بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارت کی چالیں!

بھارت کی چالیں!

بھارت نے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے ایک فوجی حکمت عملی تیار کی جس پر سال 1984ء سے 2004ء تک عمل درآمد کیا گیا۔ اِس حکمت عملی کہ جسے جنرل کرشنا سوامی سندراجی کے نام کی وجہ سے ’سندراجی ڈاکٹرائن‘ بھی کہا جاتا ہے کے تحت فوج کے سات ایسے دستے تیار کئے گئے جنہیں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھاری گولہ باری کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنا تھے۔ اِن سات فوجی دستوں میں تین حملہ آور جبکہ باقی کو دفاعی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ایسے دستے جنہیں بھارتی سرزمین پر جم کر رہنا تھا انہیں پاکستانی سرحدی علاقوں کے ساتھ تعینات کیا گیا جبکہ حملہ آور دستوں کو بھارت کے مرکزی حصوں (سنٹرل انڈیا) میں رکھا گیا۔ حملہ آور دستے میں ماتھورا‘ امبالا اُور بھوپال کے دستے بھاری توپخانے اور ہتھیاروں سے لیس تھے۔ حملہ آور فوجی دستوں کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پاکستان کے اندر گھس جائیں اور ایک نہایت ہی بڑے پیمانے پر جنگی مہم جوئی کریں جو پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دے۔ بھارت کی یہ جنگی تیاریاں اپنی جگہ لیکن 13 دسمبر 2001ء کی صبح گیارہ بجکر تیس منٹ پر پانچ دہشت گرد جو کہ کلاشنکوف رائفلوں‘ ہینڈ گرنیڈ اُور گرنیڈ لانچرز سے لیس تھے‘ بھارتی پارلیمنٹ‘ پر حملہ آور ہو گئے۔ اِس دہشت گرد حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے لیکن قابل ذکر بات یہ تھی کہ اِس حملے کے چند منٹ کے اندر ہی بھارت نے پاکستان کو اِس کے لئے ذمہ دار قرار دے دیا۔ جنوری 2002ء تک بھارت نے اپنے 5 لاکھ فوجیوں اور تین ہتھیار بند دستوں کو پاکستان سے جڑے سرحدی علاقوں کی طرف بھیجا اور اِس کے جواب میں پاکستان نے بھی 3 لاکھ فوجی تعینات کر دیئے۔

قبل ازیں ’سندرجی ڈاکٹرائن‘ کی طرح بھارت کی یکے بعد دیگرے کئی فوجی مہم جوئیاں ناکام ہوئیں۔ بھارت کو اٹھائیس دن لگے جب اس نے اپنے فوجی پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ تعینات کئے اور یہی وجہ تھی کہ بھارتی سوچ ناکام ہوگئی کیونکہ اِس قدر بڑے پیمانے پر فوجی دستوں کو سرحدی علاقوں میں تعینات کرنے سے راز کھل گیا۔ بھارت نے فوجی دستے تعینات کرنے پر 3.2 ارب ڈالر خرچ کئے جبکہ پاکستان نے جواباً فوجی دستے تعینات کئے جس پر 1.4ارب ڈالر خرچ ہوئے۔سندرجی ڈاکٹرائن کی ناکامی کے بعد بھارتی جرنیلوں نے نئی فوجی حکمت عملی تیار کی جسے سرد رکھا گیا یعنی فوجیوں کی نقل و حرکت بڑے اور نمایاں پیمانے پر نہیں کی گئی۔ نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان کے اندر زیادہ دور تک گھسنے کی بجائے خاص اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن یہ فوجی حکمت عملی بھی ناکام ثابت ہوئی کیونکہ اِس کے جواب میں پاکستان نے میجر جنرل بلال اکبر کی تیار کردہ حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جو قبل ازیں ’عزم نو‘ نامی فوجی مشقوں میں تجرباتی طور پر آزما لی گئی تھی۔ پاکستان نے جوہری ہتھیار لے جانے والے بیلسٹک میزائل اور حتف میزائل نصب کئے تو بھارت کی یہ دوسری فوجی حکمت عملی بھی ناکام ثابت ہوئی۔نریندر مودی نے 26مئی 2014ء کو بھارت کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور اس کے بعد سے ان کی سوچ ’نریندر ڈاکٹرائن‘ کے نام سے رائج ہے۔ اِس نریندر ڈاکٹرائن کے تین بنیادی جز ہیں۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنا۔

پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی سرپرستی کرنا‘ انہیں مالی وسائل اور افرادی قوت و تربیت فراہم کرنے کے ذریعے پاکستان کو داخلی طور پر انتشار کا شکار کرنا بھی بھارتی وزیراعظم کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور تیسرا بنیادی جز یہ ہے کہ پاکستانی فوج کو بھارت و افغانستان کے سرحدی علاقوں میں الجھائے رکھنا تاکہ وہ ملک کے اندر جاری انتشار کو کچلنے کی طرف توجہ مبذول نہ کر سکے۔اگر ہم بھارتی فوج کی حکمت عملی کا جائزہ لیں تو اس کے بھی تین بنیادی اہداف ہیں۔ پاکستان فتح کرنا‘ پاکستان کو تقسیم کرنا اور پاک فوج کی جنگی صلاحیت کو تباہ کرنا۔ سندرجی ڈاکٹرائن پاکستان کو تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا جو ناکام ہوا۔ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن پاکستان پر حملہ آور ہونے کی حکمت عملی تھی اور یہ بھی ناکام ہوئی۔ سردست پاکستان کو ’مودی ڈوال ڈاکٹرائن‘ کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)