بریکنگ نیوز
Home / کالم / حراموش روڈ….. موت کے بعد کا منظر

حراموش روڈ….. موت کے بعد کا منظر

ویران ریسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں اور اسرار کے جنت ذائقوں کے پکوانوں سے دل پہ پتھر رکھ کر ہم جدا ہوئے اور وہاں راکا پوشی کے دامن میں پتھروں کی کچھ کمی تو نہ تھی‘ اگر احمد ندیم قاسمی یہاں چلے آتے تو صرف ایک’’ پتھر‘‘ نظم نہ لکھتے‘ پورا دیوان پتھروں سے لبریز ہو جاتا اور ہم نے گلگت واپسی کا سفر اختیار کیا… سب کوہ نورد ساتھی چہک رہے تھے کہ آج وہ دن تھا جب ہماری کوہ نوردی کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا‘ ابھی تک توہم موج میلا کر رہے تھے…شاہد زیدی کی جیبوں میں کچے سیب بھرے تھے اور وہ ایک بچے کے اشتیاق کے ساتھ کچر کچر انہیں کھا رہے تھے‘ سرفراز گوجر ہمیں بتا رہا تھا کہ بھینسوں کی جنسی زندگی بے حد پراسرار ہوتی ہے اور یہ سب نہیں جانتے تھے کہ حراموش نے ان کا کیا حشر کرنا تھا اور ان کا یہ سفر‘ سفر آخرت میں بدل سکتا تھا…

گلگت سے نکل کر ہم شاہراہ قراقرم سے بچھڑ کر نیچے اترتے ہیں‘ دریائے گلگت پر معلق نہایت مخدوش ہوچکے عالم پل کے ڈھانچے پر سے گزرتے ہیں اور اس پل کی حالت یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک گاڑی اور وہ بھی ڈولتی ہوئی اس پر سے گزرتی ہے یہ ایک پل نہیں ایک پل کی لاش ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف پورے بلتستان کو بقیہ پاکستان سے ملانے والا بلکہ دنیا کے بلند ترین محاذسیاچن تک فوجی سامان اور گولہ بارود لے جانے والا… صرف یہ ایک پل ہے… اسے ہندوستان ایک بم سے نہیں ایک پٹاخے سے اڑا سکتا ہے‘ کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف نے اس کے برابر میں ایک مستحکم اور جدید پل کی تعمیر کا آغاز کیا تھا جسکی تکمیل کو روک دیا گیا… میں تو نہیں آپ لوگ اہل اقتدار سے دریافت تو کیجئے کہ اب بے شک چک جھرہ اوررائے ونڈ کیلئے موٹر وے تعمیر کرتے جاتے ہیں تو کیا کچھ حرج ہے کہ دریائے گلگت پر ایک اور پل تعمیر کر دیا جائے… ہمارے ہاں بہت سے کلیشے مستعمل ہیں جنکے بارے میں قدرے روگردانی کرنا آپ کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے یا تو آپ پر غداری کی کوئی تہمت لگ جائیگی‘ جیسے اچکزئی پر لگی اور یا پھر آپکی محب الوطنی بہت ہی مشکوک ہو جائیگی‘ مثلاً ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائینگے… اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے… تو کیا اتنے برسوں سے ہم شہ رگ کے بغیر ہی اگرزندہ ہیں تو کیسے زندہ ہیں؟ اور جو شہ رگ واقعی ہے یعنی عالم پل ان کی جانب آپ توجہ ہی نہیں کرتے… یہ رگ اگر کاٹ دی گئی تو بلتستان اور سیاچن کٹ گئے عالم پل کے پار کچھ مسافت طے کرکے آپ سکردو روڈ کے چٹانی ہول میں داخل ہو جاتے ہیں… تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد’’ سسّی‘‘ نام کا ایک ہرادل بھرا مقام آجاتا ہے…

