بریکنگ نیوز
Home / کالم / فوری توجہ طلب دو مسائل

فوری توجہ طلب دو مسائل


اگلے روز فاٹا اصلاحات کے بارے میں پشاور میں ایک سیمینار منعقد ہونا تھا وہ سیمینار ایک ہنگامے کی نذر ہو گیا جب اس کے شرکاء آپس میں الجھ پڑے اور گتھم گتھا ہو گئے اس افسوسناک واقعہ کا کیا مطلب تھا ؟ نظر یہ آ رہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کے ضمن میں جو سفارشات حکومت کے قائم کردہ کمیشن نے مرتب کی ہیں ان پر ہمارے بعض قبائل کے سنگین تحفظات ہیں بے شک ایک طبقہ ایسا ہے کہ جو شاید ان سفارشات میں بعض جگہ معمولی ترمیم کے بعد انہیں فاٹا میں لاگو کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو لیکن کئی قبائلی بھائی ایسے بھی ہیں کہ جو اس مسئلے پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں او ر مردم شماری پر بھی زور دے رہے ہیں انکے نزدیک ریفرنڈم ہی ایک مستند اور یقینی رستہ ہے کہ جسکے ذریعے قبائل کے جذبات ‘احساسات اور مطالبات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان کے مطابق کمیشن اور کمیٹی کی رپورٹس ریفرنڈم کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں ہماری دانست میں انکے اس موقف میں کافی وزن ہے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ایک آدھ مہینے میں پہلے فاٹا میں مردم شماری کرالی جائے اور اسکے بعد فوری طور پر ریفرنڈم ‘ جہاں آپ نے اتنا انتظار کیا وہاں پانچ چھ ماہ کا مزید انتظار کوئی معنی نہیں رکھتا ریفرنڈم میں جو سوالات قبائلی بھائیوں سے پوچھے جائیں وہ سادہ اور غیر مبہم ہوں مثلاً ان سے یہ ضرور پوچھا جائے کہ موجودہ اجتماعی علاقائی قبائلی مشترکہ ذمہ داری کے نظام کو ترک کرنے کو تیار ہیں کہ جس کے تحت انکے روز مرہ کے معاملات آج کل چلائے جا رہے ہیں اور اگروہ اس بات پر تیار ہیں تو کیا اسکے بدلے میں انہیں وہ پولیس ریونیو اور سول اور دیوانی عدالتوں کا نظام منظور ہے کہ جو بندوبستی علاقوں میں لاگو ہے ؟

جہاں تک ہماری معلومات ہیں قبائلیوں کی ایک اکثریت کے بندوبستی علاقوں میں رانج نظام پر شدید تحفظات ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں اپنے رواجی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں کہ جس میں انکے مقدمات کے فیصلے جلد ہو جاتے ہیں اور ان کو وکلاء کو موٹی موٹی فیسیں دینا پڑتی ہیں اور نہ سالوں سال عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور پھر اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم ابھی تک دہشتگردی کے بحران سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلے اس وقت حکومت کو اپنے لئے نئے مسائل نہیں کھڑے کرنے چاہئیں سردست پہلے مرحلے میں ڈیورنڈ لائن کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں اور ساتھ ہی ساتھ فاٹا میں فزیکل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کی ضرورت ہے اور اب ہم آتے ہیں ۔

ایک اہم معاشی مسئلے کی طرف‘ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس ملک کے کئی سیاستدانوں اور ان کے منظور نظر افرادنے ماضی میں نیشنل بینک آف پاکستان اور دیگرنجی بینکوں سے اپنے سیاسی زور اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کروڑوں کے قرضے وصول کئے جو وہ بغیر ڈکار لئے ہضم کر گئے اگلے روز اس خبر نے ہمیں چونکا دیا کہ سٹیٹ بینک نے پارلیمنٹ کو اس قسم کے قرضوں کی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کیلئے یہ مضحکہ خیز جواز دیا ہے کہ وہ قانون کے تحت اس قسم کی معلومات فراہم نہیں کر سکتے بھئی اگر کوئی ایسا قانون ہے تو اسے فوراً منسوخ ہونا چاہئے بینکوں کے قرضے کوئی ملٹری سیکرٹ نہیں کہ جو چھپائے جائیں جب خفیہ ایجنسیوں کو ان قرضوں کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ د ی جا سکتی ہے تو ان کو عوام سے چھپانے میں کون سا قومی مفاد ہے دراصل بات یہ ہے کہ حکمران لوگوں کو یہ نہیں بتانا چاہتے کہ وہ اور ان کے حواری کن کن حربوں سے غریب عوام کے پیسے کو لوٹتے ہیں۔