بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیپلزپارٹی کی نئی صف بندی

پیپلزپارٹی کی نئی صف بندی


یہ بات بلاشک وشبہ کہی جاسکتی ہے کہ پیپلزپارٹی اگر ایک جانب ملک کے طول وعرض میں اپنا وجود اوراثر ورسوخ رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں ایک ملک گیر جماعت ہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کی حد تک بھی پیپلزپارٹی صوبے کے کسی ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ اس کاووٹ بینک پورے صوبے میں پھیلا ہواہے ۔ پیپلزپارٹی ماضی میں دیر، ملاکنڈ، سوات، مردان، نوشہرہ ، چارسدہ، صوابی، پشاور، ڈیرہ، ہنگو، کوہاٹ اور بنوں سے نشستیں حاصل کرتی رہی ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی نہ صرف ا سکے ووٹ بینک میں واضح کمی آئی ہے بلکہ ا سکے بعض سرکردہ رہنماؤں اوردیرینہ نظریاتی اورمخلص کارکنان کی پارٹی سے کنارہ کشی اوریاپھر دیگر جماعتوں میں شمولیت سے اسکے سیاسی قد کاٹھ اور وزن پر بھی کافی اثر پڑاہے۔ پیپلزپارٹی جو کبھی غریب ہاریوں، کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پچھلی دودہائیوں کے دوران بالعموم اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعدبالخصوص سرمایہ داروں اورجاگیرداروں کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے پنجاب اورخیبرپختونخوا جو ستر کی دہائی میں پیپلزپارٹی کی سیاست کے پاور ہاؤسز تھے جب ان دواہم صوبوں کی قیادت پیپلزپارٹی کے روایتی مخلص جیالے رہنماؤں کی بجائے مسلم لیگی پس منظر رکھنے والے قائدین کے حوالے کی گئی تو یہاں سے ان دونوں صوبوں میں پیپلزپارٹی کازوال شروع ہوا اورتب سے ان دونوں صوبوں میں پیپلزپارٹی نہ تودوبارہ اقتدار میں آسکی اورنہ ہی پارٹی صفوں میں پائی جانے والی سردمہری اورمایوسی کی فضاء کو ختم کیاجاسکا۔

خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو شروع میں سب سے زیادہ نقصان شیرپاؤ گروپ جسے ان دنوں قومی وطن پارٹی کہاجاتاہے نے پہنچایا جبکہ ماضی قریب میں ا سکے رہے سہے ووٹ بینک میں سب سے بڑا نقب پی ٹی آئی نے لگایا ۔پیپلزپارٹی کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ا س کی صفوں سے مخلص، دیرینہ اورکہنہ مشق نظریاتی کارکنان اوررہنماؤں کااخراج توہوتا رہاہے لیکن اس میں نئے خون کی شمولیت کی جانب کبھی بھی کسی نے کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جس سرعت اورجارحانہ انداز میں پارٹی کی گمشدہ میراث کی بازیابی کے لئے ہاتھ پیرمار رہے ہیں ان کی یہ کاوشیںیقیناًپارٹی کی تن مردہ میں نئی روح پھونکنے میں ممد ومعاون ثابت ہوسکتی ہیں لیکن اس کے لئے انہیں آصف علی زرداری کے فلسفہ سیاست کی بجائے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی فلسفہ اور طرز عمل اپنانا ہوگا۔ پارٹی کے پرانے آزمائے ہوئے رہنماؤں کی بجائے بلاول بھٹوزرداری نے نئی قیادت کو آگے لانے کاجوسلسلہ سندھ کے اسی سالہ بزرگ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی تبدیلی سے شروع کیاہے اس کے پارٹی کے حق میں اچھے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اسی سوچ اور حکمت عملی کے تحت طویل خاموشی اورجمود کے بعدانہوں نے خیبرپختونخوا کی قیادت میں تبدیلی کا آغاز کر کے نئی صف بندی کاجو اشارہ دیا ہے وہ یقیناًصوبے میں پارٹی کی ڈھیلی پڑتی گرفت پر قابو پانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

واضح رہے کہ پارٹی کے دیرینہ رہنما اورسابق صوبائی وزیر خزانہ انجینئر ہمایون خان کی بطورصوبائی صدر تعیناتی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پارٹی کاصوبائی صدر شمالی اضلاع سے لینے کے بعد صوبائی جنرل سیکرٹری کاعہدہ جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کو دیاگیاہے جبکہ سیکرٹری اطلاعات کاعہدہ سابق صوبائی صدر سید ظاہر علی شاہ کی ہمشیرہ سینیٹر روبینہ خالد کو دیاگیاہے۔ انجینئر ہمایون کا تقرر اس حوالے سے توخوش آئند ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاسی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں اورسیاست ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ اسی طرح وہ چونکہ ایک بردباراور سنجیدہ رہنما کی شہرت رکھتے ہیں اس لئے انکے چناؤ کو سیاسی حلقے بجاطورپر ایک اچھی اورمتوازن چوائس قرار دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ صوبے میں پیپلزپارٹی کی عظمت رفتہ کی بحالی میں کامیاب ہو سکیں گے یا پھر ان کا انجام بھی سابق صدور کی طرح ہوگا ۔ انجینئر ہمایون خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے نصف درجن سے زائد سابق صدور کو سمجھا جا رہا ہے لہٰذا ایسے میں نئے صوبائی صدر کو نہ صرف پارٹی کے ان تمام ہیوی ویٹس کااعتما دحاصل کرناہوگا بلکہ انہیں پارٹی میں نئی روح پھونکنے کیلئے ناراض اورگمنام مخلص کارکنان اوررہنماؤں کوبھی اعتماد میں لے کر ایک نئے عزم کیساتھ متحرک کرنا ہوگا یہی ان کی قیادت اورسیاسی بصیرت کا اصل امتحان ہوگا۔