بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت کا مذاکرات سے انکار

بھارت کا مذاکرات سے انکار


بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات ہو ہی نہیں سکتے بھارت اس وقت بات چیت کریگا جب دہشت گردی پر قابوپالیا جائیگا بھارتی ترجمان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کی بنیاد سرحد پر خراب صورتحال کو قرار دیتے ہیں‘ اس سب کیساتھ بھارتی انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے سرتاج عزیز کا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت کا دورہ روکنے کی دھمکی بھی دی ہے‘ دوسری جانب
وزیر اعظم نوازشریف نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو کانفرنس میں شرکت کی اجازت دیدی ہے نوازشریف نے انہیں پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کرنے اور اپنی تجاویز سامنے لانے کی ہدایت بھی کی ہے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے دریں اثناء دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرتا اور افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا‘ بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کیلئے نئی دہلی کی آمادگی کا انتظار کرسکتا ہے۔

بھارت نے سارک اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا تاہم پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیاکیونکہ یہ کانفرنس افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے منعقد ہو رہی ہے اور پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن اور بحالی کے معاملات میں مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے بھارت کا بات چیت سے فرار کوئی نئی بات نہیں سی پیک کے آغاز سے تکلیف میں مبتلا بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بے بنیاد الزام تراشی اور جارحیت کے مظاہرے کرتا چلا آرہا ہے تاہم سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے سمیت اس کے تمام حربے ناکام ہی رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے اعلامیہ میں شامل ہونا بھی بھارت کی ایک اور ناکامی ہے ‘افغانستان اورپورے خطے میں امن کے قیام اور استحکام کیلئے پاکستان کے کردار اور بھارت کی جانب سے مذاکراتی عمل سے باربار فرار ریکارڈ کا حصہ ہے عالمی برادری کو ساری صورتحال کے تناظر میں اپنے کردار کا احساس کرنا چاہئے تاکہ اسکی ساکھ اور غیر جانبداری متاثر نہ ہونے پائے۔

مردم شماری کیلئے حکم

سپریم کورٹ نے مردم شماری کا کام15مارچ سے15مئی 2017ء کے درمیان کرانے کا حکم دیا ہے عدالت عظمیٰ نے مردم شماری کے انتظامات 2ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ‘عدالت نے اس کیلئے وزیراعظم کا دستخط شدہ شیڈول بھی مانگا ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق حکومت نے اس مقصد کیلئے تیاریاں کی بھی ہیں حکومت ملک میں پہلی مرتبہ مردم شماری کا کام کمپیوٹرائزڈ کر رہی ہے۔

اسکے ساتھ ڈویژنل لیول تک بھی انتظامات مکمل کئے جانے کا کہا جارہا ہے یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں کی جانب سے مردم شماری میں تاخیر کے اسباب سے متعلق بحث میں پڑے بغیر اس کی اہمیت پر کوئی دوسری رائے نہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب عام انتخابات کا اہم مرحلہ قریب آرہا ہے سینس کا انعقاد زیادہ ضروری ہوجاتا ہے اس سب کیساتھ وسائل کی تقسیم اور منصوبہ بندی کا کوئی کام مردم شماری کے بغیر صحیح طور پر ممکن نہیں ہوتا کیا ہی بہتر ہو کہ مردم شماری کے اب کی بار عمل میں ڈیٹا بیس کو مزید توسیع دی جائے۔