بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بے بنیادالزام تراشی

بے بنیادالزام تراشی


امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے موقع پر بھارت کا معاندانہ رویہ‘سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور اس بارے میں ویانہ کنونشن کے فیصلوں کی دھجیاں بکھیرنا ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے خارجہ امور کے لئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کو سکیورٹی کا بہانہ بناکر میڈیا کیساتھ بات چیت اور گولڈن ٹیمپل جانے سے بھی روک دیاگیا یہی نہیں بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف زہر افشانی بھی کی افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اپنی ہرزہ سرائی میں کہا کہ پاکستان طالبان کو پناہ دے رہا ہے دوسری جانب روس نے کانفرنس میں بھارت وافغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات کی حمایت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کی ہے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک پر الزام تراشی سے امن نہیں آسکتا خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے باضابطہ مذاکرات ناگزیر ہیں ان کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ افغان صدر نے بیان بھارت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے ۔

دریں اثناء ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں لاکھوں افغان مہاجرین کی تیس سال تک میزبانی کرنے پر پاکستان اور ایران کو خراج تحسین پیش کیاگیا کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں افغانستان میں امن کیلئے مذاکرات کو واحد حل قرار دیا گیا ہے اس سارے منظر نامے سے متعلق بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کیساتھ تمام حل طلب معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہتا ہے ا نکا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا پاکستان ایک جانب بھارت کے ساتھ تصفیہ طلب امور پر بات چیت چاہتا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں امن کا خواہاں بھی ہے جس کے لئے پاکستان کی کوششیں بھی کسی سے چھپی نہیں ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ کر پاکستان کے اصولی موقف کو سمجھا جائے۔

پلاسٹک شاپنگ بیگز کا نوٹس
یہ بات قابل اطمینان ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے ٹاؤن تھری کی کونسل اور واٹراینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کے ذمہ داروں نے عام پلاسٹک شاپنگ بیگز کی جگہ قابل تحلیل (بائیو ڈیگریڈیبل) بیگ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد کے لئے پائلٹ پراجیکٹ اسی ماہ حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں شروع کیا جارہا ہے انسانی صحت اور زندگی کے لئے نقصان کا موب بننے والے پلاسٹک شاپنگ بیگز سیوریج سسٹم کو بلاک کرنے کا موجب بھی ہیں جس کے باعث شہری شدید اذیت کا شکار ہیں صوبے کی حکومت نے پہلی مرتبہ مسئلے کا احساس کیا اور پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کا عندیہ دیاگیا تاہم حسب معمول یہ معاملہ بھی سرکاری فائلوں کے اندر دب کر رہ گیا ہے اور کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی پلاسٹک بیگز کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اول تو صوبائی حکومت حتمی فیصلے کرکے ان پر عمل درآمد یقینی بنائے دوئم ضلع وٹاؤن کونسلیں ٹاؤن تھری کی تقلید میں اپنے طور پر پلاسٹک بیگز پر پابندی اور بائیو ڈی گریڈایبل بیگز کے استعمال کو فروغ دیں اس میں خیبر پختونخوا کا پہلا اقدام یادگار رہے گا اور دوسرے صوبے بھی اسکی پیروی کریں۔