بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس

پاکستان اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس

خدا جانے ہم کیوں اتنے خوش فہم واقع ہوئے ہیں کہ ایک بات کا معلوم ہونے کے باوجود کہ کوئی ہماری عزت و توقیر کا تیا پانچا کر دے گا اسکو یہ سمجھ کر کر ڈالتے ہیں کہ شاید اس دفعہ ایسا نہ ہوہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شامل ہونے سے قبل بہت سے تجزیہ نگاروں اور لیڈروں کا خیال تھا کہ ہمیں اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے مگر ہمارے وزیر اعظم صاحب کچھ زیادہ ہی خوش فہم واقع ہوئے ہیں ان کا خیال ہے کہ چونکہ مودی ان کے گھر خود چل کر آیا ہے اسلئے وہ پاکستان کے متعلق اچھے خیالات کا حامل ہے ہم نے بارہا اپنے بزرگوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہزاروں سال کی ہندو ہمسائیگی اور اشتراک کار نے انہیں کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کوے ، کتے اور ہندو پر کبھی بھی اعتبار نہیں کرنا چاہئے چاہے وہ سوئے ہوئے بھی ہوں اور یہ وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو ہندو کے ساتھ شراکت داری اور ہمسائیگی کا ایک بڑا عرصہ گزار چکے ہیں ہمیں حیرت ہے کہ میاں نواز شریف اتنے ہندو دوست کیوں نظر آتے ہیں اب جو اس کانفرنس میں حصہ لیا ہے تو دیکھ ہی لیا ہے کہ ہمارے سرتاج عزیز صاحب کو یہ گلہ توہوا ناکہ ہندوستان میں ان سے سفارتکاروں جیسا سلوک نہیں ہوا انکو ایک طرح سے قید رکھا گیاان کوپریس کانفرنس نہیں کرنے دی گئی اسکے ساتھ ساتھ ہمارے صحافیوں کیساتھ بھی اداب صحافت کیخلاف سلوک کیا گیا یہ سب کچھ اسی طرح ہونا تھا۔

اس لئے کہ مودی کے ارادے کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور انکے دہشت گردوں کے الٹی میٹم بھی خالی خولی نہیں ہیں بی جے پی کے دہشت گرد وں نے تو پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ وہ سرتاج عزیز کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے نہیں دیں گے مگر اسکے باوجود وہ گئے اور ویسا سلوک اپنے ساتھ کروا کے واپس آئے کہ جسکی ہم نے اور تقریباً سارے ہی محب وطن لوگوں نے پیش گوئی کی تھی ہم تو کہتے ہیں کہ دشمن دشمن ہوتا ہے چاہے وہ آپ کا دیوار مشترک پڑوسی ہی کیوں نہ ہو اگر آپ دشمن کو اسی نظر سے دیکھیں گے تو اپنا پہلو بچا کر نکل سکیں گے مگر جب اس کو دوست اور پڑوسی سمجھ کر سلوک کریں گے تو آپکے ساتھ بالکل یہی سلوک ہو گا جو ہمارے مشیر خارجہ سے ہوا ہے۔اس کیساتھ ایک اور بات کا بھی خیال کریں کہ ایک وزیر خارجہ اور ایک مشیرخارجہ میں جو فرق ہوتا ہے اسکو بھی نظر میں رکھیں اگر ہمار ا وزیر خارجہ اس کانفرنس میں حصہ لیتا تو مودی سرکا رایسے سلوک کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی جو سرتاج عزیز صاحب سے کیا گیا اسلئے کہ کل کلاں کو انکا وزیر خارجہ بھی ہمارے ملک میں آ سکتا ہے اور وہ ہم سے اسی سلوک کی توقع کر سکتا ہے چنانچہ اس لئے کہ وزیر خارجہ او رمشیر خارجہ میں فرق تو ساری دنیا جانتی ہے اور ہم یہ توقع لگائے بیٹھے ہوں۔

کہ ہمار ے مشیروں سے باہر کی دنیا وزیروں جیسا سلوک کرے گی تو ہمارے جیسا خوش فہم بھی کوئی نہ ہو گا ایک بات البتہ کچھ نیک ہوئی کہ جو زہر مودی اور افغان صدر نے پاکستان کے متعلق اگلا اسکی کچھ اشک شوئی ہمارے مشیر خارجہ نے کر دی مگر جو اعلامیہ جاری ہوا وہ تو پاکستان کو دہشت گرد وں کا سہولت کار دکھاتا ہے اور سہولت کاروں کو ختم کرنے کا عندیہ دے کر پاکستان کو نشانہ بنانے کا سرٹیفیکیٹ مودی نے حاصل کر لیا ہے خطے کے سارے ملکوں نے پاکستان کو دہشت گردوں کا سہولت کار تسلیم کر کے ہمارے گلے میں پھندا ڈال لیا ہے اب پاکستان کو ہندو کی جانب سے بہت زیادہ محتاط رہنا ہو گاجو تخریب کاریاں ہمارے ہاں ہندوستان کر رہا ہے یا افغانستان کی سرزمین سے ہمارے خلاف ہو رہی ہیں ان کا ہمار ے مشیر خارجہ نے کہیں بھی ذکر نہیں کیا اور یوں ہم نے خود کو تو سہولت کا ر تسلیم کروا لیا مگر جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے اس کانفرنس کے ممبران لا علم ہی رہے اور اس اعلامیے کو امریکہ بھی استعمال کر سکتا ہے کہ جس کاہونے والا وزیر خارجہ پہلے ہی کہہ رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک وغیرہ پاکستان میں رہ کرافغانستان میں تعینات امریکیوں کیخلاف لڑرہے ہیں۔