بریکنگ نیوز
Home / کالم / اقتدار ملا تو!

اقتدار ملا تو!


سیاست میں آنے والے کی سب سے پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ بندے کو ملک کی وزارت عظمیٰ تک جلد از جلد رسائی مل جائے ۔اس میں بعض حضرات کو بہت جلدی ہوتی ہے۔ہم نے اپنے طالب علمی کے دوران دیکھا کہ سیاسی طلباء کا فائنل گول یونین کی صدارت ہوا کرتا تھا مگر اس کیلئے وہ سال اول سے ہی کوشاں ہو جاتے تھے۔ یعنی سب سے پہلے وہ جائنٹ سیکرٹری کے انتخاب میں حصہ لیتے سال دوم میں ان کا ہدف سیکرٹری کا ہوتا سال سوم میں وہ نائب صدر کا انتخاب لڑتے اور آخری سال یعنی سال چہارم میں وہ صدارتی امیدوار ہوتے ہم سے اگلے سال کے ایک مسلسل امیدور جو ہر سال انتخاب لڑتے اور ہارتے آئے تھے انہوں نے جب صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو ان کی التجا اپنے ووٹروں سے یہ تھی کہ یار خدا کیلئے تین دفعہ ہارنے والے امیدوار کو آخری دفعہ تو جتوا دو اور طلباء کو ان کی اس بات میں وزن لگا اور انہوں نے انکو صدارت کی کرسی پر لا بٹھایا۔کہنے کا مطلب یہ کہ آپ جب بھی کسی عہدے کیلئے لڑتے ہیں تو اس کے تقاضے پورے کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ہمارے ہاں بات کچھ الگ سی ہو رہی ہے۔

ہمارے پارٹی لیڈران اپنے ظرف سے کچھ زیادہ مانگ رہے ہیں یا زیادہ کی آس لگائے بیٹھے ہیں جیسے ہمارے عمران خان صاحب نے جب اپنے پہلے لاہور کے جلسے میں لوگوں کا جم غفیر مشہور و معروف گلوکاروں کا کنسرٹ سننے کے لئے اکٹھا دیکھا تو ان کا خیال یہ ہوا کہ یہ تو سونامی آ گئی۔اس کا مطلب یہ کہ وہ اگلے وزیر اعظم ہیں۔چنانچہ اس وزارت عظمیٰ کی خوش فہمی میں انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا مگر معلوم ہواکہ وہ تو اس قابل بھی نہیں ہو پائے کہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا رول بھی ادا کر سکیں۔ ان کے مشیروں کو ، جو ان کے ساتھ کیبنٹ کے امیدوار تھے، بھی جھٹکا لگا تو بات دھاندلی تک جا پہنچی۔ وہ دن اور آج کو دن محترم خان صاحب نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ بغیر اسمبلی میں اکثریت کے کوئی وزیر اعظم بن نہیں سکتا اور خان صاحب 2018 تک انتظار نہیں کر سکتے۔ اس مسئلے کا حل ابھی تک کوئی فلسفی نہیں نکال سکا۔ اب ایک دوسرے امیدوار بھی پوری تن دہی سے اس کام پر آ لگے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں وہی وزیر اعظم بنیں گے اور اس کا انہوں نے اعلان بھی کر دیا ہے اب یہ معلوم نہیں کہ اُن کو تقریر لکھ کر دینے والوں کو پاکستان کے آئین سے بھی واقفیت ہے یا نہیں کہ جس میں وزیر اعظم کے لئے کم از کم عمر کی حد پینتیس سال ہے اور وہ اب کہیں جاکر اسمبلی کے ممبربننے کی عمر کو پہنچے ہیں ہو سکتا ہے کہ اگلے انتخابات میں خان صاحب پکے امیدوار کے طور پر آ جائیں اور بلاول صاحب کو دھرنا دینا پڑے جس کی وہ ابھی سے تیاری کر رہے ہیں۔

کہ حکومت کو چار مطالبات تھما دیئے ہیں کہ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو وہ دما دم مست قلندر کریں گے مطالبات بالکل انتظامی نوعیت کے ہیں اور وہ ملک کے وزیر اعظم کے اختیارات کا وہ حصہ ہیں کہ جو وہ اپنی ہی صوابدید پر استعمال کر سکتے ہیں اور اس میں کوئی انکو مجبور نہیں کر سکتاویسے تو ہم بھی آئے روز وزیر اعظم سے ( بحیثیت کالم نویس) مطالبات کرتے رہتے ہیں مگر ہمیں اپنی حیثیت کاعلم ہے اسی لئے ہم نے آج تک وزیر اعظم کو دھرنے کی دھمکی نہیں دی ہمیں یاد ہے کہ کہ کسی معاملے میں ہم اپنے پرنسپل کے ساتھ اڑ گئے تھے تو انہوں نے ہمیں بڑے پیا ر سے سمجھایا تھا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھے ہیں اس کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اگر ہمیں بھی اس کرسی پر بیٹھنا نصیب ہوا تو لگ پتہ جائے گا تو ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ ہر منصب کے لئے ایک اہلیت کی ضرورت ہو تی ہے اور جب تک وہ اہلیت انسان میں پیدا نہ ہو جائے تو وہ اس منصب کو سوچ تو سکتا ہے وہاں بیٹھ نہیں سکتا۔ہم یہ بھی عرض کرتے رہتے ہیں کہ وہ حضرات جو بلاول صاحب کو تقرریں لکھ کر دینے کی ذمہ داری پر مامور ہیں ان کو عقل سے کام لینا چاہئے اور ایک نئے سیاسی دنیا کے مسافر کو خراب نہیں کرنا چاہئے بلاول صاحب میں شاید وہ اہلیت ہو جو ایک سربراہ مملکت میں ہوتی ہے مگر نہ تو وہ ذوالفقار بھٹو ہیں اور نہ وہ بے نظیر بھٹو ہیں۔ کسی سے خون یا دودھ کا رشتہ ہونے کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہوتا کہ اس میں وہ خصوصیات بھی ہونگی جو متعلقہ شخص میں تھیں ہمارے پی پی پی کے سارے جہاندیدہ سیاسی کارکن بلاول کو جس طرح پیش کر رہے ہیں ایسا بالکل نہیں ہے ۔