بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہارٹ آف ایشیا : توقعات

ہارٹ آف ایشیا : توقعات


ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے سلسلے میں چھٹی وزرائے خارجہ سطح کی گفت و شنید بھارت کے شہر امرتسر میں ہو رہی ہے۔ یہ عمل نومبر 2011ء سے شروع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان میں قیام امن و استحکام لایا جائے اور اِس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک اپنے مالی وسائل اور اثرورسوخ کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور مشیرامور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد سرتاج عزیز کو ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ میں شرکت کے لئے بھارت جانے اور وہاں پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران سرتاج عزیز کی بھارتی عہدیداروں کے ساتھ غیررسمی ملاقاتوں کی کوششیں کی جارہی ہیں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سارک سربراہ کانفرنس اور شنگھائی تنظیم جیسی ایک علاقائی تنظیم ہے جس کا قیام بالخصوص افغانستان میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔ اس تنظیم میں افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت‘ چین‘ ایران‘ ترکی سمیت چودہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکہ‘ برطانیہ سمیت ستائیس ممالک اور بارہ عالمی تنظیموں کے خصوصی نمائندگان اپنے اپنے ممالک اور اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں چنانچہ اس تناظر میں ہارٹ آف ایشیاکانفرنس اہم ترین علاقائی تنظیم ہے جس کی کاوشوں سے افغانستان میں قیام امن کی مستقل بحالی یقینی بنائی جا سکتی ہے تو اس سے ہمارے خطے ہی کو نہیں‘ پوری دنیا کو لاحق دہشت گردی کے خطرات ٹل جائیں گے پاکستان اسی حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کو اہمیت دیتا ہے جس نے پانچ ماہ قبل اسلام آباد میں اس کانفرنس کا بھرپور انعقاد کیا اس کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کی شرکت ’بریک تھرو‘ تھا جبکہ اسی کانفرنس میں اس کا اگلا اجلاس امرتسر بھارت میں منعقد ہونا طے پایا تھا اس وقت بھارت نے پاکستان کیساتھ کنٹرول لائن پر جس انتہاء درجے کی کشیدگی بڑھائی ہوئی ہے اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اس کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

جبکہ اپنے ملک میں کہیں بھی ہونیوالی دہشتگردی کا ملبہ بلاتحقیق پاکستان پر ڈالنے کا بھی وہ کوئی موقع ضائع نہیں جانے دے رہا جسکے تحت وہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنیکی سازشوں میں مصروف ہے اور اس ذہنیت کی بنیاد پر ہی بھارت نے پاکستان کی میزبانی میں ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس کا خود بائیکاٹ کرکے اور پھر اس کے دوسرے تین رکن ممالک کو بھی شریک ہونے سے روک کر اسے سبوتاژ کیا چنانچہ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ ہم اس کا جواب بھارت کی میزبانی میں ہونے والی ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ میں شریک نہ ہو کر دیں اور بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے پاکستان کیخلاف زہریلے پروپیگنڈے اور بے سروپا الزام تراشی کو اس کا جواز بنا کر اقوام عالم میں بھارتی سازشوں اور مکاریوں کو بے نقاب کریں تاہم خطے بالخصوص افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان اپنے مفادات ہارٹ آف ایشیاکانفرنس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اس تنظیم کا قیام بھی پاکستان کی تحریک پر عمل میں آیا تھا اس لئے بھارت کی جانب سے دشمنی کی تمام حدیں عبور کرنے اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر بھی رعونت کیساتھ پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کا عندیہ دینے کے باوجود پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے اور افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے ٹھوس موقف پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس وقت جبکہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک بات چیت کے دوران دیرینہ تصفیہ طلب امور طے کرانے کیلئے پاکستان کی خواہش کے مطابق کردار ادا کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں جسے دفتر خارجہ پاکستان نے خوش آئند قرار دیا ہے تو مشیرامور خارجہ کو ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے افغانستان میں امن عمل کی کوششوں کیساتھ ساتھ دیرینہ تنازعہ کشمیر پر بھی پاکستان کا ٹھوس مؤقف پیش کرنا چاہئے جس پر بھارتی شدید ردعمل سامنے آئیگا‘ تو اس سے ٹرمپ کو بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اس خطے میں امریکی حلیف بھارت کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ بہتر ہے بھارت اپنے جنونیوں کو ’ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس‘ کے موقع پر پاکستانی وفد کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی اور جنونیت سے باز رکھے بصورت دیگر بھارت کو بھی اس کا مسکت جواب ملے گا جس سے دوطرفہ کشیدگی مزید بڑھے گی بھارت کو ہارٹ کانفرنس کے مقاصد ہرگز سبوتاژ نہیں کرنے چاہئیں ورنہ عالمی تنہائی کا رخ بھارت کی جانب ہو جائیگا (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ملک محمد اشرف۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)