بریکنگ نیوز
Home / کالم / نامناسب فیصلہ

نامناسب فیصلہ


ہمارے اکثر سینئر بیوروکریٹس ریٹائرمنٹ کے بعد کئی ماہ تک اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کرتے آفرین ہو جنرل راحیل شریف پر کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک منٹ بھی آرمی چیف ہاؤس میں نہ ٹھہرے اور اپنے ذاتی گھر چلے گئے ہمارے اکثر بیوروکریٹس کا ایک پلاٹ سے پیٹ اور دل نہیں بھرتا شاباش ہو جنرل راحیل شریف پر کہ جنہوں نے اپنے کئی پلاٹ شہداء فاؤنڈیشن کو وقف کر دیئے انسان کو کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے یہی نا 6 ضرب 6 فٹ کی کہ جو اس کی آخری آرام گاہ کیلئے کافی ہوتی ہے پھر وہ کوٹھیوں کی طلب کیوں کرے؟ اپنی سروس کے آخری منٹ تک وہ اپنے فرائض منصبی میں متحرک رہے یقین مانئے راحیل شریف جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے ہمارے سیاست دانوں کو خصوصی طور پر انکے کردار سے سبق لینا چاہئے اس جملہ معترضہ کے بعد اب آتے ہیں ملک کہ جسے اسلامی مملکت خداداد پاکستان کہتے ہیں کہ جس کے ایک صوبے یعنی سندھ کی حکومت نے گزشتہ منگل کو ایک اخباری رپورٹ کے مطابق شراب کی فروخت پر پابندی ختم کر دی ہے شنید ہے کہ سندھ حکومت پر اس کاروبار سے وابستہ طاقتور اور با اثر عناصر کا دباؤ تھا کہ یہ پابندی ہٹا لی جائے ہم اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتے کہ عدالت عظمیٰ نے اس بابت کیا فیصلہ دیا تھا یا سندھ حکومت نے اس کی تشریح کس طرح کی ہے بات بڑی سادہ سی ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا ہمارے مذہب میں شراب نوشی جائز ہے؟ اگر اسلام میں شراب پینا حرام ہے اور اس ملک کی اساس اسلام پر ہے تو پھر اس معاملے میں وکلاء کی تمام قانونی موشگافیاں عبث اور بے کار ہیں اب تو یہ بات میڈیکل سائنس بھی مان چکی ہے کہ امراض قلب کی ایک بڑی وجہ اگر سگریٹ نوشی ہے تو دوسری بڑی وجہ شراب نوشی بھی ہے اس کے علاوہ شراب سے جگر کا بھی ستیاناس ہوتا ہے۔

ہماری منافقت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف تو ہم سگریٹ دھڑا دھڑ خوبصورت اور جاذب نظر ڈبیوں میں فروخت کرتے ہیں اسکے ساتھ ہی ان ڈبیوں پر ایک کونے میں یہ جملہ بھی لکھ دیتے ہیں کہ Smoking Kills منافقت ہی سہی پر شراب کی بوتلوں پر ہم اس قسم کا جملہ لکھنے کا تکلف بھی نہیں کرتے آج ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق امراض دل ایک وباء کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اب کینسر سے زیادہ لوگ امراض قلب سے ہلاک ہو رہے ہیں ہمارے کئی نجی ٹیلی ویژن چینلزکو خدا نے یہ توفیق دی کہ وہ گاہے گاہے ہی سہی پر ایک پبلک مسیج کے طور پر ہی اگر ایک اشتہار چلا دیا کریں کہ جس میں لوگوں کو شراب نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں ۔ پی پی پی کے رہنماؤں کو دوسری سیاسی پارٹیوں کے عیب تو بہت نظر آتے ہیں پر ان کو سندھ میں اپنی ہی حکومت کا یہ عیب نظر کیوں نہیں آیا جس کے تحت صوبے میں شراب فروخت کرنے کی کھلم کھلا اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ شراب کی فروخت پر فوراً پابندی عائد کردیں یہ بات تو مراد علی شاہ ان کے نوٹس میں ضرور ہوگی کہ مغرب میں سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کی ذہنی بیماری کافی عام ہے پر وہاں اب اہل مغرب کافی حد تک ان دونوں علتوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں سگریٹ نوشی پر تو اب اس قدر پابندی ہے کہ آپ نہ پارکوں میں سگریٹ پی سکتے ہیں نہ سرکاری دفاتر میں نہ بسوں اور ریل میں غرض یہ کہ پبلک کی جگہ میں اسے نہیں پیا جاسکتا اسی طرح شراب پی کر آپ کو نہ ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہوائی جہاز اڑانے کی اگر ممنوعہ جگہوں پر کوئی بھی سگریٹ اور شراب پیئے تو اسے بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