بریکنگ نیوز
Home / کالم / اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

آج کل سیاست کا کچھ عجیب سا حال بنا ہوا ہے ایک جانب عمران خان ہیں کہ جو اپنی جگہ بنانے کی بجائے شریف برادران سے جگہ چھیننے میں لگے ہیں سیاست میں بہت کچھ ہوتارہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا اس لئے کہ جو انسان دوسرے کی کرپشن کے پیچھے پڑا ہے اوراس کے دائیں بائیں کھڑے ہونیوالے گلے گلے تک کرپشن میں ملوث ہیں تو بات تو ہو گی اس لئے پہلے اپنی چارپائی کے نیچے ڈنگوری پھیریں اور پھر دوسروں کے عیب ڈھونڈیں ایک اور بات کہ عوام منفی سیاست پر ایک حد تک تو واہ واہ کرتے ہیں مگر وہ دل سے یہ قبول نہیں کرتے یہ ہم نے ان تمام ضمنی انتخابات میں دیکھا کہ جو اس دوران ہوئے پی ٹی آئی نے ہر جگہ مار کھائی سوائے جہانگیر ترین والے انتخابات کے اور اس کے جیتنے کا بھی معلوم ہے کہ کس طرح پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا ادھر پی پی پی بلاول کو انڈکٹ کرنے میں مصروف ہے ہم حیران اس بات پر ہیں کہ اس پارٹی میں انتہائی جہاندیدہ لوگ شامل ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ بلاول سے ذوالفقار علی بھٹو کی نقالی کروائی جا رہی ہے مگر اس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ جو الفاظ دل سے نکل کر زبان تک آتے ہیں ان میں اور کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھے گئے الفاظ کوبھٹو کا رنگ دینے میں بہت بڑا فرق ہے ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت سنا کہ جب ہم طالب علم تھے اور یہ بھی معلوم ہے کہ طلباء کا جوش و خروش کیا ہوتا ہے اور وہ بات کو کتنا سمجھتے او ر اس پر عمل کرنے کیلئے پرجوش ہوتے ہیں۔

ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بھٹو کی عوامی تقاریرمیں کبھی بھی ربط نہیں ہواوہ ایک لمحے میں کراچی کی بات کر رہے ہوتے تو دوسرے فقرے میں انکے ہاں چترال بول رہا ہوتا مگر ایک جم غفیر نہ صرف انکی باتوں کو سنتا تھا بلکہ پرجوش طریقے سے ان کا ساتھ بھی دیتا تھا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ الفاظ بھٹو کے دل سے نکلتے تھے اگر وہ سیا ہ کو سفید کہتے تو اتنے وثوق سے کہتے کہ سننے والا ما ننے پر مجبور ہو جاتا انکے سامنے کاغذ نہیں ہوتا تھا کہ ان کو کسی بات پر زور دینا ہوتا تو سوچنا پڑتا کہ کہاں زور دیں اور کہاں نہ دیں بلاول میں وہ بات نہ ہے اور نہ پیدا ہو سکتی ہے۔اس لئے کہ بھٹو عوام میں جاتا تو اس کو یہ ڈر نہیں ہوتا تھا کہ اسے کوئی مار ڈالے گا جبکہ بلاول کیساتھ بالکل الٹ ہے تقریر میں اگر زرداری صاحب بھی بولتے ہیں تو وہ کوئی کاغذہاتھ میں نہیں رکھتے جو دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں چاہے اسکے خمیازے میں ملک ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے بلاول اگر کوئی بات کہے گا تو اس کے نقاد بھی ہیں جو اسکی باتوں کا تجزیہ کریں گے بلکہ تیاپانچہ کرینگے مگر اس پر پارٹی کے سارے ترجمان چیخ اٹھتے ہیں کہ ہمارے لیڈر کو کیوں یہ کہا گیاہمیں حیرت تو مولا بخش چانڈیو صاحب پرہوتی ہے کہ آپ تو بغیر فل سٹاپ کے مسلم لیگ کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں مگر جواب آتا ہے تو چیخ پڑتے ہیں اسی طرح پی ٹی آئی کے ترجمان بھی جتنا چاہیں لیگی قیادت پر الزام تراشی کر لیں خیر ہے مگر اگر اس طرف سے خان صاحب کے متعلق کوئی بات ہوتی ہے تو ان کے گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ کسی بھی پارٹی کی قیادت کو برا نہ کہیں اگر کوئی کرپٹ ہے تو اسے عدالت میں لے گئے ہیں تو وہیں تک رہنے دیں۔اسے سڑکوں تک نہ لائیں اور اگر سڑکوں پر لاتے ہیں تو سننے کا بھی حوصلہ پیدا کریں سیا سی لیڈروں کو چاہئے کہ وہ اگر کسی قیادت کے خلاف بات بھی کرتے ہیں تو اُسے حدود کے اندر رکھیں کسی بھی لیڈر کی تضحیک نہیں ہونی چاہئے اگر کسی میں کوئی کمی ہے اور بحیثیت انسان ہم سب کمزوریوں کا شکا ر ہیں تو اسے گلیوں میں ر سوائی کے لئے استعمال نہ کریں۔

اور چارو نا چار ایسا کرنا ہے تو پھر سننے کا حوصلہ بھی پیدا کریں اور ترجمانی کریں گلے کی رگوں پر زیادہ دباؤ نہ بڑھائیں بلاول زرداری کو بھٹو تو بنا دیا گیا ہے مگر بھٹو ہونے اور بھٹو بننے میں واضح فرق ہے اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں بلاول کوابھی سے ذوالفقار علی بھٹو کا سایہ نہ بنائیں ابھی اس میں زرداری خاندان کے جراثیم بدرجہ اتم موجود ہیں جس طرح سے اس بے چارے کو انڈکٹ کیا گیا ہے اور جو بھی اس کو تقریر یں لکھ کر دینے کا ذمہ دار ہے وہ یا تو اس خاندان کے خلاف ہے یا وہ دماغ کا کوڑھی ہے ہم لوگ جب اپنے بچوں کو کسی مباحثے کیلئے تیار کرتے ہیں تو اس پر پوری توجہ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ تم نے ہاتھوں کو لہرانا ہے، فلاں فقرے پر ڈائس پر مکے مارنے ہیں فلاں جگہ اپنے مخالفین کو رگڑا دینا ہے وغیرہ مگر ایک بچے کو آپ پبلک کے سامنے لا رہے ہیں اور اسے اتنی بھی تیاری نہیں کروا رہے کہ کہاں کیا کہنا ہے او کہاں اسکے ساتھ کیاایکشن دکھانا ہے کہاں چاچے پر زور دینا ہے اور کہاں میاں صاحب کی کرپشن کا ذکر اس طرح کہ آپ پر حملہ نہ ہو سکے۔اس لئے کہ اس حمام میں تو سارے ہی ننگے ہیں اور اگر بلاول میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کی کرپشن کا ذکر کرے گا تو ظاہر ہے اس کی پھوپھی کا بھی پوچھا جائے گا کہ نوے ارب روپے اگر لاڑکانہ پر خرچ ہوئے ہیں تو کیا لاڑکانہ پیرس بن گیا ہے یہ سوال تو سپریم کورٹ کا ہے اور کوئی بھی دہرا سکتا ہے اوراس کیلئے محترم مولا بخش چانڈیو کے گلے کی رگوں کو پھولنا نہیں چاہئے۔