بریکنگ نیوز
Home / کالم / اچھے اور بُرے میں تمیز

اچھے اور بُرے میں تمیز

آج یہ ملک سنجیدہ سیاست کا متقاضی ہے ’گو فلاں گو‘ قسم کے بچگانہ نعرے اب عوام کو اپیل بالکل نہیں کرتے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نعرے لگانے والے خود بھی اپنے لگائے ہوئے نعروں کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے عوام کو جل دے کر وہ الیکشن میں کامیاب تو ہو گئے لیکن انہوں نے الیکشن مہم میں قوم سے جو وعدے و عید کئے ان پر انہوں نے عمل نہ کیا آج کل لاہور میں بلاول کو زرداری صاحب نے پی پی پی کے پارٹی کنونشنوں کی ڈیوٹی پر لگایا ہوا ہے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پی پی پی ورکروں کو علیحدہ علیحدہ بلاول ہاؤس لاہور کے اندر بلاول خطاب کر رہے ہیں اچھا ہوتا اگروہ تمام صوبوں کے دارالحکومتوں میں جا کر وہاں اپنے پارٹی وکروں سے ملتے بجائے ان سب کو لاہور بلانے کے‘ بلاول کا اپنا دامن تو ابھی تک کسی بھی سیاسی آلودگی سے گندہ نہیں ہوا لیکن ان کے دائیں بائیں آگے پیچھے موجود آزمائے ہوئے پی پی پی کے رہنماؤں پر جب عوام کی نظر جاتی ہے تو ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ان جیسے لوگوں کی موجودگی میں کہ جن کی کارستانیوں کی وجہ سے 2008 ء اور 2013ء کے درمیانی عرصے میں پی پی پی کا سیاسی گراف عوام میں از حد گرا بلاول آئندہ الیکشن میں اپنی پارٹی کی کشتی کو پار لگا سکیں گے؟ اب تک تو ان کے ہر فیصلے پر زرداری برانڈ کی سیاست کی چھاپ لگی نظر آتی ہے وہ اس حد تک تو بات صحیح کرتے ہیں کہ میٹرو سے پہلے روٹی کپڑا اور مکان ضروری ہے لیکن روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی اس پارٹی کے رہنماؤں نے خود اتنی زیادہ مٹی پلید کی کہ اب یہ نعرہ عوامی کشش کھو بیٹھا ہے اب بلاول کو کسی اور نعرے کی تلاش کرنا ہو گی ابھی تک اس پارٹی نے عوام کو اپنا انتخابی منشور نہیں دیا صرف زبانی کلامی کی ہے صرف لفاظی کا ہی سہارا لیا ہے پی پی پی کو کھل کر بتانا ہو گا کہ کیا اب بھی وہ سوشلسٹ نظام معیشت پر یقین کرتی ہے یاوہ سرمایہ دارانہ نظام کی داعی ہے ؟ اگر وہ ان دونوں نظاموں پر لعنت بھیجتی ہے تو پھر وہ مکسڈ اکانومی کو اپنانا چاہتی ہے ؟ ابھی تک عوام اندھیرے میں ہی ہیں لیکن یہ گلا ہم صرف پی پی پی سے ہی کیوں کریں دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی تو اب تک کھل کر عوام کو نہیں بتایا کہ اگر وہ برسر اقتدار آگئیں تو وہ اس ملک کے دو بڑے مسائل یعنی اس کی معیشت کی زبوں حالی اور کرپشن سے کیسے نبرد آزما ہوں گی ؟

