بریکنگ نیوز
Home / کالم / سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا


پشاور میں شادیوں کے لئے معتدل موسموں کا انتظار کیا جاتا ہے مگر بوجوہ کبھی جون جولائی اور کبھی یخ بستہ جاڑوں کی رت میں بھی شادیانے بج اٹھتے ہیں، جاڑوں میں تو کسی طور بات بن جاتی ہے مگر سخت گرمی میں دولہا میاں سے لے کر باورچی تک کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے، میزبان مہمان سب پریشان اور ہلکان ہوئے جاتے ہیں اس لئے اگر کوئی خاص مجبوری مانع نہ ہو تو شادی کی رسومات رات کے وقت رکھی جاتی ہیں، دیہاتوں میں البتہ ولیمہ بارات دن کو ہی نبٹا نے کی کوشش کی جاتی ہے ان کے اپنے بہت سے حوالے اور تحفظات ہیں تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے اب گاؤں والے بھی شادی بیاہ کے اکٹھ کے لئے رات ہی کو دن پر ترجیح دینے لگے ہیں، لیکن شہر میں دن کے وقت شادی کے کھانے (دعوت) کا رواج اب کم کم ہو گیا ہے،ایسا شاید صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب شادی کی تاریخ طے ہو جائے اور پھر مناسب شادی ہال نہ مل سکے تو مجبوراََ ڈنر کو لنچ میں بدل دیاجاتا ہے، جو سردیوں میں تو اچھا لگتا ہے اگر دھوپ میں بیٹھنے کا انتظام بھی ہوجیسا کہ اکثر ہال سے متصل لانز ہوتے ہیں ، یہ سب اس بات کی تمہید ہے کہ دو دن قبل پشاور میں ایک نہیں دددو پرہجوم شادیاں ہوئیں۔ اور ان میں کئی ایک باتیں مشترکہ تھیں جیسے دونوں شادیاں ایک ہی دن تھیں، دونوں شادیوں کا ولیمہ دن کے وقت تھااور دونوں کے مدعوئین میں سے ایک بڑی تعداد بھی مشترک تھی۔ اور دونوں دوستوں میں کسی کو بھی یار لوگ ناراض نہیں کر سکتے تھے ایک طرف سابق صوبائی وزیر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی ہدایت اللہ اور ان کے بھائی سابق ناظم لوئر دیر حاجی عنایت اللہ کے صاحبزادوں کا ولیمہ شہر کے ایک شادی ہال میں تھاجو کہ ایک اچھے خاصے سیاسی اجتماع کا منظر پیش کر رہا تھا،سیاسی زعما کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

دوسری طرف آئی جی پی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کے برخوردارعیسیٰ خان درانی کا ولیمہ تھا اور اپنے منصب سے ماورا ان کی دوستی اور محبت نے بھی یار لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رکھا تھا،کوئی یہاں سے ہو کر اس شادی پر گیا کچھ دوست وہاں سے ہو کر یہاں آ گئے تھے ،پشاوری دعوتِ ولیمہ کوحاضری کہتے ہیں اور میرا خیال ہے یہ ایک بہت خوبصورت لفظ ہے،جو اپنے بھرپور معانی دیتا ہے خصوصاََ جب ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ ولیموں میں جانا ضروری ہوجاتا ہے یا بوجوہ زیادہ دیر نہیں رکا جاسکتا تو جا کر مبارکباد دے آتے ہیں اورکھانا ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ کھایا کھایا نہ کھایا نہ کھایا مگر حاضری ضروری ہوتی ہے اس لئے ولیمہ کا نام حاضری رکھا گیا ہے۔ کبھی کبھی یہ حاضری لطیفوں کو بھی جنم دیتی ہے ،اب تو خیر ہفتے کے کسی بھی دن شادی بارات ہو سکتی ہے کہ مسئلہ وہی ہال کے حصول کا ہو تا ہے، مگر چند دہائیاں اْدھر شادی بارات ہفتہ اتوار یا جمعرات جمعہ کو ہی ہوتی تھی۔ ان دنوں میں مظہر گیلانی مرحوم کے شاعر بیٹے فوق گیلانی کی بارات کسی وجہ سے پیر یامنگل کو ہورہی تھی،یہ بہت انوکھی بات تھی ،بہت سے احباب اکٹھے تھے کچھ دیر بعد ممتاز شاعر و صحافی مسعود احمد شفقی بھی آگئے اور میرے قریب ہی بیٹھ گئے، دولہا ابھی باہر نہیں آیا تھا کہ مسعود انور شفقی نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ناصر یار دولہا آئے تو میرا بتا دینا مجھے جانا ہے، میں نے کہا کہ بس آنے ہی والا ہوگا کہنے لگے در اصل مجھے تین چار اور باراتوں پر بھی جانا ہے۔

