بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک بھارت تعلقات: بہتری کی اُمید!

پاک بھارت تعلقات: بہتری کی اُمید!


بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان مستقبل میں بھارت سے مثبت اور تعمیری تعلقات کیلئے پراُمید ہے اور توقع کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنما سنجیدگی اور پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ بحران سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیئے گئے انٹرویو میں عبدالباسط نے کہا کہ ’’جیسا کہ ہمارے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں کہا کہ پاکستان اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معمول کے مطابق اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے اور تمام مسائل کو پر امن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔‘‘ عبدالباسط نے کہا کہ بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی اب بھی اُڑی واقعے کی تحقیقات کررہی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ حملہ کیسے ہوا جس میں اٹھارہ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری یہ تجویز ہے کہ بغیر تحقیقات جلد بازی میں الزامات لگانا سود مند نہیں‘ سب نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ واقعے کے بعد ہم نے کس طرح تعاون کیا۔ چیزیں مثبت سمت کی جانب گامزن تھیں اور اگر وہی جذبہ برقرار رکھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔‘‘ لیکن اگر ہم بھارت کے سیاسی رہنماؤں کا طرزعمل دیکھیں تو اُس میں سے تعصب کی بو آتی ہے۔نریندر مودی نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیں گے ایک وقت آئے گا جب پاکستان مکمل تنہا ہوگا۔‘‘وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب پر بھارت اب تک تلملا رہا ہے۔

نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر جاندار طریقے سے اٹھا کر بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ نریندر مودی کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیاں پاکستانی وزیراعظم کے دوٹوک موقف کا شاخسانہ ہیں گو مودی بہانہ اڑی حملے کا بنا رہے ہیں۔ ان کی دھمکیوں کا جواب بجا طور پر مشیر خارجہ‘ وزارت خارجہ کے حکام اور متعدد وفاقی وزرا کی طرف سے دیا جا رہا ہے تاہم ضروری ہے کہ وزیراعظم نواز شریف خود اپنے بھارتی ہم منصب کے الزامات اور دھمکیوں کا جواب دیں‘ خصوصی طور پر اس طعنے کا جواب وزیراعظم کی طرف سے ہی آنا چاہئے کہ پاکستانی حکمران کہتے تھے‘ کشمیر کے لئے ہزار سال تک لڑیں گے مگر اب نظر نہیں آتے۔ وزیر اعظم کو نہ صرف اس کا جواب دینا چاہئے بلکہ عملاً بھی بھارت کیساتھ تجارت کا خاتمہ کر کے باور کرانا چاہئے کہ پہلے مسئلہ کشمیر کا حل تجارت تعلقات اور دوستی بعد میں۔ نریندر مودی ہی نہیں ہر بھارتی حکمران اور حکومت نے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کے باوجود وہ ایسا نہیں کر سکے۔ بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوئی معقول دلیل اور جواز ہی موجود نہیں۔

اس کی حمایت میں وہی ملک بات کرتے ہیں‘ جن کی پاکستان سے پرخاش ہے یا جو اپنے مفادات کے باعث ہر صورت بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں‘ ایسے ممالک میں امریکہ‘ افغانستان اور اسرائیل شامل ہیں۔ پاکستان جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کے خطاب پر کاربند رہتا ہے تو بھارت کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کو بلوچستان‘ گلگت ‘ بلتستان اور آزاد کشمیر پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان علاقوں میں مودی بتائیں پاکستان کیخلاف کب جلوس نکلتے ہیں۔ ترنگا کہاں نظر آتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں پچانوے فیصد آبادی بھارت سے بغاوت کر چکی ہے‘ وہاں ہر سو پاکستانی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں‘ بھارت سے مقبوضہ کشمیر اور کشمیریوں کی حریت کی تحریک نہیں سنبھل پا رہی۔ لالو پرشاد یادیو بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ بھارتی دھمکیوں کے بعد بلوچستان‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے کونے کونے میں ’بہار کے خلاف‘ مظاہرے ہو رہے ہیں۔خطے میں بدامنی کی طرح غربت اُور پسماندگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔ اس نے اپنے وسائل پاکستان دشمنی کیلئے اسلحہ پر پھونک دیئے۔ پاکستان کو بھی مجبوراً اپنے دفاع کیلئے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ پسماندگی‘ غربت اور ناخواندگی پاکستان میں بھی ہے مگر اس کی انتہاء بھارت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ عام آدمی کو تعلیم‘ صحت اور دیگر بنیادی سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ مودی غربت اور پسماندگی کے خاتمے کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ان کی نیت اگر درست ہے تو ان کی تجویز مقبوضہ کشمیر میں بربریت ختم کر کے‘ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے کر قابل عمل ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے اڑی حملے کی عالمی تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔ بھارت کے الزامات میں صداقت ہے تو یہی تحقیقات و تفتیش کے لئے بہترین فورم ہے۔