بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہارٹ آف ایشیا کانفرنس:نتیجہ خیزی؟

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس:نتیجہ خیزی؟

سب کچھ توقعات کے عین مطابق ہوا جس پر زیادہ حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے افغانستان میں پائیدار قیام امن کیلئے وزارتی سطح کا اجلاس (ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس) کا انعقاد بھارت کے شہر امرتسر میں ہوا‘ جس میں پاکستان کی نمائندگی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے کانفرنس کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا اور دونوں رہنماؤں نے دہشتگردی کے معاملے پر پاکستان پر شدید تنقید کی امرتسر میں کانفرنس کے موقع پر سکھوں نے اپنے اوپر ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ’آزاد خالصتان‘ کا مطالبہ کیا اور انہوں نے بھارت کے زیرتسلط کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو موضوع بناتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا‘ جو سکھوں کی جانب سے بھارتی بربریت کے خلاف آئے روز کا معمول ہے‘ تاہم اس مرتبہ بھارت کے اسی شہر (امرتسر) میں مظاہرے ہوئے جہاں عالمی کانفرنس ہو رہی تھی اور جہاں بھارت دوسروں کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا لیکن خود اسکی اپنی حرکتوں پر نظر نہیں بھارت میں آزادی کشمیر اور خالصتان جیسی کئی تحریکیں چل رہی ہیں جن کو کچلنے کیلئے بھارت مہلک اسلحہ کے استعمال سمیت ہر حربہ آزما رہا ہے اقوام متحدہ کے چارٹر میں آزادی کے حق کے لئے جدوجہد کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

بھارت ایسی جدوجہد کو دہشت گردی قرار دیتا ہے پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی مدد کر رہا ہے‘ بھارت اسے دہشت گردوں کا پشت پناہ کہہ کر پوری دنیا میں بدنام کرنے کے لئے سرگرداں ہے نریندر مودی اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دودل برملا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لیں گے بھارت کی طرف سے پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے افغان صدر اشرف غنی نے جس کانفرنس میں پاکستان کے خلاف حسب سابق ایک بار پھر زہر اگلا‘ اس میں انہوں نے بھارت کے تعاون کو سراہا جو افغان صدر کی نظر میں ہمیشہ غیر مشروط ہوتا ہے!آخر بھارت کی افغانستان سے اس قدر قربت کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان میں مداخلت کیلئے استعمال کر سکے اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی تربیت افغانستان میں ہوتی ہے افغانستان کے ذریعے ہی انکو مالی اور لاجسٹک مدد پہنچائی جاتی ہے اور اِس بات کے ثبوت پاکستان کی جانب سے عالمی برادری کو فراہم کئے جا چکے ہیں۔بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان دشمنی میں قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ صدر اشرف غنی کو یہ ’احسان‘ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ آج اگر وہ اقتدار میں ہیں تو اس میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے جس کو حامد کرزئی کی طرح اشرف غنی نے بھی نظر انداز کر رکھا ہے۔

طالبان حکومت کے خاتمے کے لئے امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت تھی پاکستان نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امریکہ کے ساتھ تعاون کیا جس کا صلہ پاکستان کو بدترین دہشتگردی کی صورت میں ملا جس میں آج پاکستان جل رہا ہے تاہم افغانستان میں پہلے حامد کرزئی اقتدار میں آئے اور آج اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ہیں۔ ان تینوں نے پاکستان کے احسان کے اعتراف کے بجائے بھارت کی کٹھ پتلی بننے کو پسند کیا۔ پاکستان دہشتگردی کی حمایت کیسے کر سکتا ہے جبکہ وہ خود بری طرح دہشت گردی کا شکار ہے! اسے افغانستان میں دہشت گردی سے کیا دلچسپی اور فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان کی اپنی سرزمین پر امن و امان کا قیام ایک چیلنج بنا ہوا ہے! پاکستان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کر رہا ہے۔ جنہیں درپردہ بھارت کی حمایت حاصل ہے اور اسی سبب سے اب تک دہشت گردی کے خلاف جاری مہم مکمل نہیں ہوسکی کیونکہ پاکستان کا مقابلہ ایک ایسے جنگی محاذ پر بھارت سے ہو رہا ہے جس میں خود ہماری اپنی سرزمین اور اپنے سادہ لوح لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر استعمال ہو رہے ہیں۔

دہشت گرد وہ ہیں جو پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان پناہ اور تربیت لیتے ہیں‘ جنہیں ہتھیار اور مالی وسائل فراہم کئے جاتے ہیں تاکہ وہ پاکستان کو مشکل میں ڈال سکیں!۔ بھارت امن کی عالمی کوششوں کا حمایتی نہیں بلکہ اُنہیں تہس نہس کرنے کا عزم کئے بیٹھا ہے۔ قبل ازیں ’سارک کانفرنس‘ کو بھارت نے سبوتاژ کیا تھا۔ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے اپنے خطاب میں مشیر خارجہ نے افغان صدر اشرف غنی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے افغانستان میں دیرپا امن کے لئے مشترکہ اور بامقصد حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کانفرنس میں عالمی برادری کے سامنے پاکستان اور بھارت دونوں کا رویہ آگیا۔ روس تو گویا پاکستان کے شانہ بشانہ نظر آیا۔ افغانستان کے لئے روسی نمائندہ ضمیر کابلوف نے اس موقع پر کہا کہ ’’سرتاج عزیز کا مؤقف تعمیری اور مثبت ہے۔ انہوں نے دوستانہ باتیں کیں۔ الزامات کا کھیل بند ہونا چاہئے۔ پاکستان پر تنقید غلط اقدام ہے۔ پاکستان سمیت ہم لوگ تو افغانستان کے دوست اور حمایتی کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں۔ کابلوف کی باتیں مودی اور اشرف غنی سمیت ان تمام عالمی قوتوں کی سمجھ میں آ جانی چاہئیں جو امن کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وسیم سجاد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)