یہ کہہ کر وہ اٹھ گئے تو میں نے بھی کھڑے ہو کر ان کے کان میں کہا کہ آپ جائیں میں آپ کی حاضری لگا دوں گا،مگر سیدھے گھر جائیں آج ہفتہ اتوار نہیں پیر ہے اور شاید پورے صوبے میں کہیں آج کسی کی بارات نہیں ہو گی۔ پتہ نہیں ان کو پیر کے دن شادی کی کیا سوجھی کوئی سلیقے کا بہانہ بھی نہیں بنایا جاسکتا،سنی ان سنی کر کے کہنے لگے بس کچھ کہہ دینا۔ خیر وہ مرنجاں مرنج بزرگ دوست تھے اور ہمیں ان کے گھر کے شامی کباب بھی بہت بھاتے تھے سو ان کی حاضری لگا دی، معلوم نہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ بعد شادیاں گھروں سے اٹھ کر شادی ہالوں کا رخ کر لیں گی، اور دن اور وقت کی قید بھی ختم ہو جائے گی۔ میں بھی (حسب معمول) قدرے تاخیر سے پشاور کلب پہنچا مگر بہت سے احباب تو اس وقت تک آرہے تھے جب یار لوگ واپس جا رہے تھے، یوں تو ناصر خان درانی ہمیشہ تازہ دم اور چابکدست ہی رہتے ہیں مگر دوست تائید کریں گے کہ بیٹے کی شادی پر تو وہ ہمیشہ سے زیادہ فریش اور سمارٹ لگ رہے تھے، ان کو دیکھ کرمجھے جون ایلیا کا قطعہ یاد آگیا
سال ہا سال اور اک لمحہ
کوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا
خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا

خیر دروازے پر ہی کھڑے تھے بہت محبت سے ملے میں اندر آیا تو پہلے آفتاب شیر پاؤنظر آئے جو ہمیشہ کی طرح خوبصورت مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اسی دیرینہ محبت سے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ملے سکندر شیرپاؤ بھی ہمراہ تھے خیر خیریت کے بعدانہوں نے میجر عامر کا پوچھا اور کہنے لگے آپ تو پھر دریا کنارے پہنچے ہوئے تھے ان کا اشارہ نیسا پور کی طرف تھا جہاں میجر عامر نے پاک چین دوستی کے علمبردار اور چائنا انٹر نیشنل اسلامک کونسل کے صدر ڈکٹر اسحاق اور ان کے ساتھیوں کے لئے ایک اکٹھ ترتیب دیا تھا میں بھی وہیں تھا اور اس کا ذکر روزنامہ آج کے صفحات پر شائع ہوا تھا، میں نے کہا میں تو وہیں پایا جاتا ہوں آپ بھی کبھی دوبارہ آئیے نا،اتنے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی سواری بھی آ پہنچی ،گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا بھی آگئے ان سے بھی بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی۔ اور ملاقاتوں کے سلسلے طول پکڑ گئے شوکت یوسفزئی بھی اسی لمحہ آئے میں نے ان تک کچھ احباب کے پیغام پہنچائے اتنے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے نو منتخب صدر اور یاروں کے یار حاجی افضل نظر آئے میں نے کہا یہیں مبارک دے دوں منظور ہے انہوں نے کہا چلئے کوئی بات نہیں میں نے کہا آپ کا سیل نمبر اس فون میں نہیں اس نے اپنا فون دکھایا اور کہا ہم نے آپ کا نمبر سینے سے لگایا ہوا ہے، کھانا کھلا ہی تھا میجر عامر کا فون آیا کہ ولیمہ کے بعد پنج ستاری ہوٹل آ جاؤ،میں بھی ولیمہ سے فارغ ہو کر وہیں پہنچ رہا ہوں، میں حاجی افضل اور زاہداللہ شنواری کے ہمراہ روانہ ہوا تو پھر ان کا فون آیا کہ یہ آصف نثار غیاثی زور آور ہو گیا اب ’’روزنامہ آج‘‘ ہی آ جاؤ،وہاں پہنچا تو تنویر صدیقی عدنان ظفر اور آصف نثار غیاثی حالات حاضرہ پر میجر عامر کی ماہرانہ رائے اور تبصروں کا ڈول ڈالے ہوئے تھے اب یہ ایک سنجیدہ محفل تھی میجر عامر جب بھی بولتے ہیں تو بقول غالب ’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘

والی کیفیت ہوتی ہے، جلد ہی سلیم صافی سے ان کی بات ہوئی جو پنج ستاری ہوٹل میں منتظر تھے سو میں اور میجر عامر وہاں کے لئے روانہ ہوئے ،یہ ایک دن میں ایک اور طرز کی محفل تھی جو دوستوں کی نوک جھونک سے یادگار بن رہی تھی سلیم صافی کے ساتھ ہمارے دوست محمود بابر،اسماعیل خان، شوکت یوسفزئی، صوبائی وزیر عنایت اللہ ،کرنل (ر)مقبول آفریدی بھی بیٹھے تھے،وہاں بھی میجر عامر کی مدلل گفتگو نے گیم اپنے ہاتھ میں ہی رکھی،سلیم صافی نے میرا شعر تو آتے ہی با آواز بلند پڑھا تھا
تکلفات کو اب بھول جائیے صاحب
یہ میرا دل ہے، سہولت سے آئیے صاحب
اور اس کی خواہش تھی کہ دوستوں کی گفتگو کو کسی طور شعر و ادب کی طرف موڑا جائے مگر اس دن اونچی دکان کے پکوان تو جیسے بھی تھے ماحول خاصا گرم تھا ان کا کولنگ سسٹم کسی کو اوبلائج کرنے کو تیار ہی نہ تھا اس لئے اتنے خوبصورت دوستوں کے یکجا ہونے کے باوجود محفل میں ذرا ذرا سی دیر کے بعد سب غیر محسوس طریقے سے چپ ہو جاتے اور جہاں چائے اور دیگر تکلفات سے زیادہ بار بار پانی منگوایا جارہا تھا، جب میں اور میجر عامر وہاں کی گرمی سے اٹھ کر ان کی یخ بستہ گاڑی میں بیٹھے تو میجر عامر کے ہونٹوں پر بیدل حیدری کا شعر رواں ہو گیا جو کئی بار انہوں نے پڑھا۔
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا