بریکنگ نیوز
Home / کالم / اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ایچ ای سی کا کردار

اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ایچ ای سی کا کردار

ہائرایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مختاراحمدنے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں سمارٹ یونیورسٹی سسٹم اور ایڈمن بلاک کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چند سال کے دوران وفاقی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کی ترویج وترقی پرماضی سے کئی گنا بڑھ کر رقم خرچ کی ہے ان کا کہنا تھاکہ پسماندہ علاقوں کے طلباء وطالبات کیلئے وزیر اعظم فیس ری امبرسمنٹ اور لیپ ٹاپ سکیم سے اب تک لاکھوں طلباء وطالبات مستفید ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ پچھلے چند سال کے دوران ہمارے ہاں تحقیقی سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ ہواہے جس سے مختلف شعبوں میں معیاری تحقیق کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ پروفیسر مختار احمد کاکہنا تھاکہ ہائرایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں پچھلے دوسال کے دوران دوگنا اضافہ ہواہے اوراس سال وفاقی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کیلئے98 ارب روپے مختص کئے ہیں جس سے جامعات کے مالی مسائل پرکافی حد تک قابو پانے میں مددملے گی انہوں نے کے ایم یو انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پرفراہم کئے جائیں گے یہاں اس امر کی نشاندہی اہمیت کی حامل ہے کہ کے ایم یو خیبرپختونخوا کی پہلی یونیورسٹی ہے جسے ایچ ای سی کے سمارٹ یونیورسٹی سسٹم کیساتھ منسلک کیاگیاہے یہ سسٹم 24گھنٹے پورے کیمپس میں انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کریگا جس سے فیکلٹی کے علاوہ طلباء وطالبات بھی براہِ راست استفادہ کرسکیں گے جس سے نہ صرف فیکلٹی کی کارکردگی میں اضافہ ہوگابلکہ اس سے طلباء وطالبات کوبھی ایک ہی چھت تلے انٹر نیٹ سے متعلق تمام سہولیات دستیاب ہونگی۔

اعلیٰ تعلیم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد علم وتحقیق کو فروغ دینا ہے۔بین الاقوامی دنیا میں جامعات کی رینکنگ کا انحصار تحقیقی وجستجو کے ذریعے نئے علوم کی دریافت کو قراردیا جاتا ہے۔اسلام میں تحقیق کو ایک خاص مقا م اور مرتبہ حاصل ہے۔قرآن پاک میں حضرت انسان کو بار بار تحقیق وجستجو کے ذریعے تسخیر کائنات کا حکم دیا گیاہے۔کسی زمانے میں علم وتحقیق پر مسلمانوں کی اجارہ داری تھی یہ وہ دور تھا جب چہار سو مسلمانوں کی کامیابیوں کے چرچے تھے اور ہر جانب ان کی علمی اور تحقیقی کارناموں کے ڈنکے بجتے تھے اور مسلمان سر فخر سے بلند کر کے آدھی سے زیادہ دنیا پرحکمران تھے لیکن جب مسلمانوں نے اس میدان میں پسپائی اختیار کرتے ہوئے یہ میدان غیروں کے لئے خالی کردیا تو دیکھتے ہی دیکھتے مسلمان علم وتحقیق پر حکمرانی کے علاوہ جاہ ومنزلت کے مرتبے سے بھی محروم ہو گئے اور اب دنیا پر ان اقوام کا غلبہ ہے اور دنیا میں ان قوموں کا سکہ چلتا ہے جن کے ہاں دن رات علم اور تحقیق کے چراغ روشن رہتے ہیں جس کی لو سے پوری قوم کو توانائی اور حرارت ملتی ہے۔ہمارے ہاں کچھ عرصے سے علم وتحقیق کو ایک لایعنی مشق سمجھتے ہوئے پس پشت دال دیا گیا تھا اور بالخصوص حکومتی سطح پر تو اس جانب کوئی بھی توجہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آ رہاتھالیکن 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وجود میں آنے اور اسکی قیادت پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان جیسے مخلص اور قومی جذبے سے سرشارمحقق اور سائنسدان کو ملنے کے بعد ہمارے ہاں نہ صرف پہلی دفعہ اعلیٰ تعلیم کو خاطر خواہ توجہ دی گئی بلکہ اس ضمن میں خطیر فنڈز بھی مختص کئے گئے واضح رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ تعلیمی ادارے ملکوں کی قومی مجموعی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہونے والی تحقیق کو ملکی ترقی کے ایجنڈے کے تحت بروئے کار لایا جاتا ہے ہمارے ہاں ایچ ای سی جیسے اداروں کے قیام سے نہ صرف علم و تحقیق کے ایک نئے کلچر کو فروغ حاصل ہوا ہے بلکہ اس سوچ اور طرز عمل کے ذریعے پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے تن مرد ہ میں ایک نئی روح بھی پھونک دی گئی ہے جس پر ایچ ای سی اور اس کے بانی اور موجودہ چیئرمین نہ صرف مبارکبادکے مستحق ہیں بلکہ ان کے وژن اور سوچ کے مطابق جامعات میں جاری تحقیق کوبین الاقوامی معیار اور ہماری قومی ضروریات اور مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق بھی بنانے کی ضرورت ہے‘جامعات میں فروغ پذیر حالیہ تحقیقی کلچر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہمار ی جامعات نے اپنے آپ کو کلاس روم‘ لیکچر‘ امتحانات اور ڈگریوں کی بندر بانٹ تک محدود کر رکھا تھا لائبریری ‘ لیبارٹری،تحقیقی مضامین،تحقیقی معیار اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے کلچر کا فروغ محض خام خیالی تھی لیکن اب ایچ ای سی جیسے اداروں کی رہنمائی اور مانیٹرنگ کی وجہ سے تحقیقی سرگرمیوں کو جامعات کی اجتمائی سرگرمیوں میں مرکزی مقام حاصل ہو رہا ہے جس کا اثر اگر ایک طرف ہماری جامعات کی بین الاقوامی رینکنگ پر پڑا ہے تو دوسری جانب ہمارے ہاں ہزاروں پی ایچ ڈی پیدا ہونے سے ہم مارکیٹ کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے قابل بھی ہوئے ہیں جس کا سہرا یقیناایچ ای سی کے سر ہے۔