بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / اقوام متحدہ اور عالم اسلام

اقوام متحدہ اور عالم اسلام


عالم اسلام میں اقوام متحدہ کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں پایا جاتا۔ اس تاثرکی بنیادی وجہ اقوام متحدہ کاعالم اسلام کے بعض دیرینہ مسائل سے چشم پوشی اور عالم اسلام کیساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی رویہ ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے اب تک عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کی باندی ہونے کاجوتاثر قائم کیاہے اس سے بھی عالم اسلام کی نظروں میں بالعموم اورپاکستانیوں کی نظروں میں بالخصوص اقوام متحدہ کی اہمیت اور حقانیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔اقوام متحدہ کے قیام کے پچھلے75 سال اس بات کے شاہد ہیں کہ بڑی طاقتوں کوجب اورجہاں ضرور ت پڑی انہوں نے اقوام متحدہ کواپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کاقیام بظاہر تو دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے تناظر میں لایاگیاتھا اور ا س عالمی ادارے کی داغ بیل ڈالتے ہوئے یہ امید باندھی گئی تھی کہ اسکے وجود میں آنے سے جہاں دنیا میں امن کاراج قائم ہوجائے گا وہاں یہ دنیا بھر میں تنازعات کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی لیکن اقوام متحدہ کی تاریخ اس خواہش کی بری طرح نفی کرتی ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی کارکردگی کااگر ایک تقابلی جائزہ لیاجائے تو کسی بھی ذی شعور فرد کو ا س نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اقوام متحدہ عالمی امن اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے اپنے مقصد میں یکسر ناکام رہی ہے۔

1979 میں جب سوویت یونین نے ایک کمزور پڑوسی ملک افغانستان پرحملہ کیا تواقوام متحدہ تماشا دیکھتی رہی حالانکہ سلامتی کونسل کے باقی چار مستقل ارکان ممالک امریکہ، فرانس،برطانیہ اورچین سوویت یونین کی افغانستان پرجارحیت کے خلاف ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے سوویت یونین کاکچھ بھی بگاڑ نہیں سکے تھے۔ اسی کی دہائی کی طرح نوے کی دہائی بھی عالمی تنازعات ہموا رکرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت رہی ہے۔ افریقی ممالک ایتھوپیا، صومالیہ، روانڈا اور انگولا کے تنازعات تو ایک طرف اقوام متحدہ نوے کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد مشرقی یورپ کے سابقہ کمیونسٹ ممالک بالخصوص یوگوسلاویہ کے انتشار اور خانہ جنگیوں کو بھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی تھی۔ اقوام متحدہ کے کردار اورخاص کر مسلمانوں کے تنازعات میں اسکی جانبداری پر اٹھنے والے سوالات کو مزید پذیرائی اس وقت ملی جب مغربی طاقتوں نے بے شرمی کی انتہا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پہلی خلیج جنگ اور دوسری خلیج جنگ کے ذریعے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی اورعالم عرب کی اس سب سے بڑی اقتصادی اور جنگی طاقت کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔ مسلم ممالک میں جنم لینے والے انسانی المیوں اور یہاں کی تباہ کن صورتحال کے ذمہ دار جہاں امریکہ اوردیگر مغربی ممالک ہیں وہاں اس تمام ترصورتحال سے اقوام متحدہ بھی خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ اقوام متحدہ کے دوغلے کردار پراٹھنے والی انگلیوں کی حقانیت کاپتا جہاں انڈونیشیا اور سوڈان سے ان کے علاقوں مشرقی تیمور اورجنوبی سوڈان کی علیحدگی کے لئے منعقد کئے جانے والے ریفرنڈم میں اقوام متحدہ کی خصوصی دلچسپی اور کردار سے چلتا ہے وہاں فلسطین اورکشمیر جیسے بین الاقوامی مسائل جن پر کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں ۔

اور جنہیں ا س وقت بھی دنیا کے خطرناک ترین فلیش پوائنٹس سمجھا جاتاہے سے اقوام متحدہ کی پچھلے ستر سالوں سے مسلسل چشم پوشی اقوام متحدہ کے وجود پر وہ بدنما دھبہ ہے جسے دھوئے بغیر اقوام متحدہ پر امت مسلمہ کے اعتماد کی بحالی ناممکن ہے ۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا تعلق چونکہ عالم اسلام کے روحانی اورنظریاتی مراکز سے ہے اوران دونوں مسئلوں سے چونکہ کروڑوں مسلمانوں کاایک قلبی اور جذباتی تعلق وابستہ ہے اسلئے اگر اقوام متحدہ چاہتی ہے کہ اس کے بارے میں مسلمانوں کا عمومی تاثر اچھا ہو تو اسے عالم اسلام کے یہ دونوں دیرینہ مسائل حل کرنا ہوں گے۔ یہ۔ اقوام متحدہ کے ماضی کے اس سرسری جائزے اورہر سال منعقد ہونے والے اسکے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے انعقاد اور اس اجلاس سے ہرسال دنیا بھر کے رہنماؤں کے پرجوش مگر لایعنی خطابات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کوایک ڈیبیٹنگ کلب سے تعبیر کرنابے جا نہ ہوگا۔ حرف آخر یہ کہ اگر اقوام متحدہ تیسری دنیا بالخصوص عالم اسلام کی نظروں میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے نہ صرف ترجیحی بنیادوں پر فلسطین اورکشمیر جیسے دیرینہ مسائل حل کرناہونگے بلکہ شام، عراق، لیبیا، یمن، افغانستان اوربرما کے مسلمانوں کے حق میں بھی موثر اور توانا آواز اٹھانا ہوگی ۔