بریکنگ نیوز
Home / کالم / ذکر کچھ خصوصی افراد کا

ذکر کچھ خصوصی افراد کا

خصوصی افراد کاعالمی دن ( تین دسمبر) آیا اور گزر گیا۔ذہنی و جسمانی معذوری کے حامل افراد کا عالمی دن منانے کا سلسلہ تین دسمبر 1992ء سے شروع ہوا اور اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سال کے اس ایک دن مذکورہ افراد کو درپیش مسائل و مشکلات اور انکے حل کیلئے مختلف سطحوں پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور اس ضمن میں آئندہ سال کے اہداف طے کئے جائیں دنیا کے بیشتر ممالک خصوصی افرادکی نگہداشت اور انہیں معاشرے کے صحت مند و فعال اراکین بنانے کے حوالے سے اتنا آگے جا چکے ہیں کہ اب ان ممالک میں اِس دن کی خاص بات ان خصوصی افراد کو اعزازات سے نوازنا ہوتا ہے جنہوں نے پچھلے ایک سال کے دوران مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دےئے ہوں لیکن پاکستان میں تاحال اس دن کی اہمیت صرف معذوری اور معذوروں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور حکومت کی توجہ انکے حقوق کی ادائیگی کی جانب مبذول کرانے کے ایک موقعے سے زیادہ نہیں ایسے اداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو خصوصی طور پر مختلف معذوریوں کے شکار افراد کے علاج ، دیکھ بھال ، انہیں درپیش مسائل کے حل اور انہیں معاشرے کا کارآمد و فعال رکن بننے میں مدد دینے کیلئے کام کر رہے ہیں ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار افراد کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ کوئی الگ ہی مخلوق ہیں اور انکا عام معمولات زندگی سے کوئی تعلق نہیں شعور و آگاہی کی کمی کا یہ حال ہے کہ کہیں تو معذور بچوں کے والدین انہیں قدرت کی خصوصی نشانی قرار دیکر جوں کا توں رکھنے کو ثواب سمجھتے ہوئے انکی ذہنی و جسمانی حالت میں بہتری لانے کی کوشش ہی نہیں کرتے انہیں نارمل بچوں جیسے حقوق مثلاََ تعلیم وتفریح ، علاج معالجے کے مواقع اور جائیداد میں حصے وغیرہ سے محروم رکھا جاتا ہے اور اگر کہیں والدین میں اپنے معذور بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کا جذبہ سامنے آتا بھی ہے تو آس پاس کے لوگوں کی جانب سے حوصلہ شکنی اور سرکاری سطح پر سہولیات کی عدم دستیابی اس جذبے کو پروان چڑھنے نہیں دیتی۔

سرکاری و معاشرتی سطح پر بے توجہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر معذور افراد کے مصائب و آلام زندگی بھر انکے ساتھ رہتے ہیں جبکہ والدین کے انتقال کے بعدان افراد کیلئے معمولات زندگی مزید تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ’’ذہنی و جسمانی معذوریوں میں اضافے کی اہم ترین وجہ نسل در نسل خاندان اور قوم قبیلے کے اندر شادیاں کرنے کا رواج ہے لیکن اس رواج میں تبدیلی لانے کیلئے مؤثر کوششوں کاتا حال فقدان ہے ماہرین کی تجاویز ہیں کہ’ ایک تو سرکاری سطح پر ہیلتھ پالیسیاں تشکیل دیتے وقت ماڈرن میڈیسن کے مختلف شعبوں کے تقاضوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے اورپالیسی ساز اداروں میں فزیو تھراپسٹ سمیت دیگر شعبوں کے ماہرین کو بھی نمائندگی دی جائے دوسرے کم از کم ہرتحصیل کی سطح پربحالی مراکز اورسپیشل ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں تاکہ معذور افراد کیلئے تعلیم حاصل کرنے اور بحالی مراکز سے استفادے کے مواقع پیدا ہوں تیسرے تمام پبلک مقامات بالخصوص ہسپتالوں ، سکولوں، مساجداور تفریح گاہوں وغیرہ میں معذور افراد کی وہیل چیرز پر آمد و رفت ممکن بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

یہ کام کرنا(یو این سی آر پی ڈی) کے کنونشن کے تحت بھی حکومت پاکستان کیلئے لازمی ہے علاوہ ازیں معذور افراد کیلئے بیرونی ممالک سے منگوائے جانے والے خصوصی آلات اور گاڑیوں وغیرہ پر ٹیکسوں کی چھوٹ بھی دی جانی چاہئے ‘۔ خصوصی افراد کا عالمی دن شعبہ طب سے وابستہ خواتین و حضرات ، حکمران طبقے ، بیوروکریٹس اور عام عوام کو یہ پیغام دے کر گیا ہے کہ خصوصی افراد کو حقیقی معنوں میں’’خصوصی‘‘ ہونے کا احساس دلانے کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت ان تک زیادہ سے زیادہ آسانیوں اور سہولتوں کی رسائی ناگزیر ہے ۔لہٰذا نہ صرف ان عوامل کے تدارک پر توجہ دی جائے جو معذور افراد کو جنم دینے یا صحت مند افراد میں معذوریاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خصوصی افراد کی دیکھ بھال ، علاج معالجے اور بحالی سے متعلق فرائض کی ادائیگی کو بھی ہر سطح پر ترجیحات کا حصہ بنایا جائے۔