شہری ابھی تک شہر کے ٹریفک پلان سے باخبر نہیں برسرزمین صورتحال یہ ہے کہ شہر کی کوئی سڑک جی ٹی روڈ کے متبادل نہیں جن چھوٹی رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کو موڑا جاتا ہے وہاں پہلے ہی اپنی روٹین کی ٹریفک کا اژدھام موجود ہوتا ہے۔

متبادل راستہ بننے کی صورت میں اکثر ان رابطہ سڑکوں کیلئے ضرورت کے مطابق اہلکار تعینات نہیں ہوتے اس ساری صورتحال میں پورے شہر میں ٹریفک جام ہو کر رہ جاتی ہے اول ضرورت تو اس بات کی ہے کہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک جام ہونے ہی نہ دی جائے تاہم اگر کسی وجہ سے ایسا ہو ہی جاتا ہے تو ٹریفک بند ہونے کی صورت میں متبادل سڑکوں پر خصوصی انتظامات کئے جائیں اور ٹریفک اہلکاروں کی ہر سڑک پر موجودگی یقینی بنائی جائے۔