سب پارٹیاں خیالی باتیں کرتی ہیں عمومیت کاری کا شکار ہیں کسی بھی مسئلہ پر واضح یا معین یا بالخصوص بالصراحت بات کرنے سے کتراتی ہیں ہمیشہ اپنے لئے فرار کا ایک رستہ رکھتی ہیں کیونکہ دل ہی دل میں وہ جانتی ہیں کہ عوام کو وہ اپنے دعوؤں کے ذریعے سبزباغ تو دکھا سکتی ہیں لیکن ان کو عملی جامہ پہنانا ان کے بس کا روگ نہیں ہمیں یاد ہے1970ء کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے جوش خطابت میں الیکشن مہم کے دوران یہ بیان دے دیا تھا کہ اگروہ اقتدار میں آ گئے تو تمام کرایہ داروں کو ان گھروں کے مالکانہ حقوق دلوا دیں گے کہ جن میں وہ رہائش پذیر ہیں جب وہ اقتدار میں آ گئے تو مردا ن میں کئی کرایہ داروں نے ان مالکان کو ماہانہ کرایہ دینا چھوڑدیا کہ جنکے مالکان کے وہ کرایہ دار تھے مالکان کو عدالتوں میں جا کر وہاں سے بیدخلی کرانے کی ڈگری حاصل کرکے ان کرایہ داروں کو اپنے مکانوں سے بیدخل کرنا پڑا ہماری دانست میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے غیر اعلانیہ الیکشن مہم شروع کر دی ہے اور کیوں نہ کریں اب وقت ہی کتنا بچا ہے بس بارہ مہینوں کی ہی تو بات ہے 2018ء میں الیکشن نے ہونا ہی ہونا ہے کیا عجب پانامہ لیکس کے کیس میں سپریم کورٹ سے ایسا فیصلہ آ جائے کہ الیکشن ایک سال قبل یعنی2017ء میں ہو جائے یہ تو طے ہے کہ جس سیاسی پارٹی نے پنجاب میں میدان مارا وہی مقدر کا سکندر کہلائے گی اس نے مرکزمیں حکومت بنانی ہے یہ بات پی پی پی کو بھی اچھی طرح پتا ہے اور (ن) لیگ او ر پی ٹی آئی کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے باد ی النظر میں پنجاب میں بالادستی حاصل کرنے کیلئے ان تین پارٹیوں میں ہی گھمسان کا رن پڑے گا ۔

پی پی پی کسی دور میں پنجاب میں اچھی بھلی سیاسی پوزیشن رکھتی تھی آج وہ وہاں ختم تو نہیں ہوئی لیکن کمزور بہت ہوئی ہے اس کے ووٹ بنک میں اگر کمی ہو ئی ہے تو اس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ پی ٹی آئی کو ملا ہے (ن) لیگ کا ایک اپنا ووٹ بنک ہے کہ جو بدستور قائم و دائم نظر آ رہا ہے جہاں تک دیگر صوبوں کا تعلق ہے وہاں نظر نہیں آرہا کہ کوئی ایک سیاسی پارٹی وہاں جاڑو پھیر سکتی ہے مختلف قسم کی پارٹیاں اپنے اپنے مخصوص سیاسی حلقوں میں نشستیں جیتیں گی اور آخر میں مخلوط حکومتیں ان صوبوں کا آئندہ بھی مستقبل ہوں گی ۔ اس ملک میں ایک نہیں کئی الیکشن ہو چکے ہیں اب عوام میں اتنا سیاسی شعور ضرور پیدا ہو جانا چاہئے کہ وہ شعبدہ باز قسم کے سیاست دان اور سیاسی پارٹیوں اور صحیح معنوں میں عوام دوست پارٹیوں کے درمیان تمیز کر سکیں۔ وہ ڈرامہ باز سیاست دانوں کے ہاتھوں ایک بار نہیں بلکہ بار بار ڈسے جا چکے ہیں یہ بات توطے ہے کہ آئندہ الیکشن میں دو مسائل پر ہر سیاسی پارٹی کھل کر بولے گی یعنی ملکی معیشت اور کرپشن کی صورتحال پر‘ یہ بات آپ کو مضحکہ خیز نظر نہیں آتی کہ آج کل بعض سیاسی پارٹیوں کے وہ رہنما بھی ملک سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے پر دعظ کر رہے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں خود بہتی گنگا میں اشنان کیا ہے اور جی بھر کے اپنی ذاتی تجوریاں بھری ہیں اور اتنی بھری ہیں کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک اپنی پراپرٹی بنائی ہے کہ اگر ان کی سات نسلیں بھی کوئی کام نہ کریں اور وہ آرام سے گھر بیٹھ کر ان کو کھائیں تو تب بھی ختم نہ ہوں گی قوم میں اب اتنا شعور ضرور ہونا چاہئے کہ وہ گھوڑے اور گدھے میں تمیز کر سکیں۔