بریکنگ نیوز
Home / کالم / سرتاج کی بھارت یاترا

سرتاج کی بھارت یاترا

دیکھا گیا ہے کہ انسان اپنے بہت سے نقصان کر لیتا ہے مگر اپنے شملے کو نیچا نہیں ہونے دیتایہ غیرت کا تقاضا ہوتا ہے اور غیرت کیلئے جان بھی چلی جائے تو بھی گوارا ہوتی ہے ہمارے بہت سے ہمسائے ہیں جن میں سے ایک ہندوستان ہے ہندوستان کی قیادت نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا جسکے مظاہرے اکثر اوقات ہوتے رہتے ہیں مگر ہماری قیادت ، چاہے فوجی ہو یا سیاسی ، نے کبھی اس بات کو وزن نہیں دیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کھلم کھلا اعلان کر رہاہے کہ اس نے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنایا ہے اور اس پر بنگلہ دیشیوں کو اس کو ممنون ہونا چاہئے جب پاکستان دولخت ہوا تھا تب بھی اندرا گاندھی نے علی الاعلان کہا تھا کہ اس نے دو قومی نظریئے کو بحر ہند میں ڈبو دیا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان باتوں کو ہمارے لیڈر کیوں عالمی سطح پر نہیں لیکر گئے انہوں نے کیوں یہ ہار بغیر کسی احتجاج کے قبول کر لی اور جب آپ اپنی اتنی بڑی ہار کو دل سے قبول کر لیتے ہیں تو دوسرا فریق آپکے سر پر چڑھ جاتا ہے جس کو اتارنا مشکل ہو جاتا ہے ابھی اتنا زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا کہ ہندوستان نے ہمیں سارک سربراہ کانفرنس میں بری طرح زچ کیا ہمارے صاحبان اقتدار نے اس پر کیا رد عمل دیا کیا سارک ممالک کے دوسرے ارکان کو یہ باور کروانیکی کوشش کی گئی کہ ایک شیڈول پروگرام کو اس طرح تاراج نہ کریں۔ نہیں ہماری جانب سے ایک حرف بھی نہیں کہا گیااسے بالکل ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرلیا گیااسکے بعد جو بھی ایونٹ ہندوستان میں ہوا س کے لئے ہندوستان نے ہمیں زچ کرنے میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی ابھی چند دن ہوئے کہ جونیئر ہاکی کا ورلڈ کپ ایونٹ ہندوستان میں ہو رہا ہے اور ہاکی میں پاکستان دنیا میں ایک نام رکھتا ہے مگر ہندوستان نے ہماری ٹیم کو ویزے ہی نہیں جاری کئے کہ وہ اس میں حصہ لے سکتے ۔

مگر ہم نے بات ہنس کے ٹا ل دی۔ ادھر ہمارے شہریار خان کے پیٹ میں ابھی تک مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ کب ہندوستان اجازت دے کہ ہم اس کے ساتھ کرکٹ میچ کھیل سکیں ہر روز شہر یار خان پریس کانفرنس میں آ بیٹھتا ہے اور ہندوستان سے کرکٹ ٹیسٹ سیریز کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے ۔ ہمارے فنکار وں کے پیٹ میں بھی مروڑ اٹھتے ہیں کہ وہ ہندوستان جا کر پرفارم کریں بارہا ان کو بے عزت ہو کر واپس لوٹنا پڑا مگر خدا جانے اس میں کیا رکھا ہے کہ یہ لوگ گالیاں کھا کر بے مزا نہیں ہوتے ہمارے ایک سابق وزیر خارجہ کی کتاب کی رونمائی کی بات تھی تو کتنا ہنگامہ ہوا اور پروموٹر کے منہ پر سیاہی مل دی گئی ۔ یہ سیاہی اس کے منہ پر نہیں بلکہ قصوری صاحب کے منہ پر ملی گئی مگر کیا مجال کہ جناب کے ماتھے پر ایک شکن بھی آئی ہو۔ کتنے ہی مواقع پر ہمارے سفیر کے منہ پر کالک ملی گئی ان کو کسی بھی فنکشن میں دعوت دے کر عین اس وقت منع کیا گیا کہ جب وہ پوری تیا ری سے اس فنکشن میں شرکت کیلئے تیار ہو کر گھر سے نکلنے والے ہی تھے۔ یہ بلا واسطہ حکومت پاکستان کی توہین تھی مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے ہندو پسند حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی ابھی حالت یہ ہے کہ آئے روز ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر ہمارے سویلین اور فوجی مارے جا رہے ہیں مگر ہمارے بابا سرتاج عزیز کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ کب وہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے امرتسر پہنچیں اور وہ بھی کسی دعوت کے بغیر۔ادھر حکومت پاکستان اس کانفرنس میں شرکت کے لئے پر تول رہی ہے اور ادھر ہندو انتہا پسند سرتاج عزیز کو بھارتی سر زمین پر نہ اترنے کی دھمکیا ں دے رہے ہیں اور ان دھمکیوں پر وہ عمل کرنے کے قابل ہیں یہ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے۔

کہ ہمارے کرکٹ کے کھیل میں ہاضمہ خراب کرنے والے سیٹھی صاحب او ر شہر یار خان کو جس طرح بے عزت کر کے ان بی جے پی کے غنڈوں نے ائیر پورٹ سے ہی واپس موڑا تھا اسی طرح کا سلوک جناب بابا سرتاج عزیز سے بھی متوقع ہے۔ اور یوں اپنی غیرت کا خود ہی جنازہ نکالنے پر تل گئے ہیں۔اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہی ہونا ہے۔اگر افغانستان کی جنگ میں پاکستان کو حصہ نہ ڈالنے کا فیصلہ افغانوں کی طرف سے ہی ہو رہا ہے تو پاکستان کو اپنی سرحدوں کی جانب دیکھنا چاہئے اور افغانستان کی پرواہ کرنا چھوڑ دینا چاہئے ہم نے اس جنگ میں سب زیاد تباہی بھی بھگتی ہے اور بدنامی بھی مول لی ہے ساری دنیا میں ہم اس جنگ کی وجہ سے دہشتگرد ملک بنے ہوئے ہیں اور دن رات اپنے بندے اور فوجی بھی مروا رہے ہیں اوربن بلائے مہمان بننے پر بھی بضد ہیں خدا جانے ہمیں ہندوستان میں کیا دلچسپی ہے کہ ملکی غیرت کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے ہمارے کسی بھی حکمران کے تمغوں میں کمی نہیں آئے گی اور نہ آسمان ٹوٹے گا۔ اس لئے اس خیال کو ترک ہی کر دیں تو بہتر ہے ہاں اگر آپ پاکستان کو ہر جگہ ذلیل کرنے پر تلے ہیں تو علیحدہ بات ہے۔