بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / مشاورت جمہوریت کی طاقت

مشاورت جمہوریت کی طاقت


آمریت و جمہوریت کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ آمریت میں شخصی فیصلے مسلط ہوتے ہیں اور ان فیصلوں پر اٹھنے والے اعتراضات کی حدت کو مکالمے کے ذریعے کم کرنے کے بجائے معترضین کوکچل دینے کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے جبکہ جمہوریت میں نہ صرف یہ کہ فیصلے مشاورت کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں بلکہ فیصلوں پر ہونے والی تنقید و اعتراض کو’’ سننے اور سنانے‘‘ کے عمل سے گزار کر اتفاق رائے کی منزل تک پہنچانے کی سعی بھی ہو تی ہے ۔یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ اگر اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے تو مشاورت جمہوریت کی طاقت ہے ۔پاکستان کی سیاست ماضی میں جن منفی رویوں کے زیر اثر رہی ہے ان میں ذاتی بغض و عناد اور سیاسی منافرت پر مبنی طرز عمل بالادست نظر آیا ہے۔ یہ طرز عمل سالہا سال تک سیاست اور جمہوریت دونوں کیلئے نقصانات کا باعث بنتا رہاتاہم سیاسی رویوں میں ذمہ داری ، بلوغت اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کی روش کا پنپنا نہ صرف ماضی میں ہونے والے نقصانات کے اعادے کو روک رہا ہے بلکہ سیاست و جمہوریت کے وجود کو قوت بخشنے کے ساتھ ساتھ ان کی مستقبل کی جانب پیش قدمی کو آسان بھی بنا رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے اہم ترین منصوبے کے حوالے سے بعض سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا معاملہ اگر کسی آمر کو درپیش ہوتا تو اس کی ترجیح یہی ہوتی کہ ان جماعتوں کی قیادت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے سو یہ عوامی جمہوری دورِ حکومت ہی کا اعجاز ہے کہ اس اہم ترین معاملے پر احساس محرومی ختم کرنے کیلئے منتخب وزیر اعظم نے مملکت کی سیاسی قیادت کے ساتھ مشاورت کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور انکی کوشش رہی ہے کہ راہداری سے متعلق تحفظات کو بات چیت کی ذریعے حل کیا جائے۔سی پیک کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار تو اس منصوبے کے باقاعدہ آغاز یعنی چینی صدر کے دور ہ پاکستان سے بھی کئی ماہ قبل شروع ہو گیا تھا تاہم منصوبے کے باقاعدہ آغاز کے بعد جب پنجاب کو چھوڑ کر دیگر صوبائی حکومتوں اور متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے برملا یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ’’راہداری کا منصوبہ بنیادی طور پر پنجاب کو نوازنے کیلئے ہے اور دیگر صوبوں کو اس کے ثمرات سے محروم رکھا جا رہا ہے‘‘

اورجب سیاسی قائدین نے مذکورہ راہداری کو مسترد کرنے اور اس کے راستے کی دیوار بننے کے اعلانات کرنے شروع کئے تو صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر وزیر اعظم نے اندیشوں ، ابہام اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو مشاورت کی غرض سے یکجا کیا۔ منصوبے کے حوالے سے وفاقی حکومت اور سیاسی قائدین کی ابتدائی مشاورت کے نتائج حوصلہ افزا رہے تاہم تحفظات کا مکمل خاتمہ نہ ہوسکاجس کے بعد وفاق کو وقفوں وقفوں سے صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اعتماد میں لینے کیلئے خصوصی اجلاس منعقد کرناپڑے اس عمل کے نتیجے میں سی پیک کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت سمیت دیگر صوبائی حکومتوں کی شکایات میں نمایاں کمی آئی اور جیسے جیسے سی پیک کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں صورتحال مزید واضح ہو رہی ہے ۔اُدھر اس کے باوجود کہ تین اعلیٰ سطحی کمیٹیاں جن میں سے ایک کے سربراہ خود وزیر اعظم ہیں جبکہ دوسری وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور تیسری سینیٹر مشاہد حسین کی سربراہی میں منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے، سی پیک پر تاحال مکمل اتفاق رائے کا فقدان نظر آتا ہے خاص طور پرخیبر پختونخوا میں سی پیک سے متعلق اعتراضات کی گونج زیادہ سنائی دے رہی ہے۔اس سلسلے میں وفاق کی جانب سے سامنے آنے والے مؤقف کا ایک نکتہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری اہم قومی منصوبوں پر چاروں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینا ہے اور اس وقت چاروں صوبائی حکومتیں سی پیک پر پیش رفت کے حوالے سے مجموعی طور پر مطمئن ہیں۔

جبکہ سیاسی قوتوں کو انفرادی طور پر مطمئن کرنے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ سی پیک کے معترضین کاا ستدلال یہ ہے کہ’’ پاکستانی معیشت کی بقا و استحکام کے اس منصوبے کی کامیابی کیلئے چھوٹی بڑی تمام سیاسی قوتوں کا چاہے وہ صوبائی حکومتوں کا حصہ ہوں یا نہ ہوں ایک پیج پر ہونا ضروری ہے‘‘۔پاکستان کیلئے سی پیک کی اہمیت و افادیت کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت جو اس منصوبے کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اُن سیاسی قوتوں کی تسلی کیلئے جن کا سی پیک منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اطمینان متزلزل ہے بات چیت کی نئی نشست کا انعقاد کرے بلکہ اگر تمام سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کیلئے سی پیک کانفرنس کا انعقاد کر کے منصوبے کی موجودہ صورتحال اور اسکے مستقبل پر تبادلہ خیال کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