یہ تو مقامی محقق ہی کھوج کرسکتے ہیں کہ آخر سسّی پیاس کی ماری‘ اپنے صحراؤں میں بھٹکتی کیسے سکردو روڈ پر آنکلی… بلکہ شاہراہ سے ذرا ہٹ کر نہایت بھڑی ہوئی چٹانوں میں سے ایک بہت پرشور آبشار جنم لے کر گرتی چلی جاتی ہے… اگر سسّی سچ مچ کبھی ادھر آئی تھی تو وہ اپنی ازلی پیاس آبشار کے پانیوں سے بجھا سکتی تھی‘ بلکہ ان میں آشنان بھی کر سکتی تھی…ہم سسّی میں کیوں ٹھہرے… اسلئے کہ ہم بھوکے تھے اور یہاں آبشار کے نزدیک مناسب خوراک کا بندوبست تھا اور… ہم اسلئے ٹھہرے کہ یہیں سے ہماری منزل مراد کی جانب راستے بلند ہوتے تھے‘ وادی حراموش جانے کیلئے سسّی ایک بیس کیمپ تھا…

ڈاکٹر احسن کی انتظام کردہ چار حراموش جیپیں ہماری منتظر تھیں‘ سکردو روڈ کے پہلو سے ایک کچا راستہ پہاڑوں کی ویرانیوں میں اٹھتا گم ہوتا تھا… ہم سب تو جیسے ایک پکنک پر آئے تھے‘ لطیفے مل رہے تھے‘ جگتیں ہو رہی تھیں اور ہم کہاں جانتے تھے کہ ابھی کچھ لمحوں کے بعد ہم موت کے بعد کا منظر دیکھنے والے ہیں‘ کلمہ شہادت کا ورد کرنے والے ہیں‘ حراموش کی جیپوں کے کچھ ڈرائیور نامور گویے تھے‘ ایک ڈرائیور نے فخر سے بتایا کہ وہ مہدی حسن ہے میرے حصے کی جیپ کے ڈرائیور کانام غلام علی تھا اب کھلا کہ مہدی حسن اور غلام علی اگر بے پناہ متمول ہوئے تو اپنی گائیکی کی برکت سے نہیں‘ وہ تو سسّی سے حراموش کے گاؤں دسوتک اپنی جیپوں میں مسافر بھر کر لے جاتے تھے اورمنہ مانگے دام وصول کرتے تھے‘ مجھے یہاں نصرت فتح علی خان کی کمی شدید طورپر محسوس ہوئی‘ شاید وہ اپنے سراپے کے ساتھ کسی بھی جیپ کی ڈرائیونگ نشست میں سمانہیں سکتاتھا ورنہ وہ’’ آفریں آفریں‘‘ الاپتا ہمیں حراموش لے جاتا…
’’ غلام علی‘ بسم اللہ کرو…‘‘ میں نے اپنے ڈرائیور سے درخواست کی’’ چپکے چپکے رات دن گنگناتے بسم اللہ کرو‘‘

ادھر برابر کی جیپ میں براجمان تنویر مورجہ نے تان لگائی’’ چوری تو نہیں کی ہے‘ ڈاکہ تو نہیں ڈالا… تھوڑی سی جو پی لی ہے‘‘ ہماری جیپیں سکردو روڈ سے جدا ہو کر اس کچے اور تنگ راستے پر اٹھیں… کچھ دیر تو دھول اڑاتی ویرانوں میں بلند ہوتی رہیں اور پھر وہ یکدم اس دنیا سے منقطع ہو کر کسی نادیدہ دروازے میں داخل ہو کر ایک اور کائنات کے کناروں کی دھار پر رواں ہونے لگیں… ہم یوں اٹھے جیسے ہم اس جہان سے اٹھتے ہوں… ہمارے سب ہوش و حواس اور نین پر ان کے پنچھی پھر کرکے اڑ گئے… یہ چٹیل چٹانوں کی سربلند اور انکے نشیب میں بہتے کسی خاموش دریا کی کائنات تھی… ہماری جیپیں چٹانوں میں کھدے ہوئے کچے راستے سے چمٹی ہوئی تھیں اور گہرائی میں نہ صرف چٹانوں کے انبار تھے بلکہ ان کے درمیان میں بہتا کوئی دریا تھا جس کی روانی کا شور ہم تک پہنچتے خاموش ہو جاتا تھا…
یہ حراموش روڈ کو لمبیا کی مشہور زمانہ’’ ڈیتھ روڈ‘‘ کی سگی نہ سہی‘ سوتیلی بہن ضرور تھی…
یہ ایک روڈ نہ تھی‘ موت کا کنواں تھا…جس کے اندرہم گھومتے چلے جاتے تھے…
موت کے بعد مرنے کا منظر اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو سسّی سے جیپ میں سوار ہو کر حراموش کا سفر اختیار کیجئے…