بریکنگ نیوز
Home / کالم / کانٹوں کا بستر

کانٹوں کا بستر


اس میں کوئی شک نہیں کہ انجینئر ہمایون خان کا پیپلز پارٹی کیساتھ تعلق نظریاتی و دیرینہ نوعیت کا ہے یہ بھی درست ہے کہ وہ ایک فعال و توانا شخص ہیں اور اپنی نرم و لطیف طبیعت کی بدولت نہ صرف ہر قسم کی تنقید خندہ پیشانی سے برداشت کر سکتے ہیں بلکہ معترضین کیساتھ بات چیت کے ذریعے اختلاف کو مفاہمت سے ہمکنار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن ان حقائق کے ساتھ یہ امر بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پچھلے دور حکومت میں صوبائی وزیر خزانہ کے عہدے پر رہتے ہوئے وہ پارٹی کارکنوں کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے اور انکے حوالے سے بھی پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو شکایات تھیں اسکے ساتھ انکا بہت سے نظریاتی ، فعال اور مستعدپارٹی رہنماؤں سے’جونیئر‘ ہونا اور صوبائی صدرات کیلئے انکی نامزدگی کرتے وقت بعض اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا جانا بھی ان کے خلاف جا رہا ہے یہاں اگر پیپلز پارٹی کی صوبائی صدارت کیلئے نامزدگی کے معاملے کے پس منظر پر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملہ عام 2008 کے انتخابات کے بعد سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کیلئے مسلسل درد سر بنا ہو ا ہے۔رحیم داد خان کو اس بنیاد پر کہ وہ مذکورہ عام انتخابات کے بعد صوبائی وزارت کا منصب سنبھالنے کی وجہ سے پارٹی پر پو ری توجہ مرکوز کرنیکی پو زیشن میں نہیں رہے تھے صوبائی صدارت سے ہٹایاگیا جو درست تھا۔

لیکن اس کے برعکس سید ظاہر شاہ کو صوبائی صدارت اور وزارت دونوں ساتھ ساتھ چلانے کی اجازت دی گئی یہی پی پی پی خیبرپختونخوا کے جیالوں اور ہمدردوں کی پارٹی سے بددلی و مایوسی کا نکتہ آغاز تھا۔پی پی پی دور حکومت میں ایوان صدر و وزیر اعظم کے معاملات، حکومتی دلچسپیوں اور درپیش چیلنجز نے پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو کچھ اس طرح اپنے شکنجے میں جکڑا کہ اسے تین ، چار سال تک خیبر پختونخوا کے پارٹی کارکنوں کے احساسات و جذبات کی خبر گیری کا ہوش تک نہ رہا اور جب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے تقریباََ ایک سال قبل پی پی خیبر پختونخوا کے تن ناتواں میں جان ڈالنے کی کوشش کی گئی تو بہت دیر ہو چکی تھی سید ظاہر شاہ کے متبادل کے طور پر آصف علی زرداری کے اس وقت کے معتمد خا ص سردار علی کو میدان میں اتارا گیا لیکن ایک سال کے عرصے ہی میں پی پی پی کے ’بڑوں‘ کو احساس ہو گیا کہ انکی نظر عنایت دھوکہ کھا گئی ہے اور پی پی پی خیبر پختونخوا کی بگڑی بنانے کاٹاسک پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی کے اعزاز سے عاری ایک سیاسی شخصیت کو سونپ دیا گیا۔جس وقت انور سیف اللہ نے اے این پی کے خلاف گرجتے برستے ہوئے اپنی اننگز کا آغاز کیا تو اس وقت تک پی پی پی کے جیالوں ‘عام ورکرزاور ووٹرز کی اکثریت نئی تسلیوں اور وعدوں کے شیشے میں اترنے کے بجائے پچھلے پانچ سال کا حساب چکانے کا فیصلہ کر چکی تھی یہ حساب 11مئی 2013ء کے عام انتخابات میں چکتا کر دیا گیا انتخابی نتائج پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کیلئے واضح پیغام تھے کہ یا تو صوبائی صدور کو اوپر سے مسلط کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے یا پھر نامزدگیوں کے حوالے سے فیصلہ سازی میں نیچے کی سطح تک کے پارٹی رہنماؤں کو شریک کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایک مرتبہ پھر’ اوپر‘ سے پی پی پی کے صوبائی صدر کی نامزدگی کر تے ہوئے یہ اعزاز خانزادہ خان کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔

بالآخرپی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹوکو خیبر پختونخوا میں صوبائی کابینہ تحلیل کرنا پڑی اور پارٹی کی تنظیم نوکا کام پانچ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا انجینئر ہمایون خان بھی اس کمیٹی کے رکن تھے اور جب یہ کمیٹی اپنا کام کر رہی تھی تو پی پی پی خیبر پختونخوا کے ناراض گروپ کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا تھا کہ کمیٹی کے بعض اراکین صوبائی عہدیداروں کے چناؤ کے معاملے پر پارٹی میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور میرٹ پر فیصلوں کی راہ ہموار کرنے کی بجائے صوبائی عہدوں پر اپنی نامزد گیاں ممکن بنانے کیلئے لابنگ میں مصروف ہیں انجینئر ہمایون کی نامزدگی اس اعتراض پر مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آرہی ہے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پارٹی کے ناراض گروپ نے نئے صوبائی صدر کی نامزدگی پر اپنے تحفظات براہ راست زرداری تک پہنچا دیئے ہیں اور ناراض گروپ کے رہنما ڈویژنل اور ضلعی صدور کی نامزدگیوں کے انتظار میں ہیں جس کے بعد وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے یہ ساری صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ صدارت انجینئر ہمایون کیلئے بھی کانٹوں کا بستر ثابت ہو گی اور ایک قائد کی حیثیت سے خود کو منوانا انکے لئے کڑا امتحان ہو گا۔