بریکنگ نیوز
Home / کالم / غیروں کی وکالت کرنا چھوڑ دیں

غیروں کی وکالت کرنا چھوڑ دیں


ہمارے بعض سیاسی رہنماؤں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ‘ انہیں اپنے پڑوس میں بھارتی مسلمانوں پر ہندوؤں کا ظلم و ستم بالکل نظر نہیں آتا ۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اگر کوئی تنازعہ کھڑا ہو جائے تو تب بھی اگر وہ بولیں گے تو ایسا بولیں گے کہ جیسے پاکستان کے بجائے وہ افغانستان کی وکالت کر رہے ہوں ۔ عوام کو اب تو ان کو کم از کم جان لینا چاہئے پہچان لینا چاہئے جب بھی کبھی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ فلاں تاریخ تک افغان مہاجرین کو باعزت طور پر سفر خرچ اور مناسب الاؤنس دیکر اپنے وطن رخصت کر دیا جائے گا تو ہمارے بعض سیاسی رہنما یکدم بیچ میں کود کر حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ ان کا پاکستان میں قیام کا وقفہ بڑھا دیا جائے آخر کیوں ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ان افغان مہاجرین کو افغانستان سے انکے عزیز اوقارب اکثر ملنے آتے ہیں نہ جانے ان کی صفوں میں کتنے خود کش حملہ آور اور بھارتی ایجنٹ بھی شامل ہوتے ہوں؟ کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ حامد کرزئی سے لیکر عبداللہ عبداللہ تک تقریباً تمام افغان لیڈر اپنے دل میں بھارت کیلئے تو نرم گوشتہ رکھتے ہیں لیکن پاکستان کوحقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں افغانستان کے تمام لیڈر اکثر یہ شور مچاتے ہیں کہ افغانستان کے اندر جو دہشت گردی ہوتی ہے و ہ پاکستان کی طرف سے لوگ بارڈر کراس کرکے کرتے ہیں جب پاکستان افغانستان سے کہتا ہے کہ آؤ دونوں مل کر اپنے بارڈر پر سخت گیر قسم کی چیک پوسٹیں بناتے ہیں تاکہ کوئی دہشت گرد نہ افغانستان سے پاکستان آ سکے اور نہ پاکستان سے افغانستان تو پھر افغان حکمران ان چیک پوسٹوں کی تعمیر پر بھی شور و غوغا کرتے ہیں افغانستا ن ان چیک پوسٹوں کے قیام کا اس لئے مخالف ہے کہ اس کا مربی بھارت اس کا مخالف ہے بھارت تو ڈھیلے قسم کابارڈر چاہتا ہے تاکہ جن لوگوں کو وہ تنخواہ دیتا ہے وہ با آسانی بارڈر کراس کرکے پاکستان کے اندر جا کر وہاں دہشت گردی کی کاروائیاں کر آئیں‘ اگر ہمارے یہ سیاسی رہنما جو ہر بات میں افغانستان کی وکالت کرتے ہیں۔

حالانکہ وہ کھاتے پیتے پاکستان میں ہیں آپس میں ایکا کر لیں اور حکومت پاکستان پر یہ سیاسی دباؤ ڈالیں کہ وہ پاک افغان بارڈر پر جگہ جگہ فوجی پکٹیں بنا دے تو تب ہم مانیں گے کہ ان پر جو اس ملک کی مٹی کا قرض تھا وہ انہوں نے ادا کر دیا ہے وہ اس ملک میں پیدا ہوئے اور ایک دن انہوں نے اس مٹی کے اندر دفن ہونا ہے ۔ ہر پاکستانی کو اس بات پر بھی دکھ ہے کہ نہ جانے اس خطے کے مسلمان ممالک کا خون کیوں سفید ہو گیا ہے کشمیر میں بھارتی ایسی چھرے دار بندوقیں استعمال کر رہے ہیں کہ جن کی فائرنگ سے نہتے کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی جا رہی ہے نہ افغانستان اس بربریت پر منہ کھولتا ہے اور نہ اس خطے کے دوسرے مسلمان ممالک‘ ترکی نے چلو یہ بھی اچھا کیا کہ اقوام متحدہ میں یہ مطالبہ کر دیا کہ ایک Fact Finding مشن مقبوضہ کشمیر بھجوایا جائے گو بھارت کبھی بھی اس قسم کے مشن کو سری نگر جانے نہ دے گا ۔

او آئی سی میں50 سے زیادہ مسلمان ممالک شامل ہیں اس معاملے میں ان میں بھی کوئی امنگ نظر نہیں آتی بس کبھی کبھار زبانی جمع خرچ کر لیتے ہیں ۔ کوئی مسلمان ملک اگر کسی مظلوم مسلمان کمیونٹی کیلئے اپنی آواز بلند نہ کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ ان ممالک کے سربراہان ہر معاملے میں امریکہ یا روس کی خوشنودی کیلئے کام کر تے ہیں او ر وہ کوئی ایسا کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ جس سے واشنگٹن یا ماسکو نالاں ہوں اب کی مرتبہ خلاف توقع اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلے پر ڈٹ کر بیان دے دیا۔ ورنہ کل تک ان کا بھارت کے ساتھ رویہ معذرت خواہانہ تھا واقفان حال کا کہنا ہے کہ وزیراعظم صاحب بھانپ گئے تھے کہ اگر انہوں نے کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ نہ بنایا تو ہو سکتا ہے پاکستان کے عوام ان سے ناراض ہو جائیں لہٰذا ان کواقوام متحدہ میں سخت رویہ اختیار کرنا پڑا۔