بریکنگ نیوز
Home / کالم / اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی

اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی

وہ جو اردو زبان کا محاورہ ہے اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی وہ وطن عزیز کے حکمرانوں پر سوفیصد صادق آتا ہے اس ملک میں کئی ماہرین معیشت عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ خدارا ملک کی معیشت کودستاویزی بنا دیجئے اور کالے دھن کو سفید ہونے سے روکنے کیلئے پانچ سو روپے سے زائد مالیت کے کرنسی نوٹ منسوخ کر دیجئے اور پرائز بانڈ سکیم کو بھی ختم کر دیجئے اس مطالبہ کو متعلقہ حکومتی اداروں نے نظر انداز کیا جبکہ بھارت کے وزیر اعظم نے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ اسی دوران منسوخ کرڈالے جس سے ایک اطلاع کے مطابق پندرہ ہزار کروڑ روپے رکھنے والے 50 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے پر غالب امکان یہ ہے کہ اسکے مثبت اثرات بہت جلد نظرآجائینگے ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے کئی برس پہلے کسی زمانے میں اس وقت کے صدر مشرف فوج کے سپاہیوں کے ذریعے ٹیکس سروے کروانے کا ارادہ رکھتے تھے پر چند ہزار تاجروں کی بلیک میلنگ اور احتجاج سے وہ اپنے ارادے سے پیچھے ہٹ گئے جب تک اس ملک کی معیشت دستاویزی نہ کی جائیگی ملک میں چونکہ تاجروں کی حکومت ہے ایوان اقتدار میں ان کا زور ہے ایف بی آر ان کی اجازت بغیر پر بھی نہیں مارسکتا لہٰذا معیشت کو دستاویزی بنانا کم از کم اس حکومت کے دورانیے میں توہمیں ناممکن نظر آتا ہے ہمارا پورا معاشی نظام اور ترقیاتی منصوبے اندازوں پر چل رہے ہیں۔

مردم شماری1998ء میں ہوئی تھی اسے دس برس بعدبہرصورت ہونا چاہئے تھاپر آج 2016 ہے مزید8 سال بیت گئے ابھی تک اس کا نام و نشان نہیں اب جب سے سپریم کورٹ نے حکومت کے کان کھینچے ہیں تو امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ شاید بعداز خرابی بسیار اب کہیں جا کر مردم شماری اگلے برس کے اوائل میں ہو جائے سپریم کورٹ سے بعض لوگوں کا یہ گلہ بے جا ہے کہ وہ انتظامیہ کے ہر کام میں مداخلت کرتی ہے بھئی اسے بہ امر مجبوری ایسا کرناپڑتا ہے اگر ملک کی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری ادارے اپنا اپنا کام بروقت کرتے رہیں تو سپریم کورٹ کیوں انکی سرزنش کرے اگر سپریم کورٹ کا ڈنڈا نہ ہوتا تو حکومت کبھی بھی بلدیاتی الیکشن نہ کرواتی اورمختلف حیلوں بہانوں سے اس معاملے کو اگلے الیکشن یعنی 2018ء تک لٹکائے رکھتی بات سچی کرنی چاہئے بھلے وہ کسی کو اچھی لگے یا بری ایک عرصے سے اراکین اسمبلی ہر سال اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کاموں کیلئے کروڑوں روپے بٹورتے چلے آئے ہیں۔

اب جبکہ بلدیاتی نمائندے متحرک ہو چکے ہیں اب کیا جواز باقی رہ گیا ہے جو اراکین اسمبلی بدستور کروڑوں روپے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر وصول کر رہے ہیں یہ روپے تو اب منتخب بلدیاتی نمائندوں کو تقسیم کرنے چاہئیں۔ ایان علی سے تو آپ یقیناًباخبر ہونگے اک لمبے عرصے سے اس کے خلاف کرنسی دبئی سمگل کرنے کا مقدمہ زیر التواء ہے اور وہ مسئلہ کشمیر بن چکا ہے اس کا حل نہیں نکالا جارہا قانونی موشگافیوں سے ہمارے بعض معزز وکلاء نے اس کو الجھا دیا ہے ایان علی کے بارے میں مبینہ طورپر کہا جارہا ہے کہ وہ ہر ماہ دبئی کے درجنوں چکر لگاتی آئی ہے جس دن اس کو ائرپورٹ پر پکڑا گیا اس وقت اس کے پرس میں فارن کرنسی کی ایک اچھی خاصی رقم تھی کہ جو قانونی طور پر وہ ملک سے باہر نہیں لے جا سکتی تھی کوئی بھی متعلقہ محکموں اور تحقیقاتی ایجنسیوں سے پوچھنے والا نہیں کہ بھئی آخر اس میں کونسی راکٹ سائنس ہے جو ایان علی کے کیس کو اتنا طولانی کردیاگیا ہے اس ملک میں ایک طرف تو حکومتیں بعض افراد یا سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دیتی ہیں اس لئے کہ وہ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے میں ملوث پائی جاتی ہیں پر دوسری طرف ان کو پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے اور وہ کامیاب ہو کر پارلیمنٹ کے رکن بھی بن جاتے ہیں کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ریٹرننگ افسر انکے کاغذات کیوں قبول کرلیتے ہیں؟