بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس


خارجہ امور کیلئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے بھارت کے شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے مندوبین کے اعزاز میں دیئے جانیوالے عشائیہ میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں چند خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا، سرتاج عزیز نے بھارتی وزیرخارجہ کیلئے گلدستہ بھی بھجوایا جو علالت کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں بھارت اس سے پہلے پاکستان کیساتھ مذاکرات سے انکار کرچکا ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ بھارت اگر امن کی خواہش رکھتا ہے تو بات چیت کے مواقع ضائع نہ کرے تاہم اس سب کیساتھ یہ بھی واضح کیاگیا ہے کہ امن کیلئے پاکستان کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے، بھارت کی جانب سے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کے باوجود پاکستان کا ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شریک ہونا افغانستان اور خطے میں امن کے قیام کی خواہش کا عکاس ہے۔

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن کا قیام، ترقی اور استحکام ہے جس میں شریک ہونے والے ممالک کی تعداد چالیس سے زائد ہے، پاکستان افغانستان کے حالات سے متاثر ہونیوالا ملک ہے، افغانستان پر روسی یلغار سے لیکر آج تک پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کیساتھ معیشت کے حوالے سے بھی بڑے نقصان کا سامنا کررہا ہے خیبرپختونخوا میں تو لوگوں نے اپنا سرمایہ تک دوسرے صوبوں کو منتقل کیا، اس سب کیساتھ پاکستان افغانستان میں مصالحتی کوششوں میں بھی سرگرم رہا اور مذاکراتی عمل میں میزبانی تک کی، افغانستان اور بھارت کیساتھ اچھی ہمسائیگی سے متعلق پاکستان کا موقف ہمیشہ سے اصولی اور مثبت رہا ہے، ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کی شرکت بھی افغانستان میں امن واستحکام کے خواہش کی مظہر ہے، ضرورت بھارت اور افغانستان سمیت عالمی برادری کو پاکستان کے موقف کو سپورٹ کرنے کی ہے تاکہ پورے خطے میں امن کا قیام ممکن ہو، اس سب کیساتھ اقوام متحدہ کو بھی کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

غیر معیاری ادویات کا خاتمہ؟

ذمہ دار اداروں نے ادویہ ساز کمپنیوں سے مراعات حاصل کرنیوالے ڈاکٹروں کا ڈیٹا مرتب کرلیا ہے جس کی تفصیلات محکمہ صحت کو بھی ارسال کردی گئی ہیں، وطن عزیز میں جعلی اور دونمبر ادویات کی فروخت ہمیشہ سے قابل تشویش رہی ہے، عام شہری کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ بعض ڈاکٹر خود غیر معیاری اداروں کی تیار کردہ ادویات تجویز کرتے ہیں، اپنے اثاثے فروخت کرکے علاج کیلئے آنیوالے مریضوں کے غیر معیاری لیبارٹری ٹیسٹ کروانے اور گھٹیااداروں کی تیار کردہ ادویات تجویز کرنا سراسر زیادتی ہے، اس زیادتی کا سدباب اس صورت ممکن ہے کہ حکومتی سطح پر کسی بھی کاروائی میں ادویہ ساز اداروں، ڈاکٹرز اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کے نمائندہ افراد کو شریک کیاجائے، اس سے نہ صرف ذمہ دار اداروں کو نشاندہی میں مدد ملے گی بلکہ کسی کریک ڈاؤن پر احتجاج کا جواز نہیں رہے گا، خیبرپختونخوا کی حد تک وزیراعلیٰ خود جعلی ادویات کی فروخت کے مکروہ دھندے کی بیخ کنی کا کہہ چکے ہیں جس پر عمل درآمد کیلئے موثر حکمت عملی ناگزیر ہے۔