بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آرمی چیف کی ہدایت

آرمی چیف کی ہدایت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے جوانوں کو بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دینے کا حکم دیا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایل او سی پر نگرانی کا عمل مزید سخت کرنے کا حکم بھی دیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کادورہ کیا اور اپنا دن جوانوں کے ساتھ گزارا ٗ آرمی چیف کو10کو رراولپنڈی کے دورہ کے موقع پر بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بریفنگ دی گئی آرمی چیف کے جوانوں اور افسروں سے خطاب میں کشمیر سے متعلق پاکستان کے کلیئر موقف کی وضاحت ہوتی ہے جنرل باجوہ واضح کر رہے ہیں کہ بھارت کی اشتعال انگیزی مسئلہ کشمیر سے متعلق توجہ ہٹانے کی کوشش ہے تاہم وہ اس بات کو بھی کلیئر کرتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے حل تک خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا بھارت اس مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے اس سے پہلے بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے موقف کا تعلق ہے تو وزیر اعظم نوازشریف کشمیر کونسل کے ارکان سے بات چیت میں یہ عزم دہرا چکے ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتا رہے گا مذاکرات کے حوالے سے بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات کی بھیک نہیں مانگ رہا بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے ٗ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے بہت سارے اقدامات اٹھائے تاہم معاملات جوں کے توں ہی رہے لگتا ایسا ہی ہے کہ بھارت مذاکرات کیلئے تیار نہیں ٗ اس وقت بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔مقبوضہ وادی کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ روز آزادی کے حق میں ہونیوالے مظاہروں کے ساتھ ایک بار پھر یاسین ملک کو گرفتارکیاگیا ہے، اس سارے منظرنامے میں پاکستان کا موقف ایک آزاد وخودمختار ریاست کی حیثیت سے بالکل درست اور اصولی ہے جس کی سپورٹ کرتے ہوئے امریکہ سمیت پوری عالمی برادری کو بھارتی رویے کا نوٹس لینا ہوگا۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس

سٹیٹ بینک نے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کو گزشتہ پانچ سال کے دوران معاف کروائے جانیوالے قرضوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا ہے، اجلاس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بلوچستان میں سی پیک کے مغربی روٹ کیلئے اراضی کی خریداری سے متعلق 55ارب روپے بھی ابھی جاری نہیں ہوئے جس پر سیکرٹری مواصلات نے حیرانگی بھی ظاہر کی، عین اسی روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ کرنسی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے مزید تین ایئر پورٹس پر اقدامات سخت کردیئے گئے ہیں، اس بحث میں پڑے بغیر کے قرضوں کے معاف کرنے کی تفصیل بتائی جارہی ہے یا نہیں اور اس میں کیا قانونی یا تکنیکی رکاوٹیں ہیں اس میں دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز کی معیشت کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی ہے، ایشیائی بینک 20کروڑ کا مزید قرضہ دے رہا ہے، ایسے میں ضرورت معیشت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہے، اس میں اگر قرضے معاف کرانے اور کرنسی سمیت تمام اشیاء کی سمگلنگ کی جتنی حوصلہ شکنی ہوسکے ضرور ہونی چاہئے۔