بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کراچی، ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی سے 11افراد ہلاک،70زخمی

کراچی، ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی سے 11افراد ہلاک،70زخمی

کراچی۔ شارع فیصل پر واقع ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آگ لگنے کے واقعے میں جھلسنے اور دم گھٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے، 30زخمیوں کی حالت نازک ہے،جاں بحق افراد میں چار خواتین اور تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں،قومی کرکٹرز بھی متاثر ہوئے۔کولنگ کا عمل مکمل کرکے ہوٹل کی تمام منزلیں کلیئر کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق نجی ہوٹل میں آتشزدگی کا واقعہ رات گئے پیش آیا، آگ ہوٹل کے گرانڈ فلور پر واقع کچن میں لگی، جس نے آہستہ آہستہ ہوٹل کی 6 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث ہوٹل میں مقیم سیکڑوں افراد محصور ہوگئے۔آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی تین گاڑیاں اور اسنارکل موقع پر پہنچے۔

جس کے بعد محصور افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔عمارت میں دھواں بھرجانے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا رہا تاہم فائر بریگیڈ حکام نے آگ پر تقریبا 3 گھنٹے بعد قابو پالیا، گھنٹوں تک عمارت میں محصور رہنے کے باعث جھلسنے اور دم گھٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے۔ریسکیو حکام کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، لاشوں و زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔آگ لگنے کے بعد ہوٹل میں مقیم کئی افراد نے کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی، چھلانگ لگانے والے افراد میں سے کئی افراد کو شدید چوٹیں آئیں، جنہیں تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔جناح میڈیکل ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونیوالوں میں 2 غیرملکی اور 2 ڈاکٹرز شامل ہیں، جب کہ 4 خواتین سمیت 10 افراد کی لاشیں جناح ہسپتال لائی گئیں۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق عمارت میں دھواں بھر جانے سے 65 سے زائد افراد متاثر ہوئے، کئی افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ہوٹل کو کلیئر کرانے کے لیے آپریشن جاری ہے،قائد اعظم ٹرافی کھیلنے کے لیے کراچی میں موجود انٹرنیشنل کرکٹر صہیب مقصود اور دیگر کھلاڑی بھی متاثر ہوئے ہیں،کرکٹر یاسم مرتضی دوسری منزل سے چھلانگ لگانے سے زخمی ہو گئے، کرکٹر کرامت علی کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ ہوٹل میں پھنسے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔فیصل ایدھی کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد13تک ہے۔آگ ہوٹل کی چھٹی منزل پر لگی جس میں زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے اور جھلسنے سے ہوئیں،امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی ، فائر بریگیڈ کے تین فائر ٹینڈرز نے دو گھنٹے سے زائد وقت میں آگ پر قابو پالیا تھا۔ تاہم شدید دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی۔عمارت میں پھنسے لوگوں کو صرف ایک اسنارکل کی مدد سے نکالا جاتا رہا۔ کئی افراد نے کمبل اور چادر کی مدد سے اترنے کی کوشش کی جنہیں انتظامیہ نے روک دیا۔

ایک شخص پردے سے لٹک کر نچلی منزل پراترا۔ ہوٹل میں موجود عوام نے شکایت کی کہ ریسکیو کا عمل بہت سست ہے جس کے باعث عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ایس ایس پی ساوتھ ثاقب اسماعیل میمن اور میئر کراچی وسیم اختر بھی ریسکیو کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔میئر کراچی وسیم اختر نے متاثرہ ہوٹل کا دورہ کیا اور ہوٹل میں آگ لگنے جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے نامناسب انتظامات پر برہمی کا اظہار کیا۔وسیم اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پہنچنے سے پہلی ہی ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی تھیں، فوری طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آگ کیسے لگی۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ آگ ہوٹل کے کچن میں لگی ، اے سی سسٹم کی وجہ سے دھواں کمروں اور دیگر حصوں میں پھیلا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کراچی میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، گزشتہ ماہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ٹرمینل پر کھڑے آئل ٹینکر میں آگ لگ جانے کے باعث بھی 2 افراد جھلس کر جاں بحق ہوئے تھے۔کراچی کی تاریخ میں آتشزدگی کا بدترین واقعہ 2012 میں پیش آیا تھا، جب گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 289 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گزشتہ برس بھی کراچی کے علاقے شیرشاہ میں ٹائروں کے گودام میں آگ لگ گئی تھی، جس پر بھی کئی گھنٹوں کے بعد قابو پایا گیا تھا۔کراچی کے علاوہ بھی ملک میں آگ لگنے کے بدترین واقعے پیش آتے رہے ہیں، جس کی تازہ مثال گزشتہ ماہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں تیل بردار جہاز میں لگنے والی آگ ہے، گڈانی شپ یارڈ میں ناکارہ تیل بردار جہاز کو توڑتے وقت آگ لگ گئی تھی، جس میں 19 سے زائد مزدور جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