بریکنگ نیوز
Home / کالم / دنیا تبدیلی جبکہ پاکستان جمود کی زد میں

دنیا تبدیلی جبکہ پاکستان جمود کی زد میں


یورپ اور امریکہ میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔برطانیہ میں بریگزیٹ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ ٹرمپ کی کامیابی امریکی سیاست کے مرکزی دھارے سے عوام کے غیر مطمئن ہونے کی غمازی کرتی ہے اور اب اٹلی میں ریفرنڈم، جس میں وزیر اعظم، ماتیو رینزی (Matteo Renzi)ایک بڑے مارجن سے ہارگئے، چنانچہ اُنہیں اعلان کرناپڑا کہ وہ اقتدار سے الگ ہورہے ہیں۔
یورپ بھر کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں ، خاص طور پر فرانس کی نیشنل فرنٹ، جو یورپی یونین اور مہاجرین کی آمد کی مخالف ہے ، حالات کے دھارے کو اپنے موافق دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ گلوبلائزیشن کے معاشقے کا موسم لد چکا، اب قوم پرستی کی پرانی اشکال ابھررہی ہیں۔ ایک پرانا معروضہ کہ یورپ کو لازمی طور پر روس کا حریف بن کر کھڑ ا ہونا ہے ، اب دھندلا چکا، اس کی بجائے دائیں بازو کے قائدین ولادیمرپیوٹن کے بارے میں کم مخاصمانہ رویہ رکھتے ہیں۔ درحقیقت پیوٹن کے طاقتور اندازِ حکمرانی کو یورپی مسائل کے حل کیلئے ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ، تو یہ تبدیلیوں سے دور اپنی جگہ ساکت وجامد کھڑا ہے ۔ ہویدا ہونے والی تمام علامات سے ظاہر ہے کہ اس کے دفترِ خارجہ کے افسران ، جن کیلئے لفظ، بابو، زیادہ مناسب ہے ، ہلری کلنٹن کی فتح کی آس لگائے بیٹھے تھے ۔ قصوری سے لے کر قریشی اور مس حنا تک، ہمارے سابق وزرائے خارجہ یہی راگ آلاپ رہے تھے ۔ اُن کا دھیان، بلکہ وہم و گمان بھی کسی اپ سیٹ کی طرف نہیں گیا۔ یورپ اور امریکہ میں سیاسی انتہاپسندی میں اضافے پر کسی کی جوبھی رائے ہو، اور چاہے یہ آپ کو اچھا لگے یا برا، بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ اُن معاشروں کیلئے کیا چیز اچھی اور کیا بری۔ دوسری طرف ہم وقت کے گرد باد کے قیدی ہیں۔ کیا پاکستان میں بات کرنے کیلئے کوئی نیا موضوع ہے ؟ کیا نئے خیالات کا ارتعاش کہیں ہویدا ہے؟

یورپ اور امریکہ نئی قیادت کو آزما رہے ہیں۔ کیا وہ اب تک ٹونی بلیئر کی یادوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں؟ڈیوڈ کیمرون جاچکے، فرانس میں فرانسکو اولاندے کا کہنا ہے کہ و ہ آئندہ صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے ۔ میں نے اٹلی کا حوالہ دیا ہے، رینزی جاچکے ۔ جرمنی کی اینجلا مرکل کا البتہ کہنا ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ بھی چانسلر کے عہدے کیلئے امیدوار ہوں گی ، لیکن اس مرتبہ وہ اتنی مضبوط اور ناقابلِ شکست نہیں جتنی پہلے تینوں مواقع پر۔ مہاجرین کیلئے جرمنی کے دروازے کھولنے کی پالیسی نے اُن کی مقبولیت کوخاصی زک پہنچا ئی ہے۔

دوسری طرف ہم اسکینڈلز سے داغدار ایسی قیادت سے جڑے بیٹھے ہیں جو کوئی تیس برس پہلے فوجی آمریت کی نرسری میں تیار کی گئی تھی ۔ یہ 1985 ء تھا جب نواز شریف کو جنرل ضیا اور ان کے گورنر پنجاب ، لیفٹیننٹ جنرل جیلانی نے پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بنایا۔ اور خد آپ کا بھلا کرے، وہ 2016 ء میں، اکتیس برس بعد ، آج بھی وزیرِ اعظم ہیں۔ کیا اس کے بعد پاکستانی سیاست کے تخلیقی ارتقا پر بات کرنے کی گنجائش ہے ؟اگر نریندر مودی اگلے دو عشروں تک بھارت کے وزیرِ اعظم رہتے ہیں تو کیا بھارتی سیاسی عمل کو تخلیقی ارتقا کا حامل کہا جاسکتا ہے؟ سیاسی جمود اور جمہوریت کا آپس میں کیا تعلق ؟فی الحال ہماری موجودہ سیاسی قیادت ضیا دور کے معروضات سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں۔ ا ن کے سیاسی داؤ پیچ وہی ہیں جو اُنھوں نے 1980 ء کی دہائی میں سیکھے تھے ۔ اس پر کسے موردِ الزام ٹھہرایا جائے ؟ درمیانی درجے کے صنعت کاراب دولت میں کھیلتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی دولت سے ہی گزرتے ہوئے ماہ وسال کا حساب لگایا جاتا ہے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں موجودہ حکمران خاندان خود کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اب ا ن کی دوسری نسل ، جیسا کہ پاناما گیٹ اسکینڈل سے ظاہر ہے ، بھی کاروباری اورمالیاتی امور میں مگن ہے ۔

پاناما اسکینڈل نیم پختہ سچائیوں اور فاش غلط بیانیوں کا آئینہ دار ہے۔ کیا کسی اور جمہوریت میں ایسے مالیاتی اسکینڈل کا سامنا کرنیوالی قیادت اپنا سیاسی بچاؤ کرسکتی تھی ؟اس وقت پاکستان کو اسی چیلنج کا سامنا ہے ، اورپاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت اس کی سماعت کررہی ہے۔ تو یہ سوال بے جا نہ ہو گا کہ جب اقتدار اور ذاتی مفاد کے درمیان لکیر اتنی گڈ مڈ ہوچکی ہو تو قانون کی حکمرانی چہ معانی دارد؟ سکینڈل کی حدت محسوس کرتے ہوئے پہلے تو خاندان، اور پھر مرکز اور پنجاب کی حکومتیں ژولیدہ فکری کا شکار دکھائی دیں۔ اس وقت ان کے سامنے اس کے ممکنہ نتائج سے بچنے کے علاوہ کوئی سوال نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں گورننس پر توجہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

معروضی حالات یہ ہیں پاکستان ایک مشکل محل وقوع میں ہے ۔ اس کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ہے ۔ کیا پاکستان فکری انتشار رکھنے والی ایسی قیادت کا متحمل ہوسکتا ہے ؟مزید یہ کہ پاکستان کو تازہ تصورات درکار ہیں۔ ملک کو معاشی، سماجی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ ریاستی کے خدوخال تشکیل دینے والی ہر چیز، جیسا کہ قوانین اور انتظامی ڈھانچہ ، برطانوی دور کی باقیات ہیں۔ انہیں بہتر بنانے اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے جو کچھ کیا جانا چاہئے تھا، وہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ دونوں ہاتھوں سے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف رہی ۔ پاکستان کو ایک فلاحی معاشرہ بنانے ، امیر اور غریب کا فرق کم کرنے ، صحت اور تعلیم پر زیادہ وسائل خرچ کرنے ، اور ان شعبوں کو قومی تعمیر کا مرکزی حصہ بنانے ، کی ضرورت ہے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔
1947 ء میں پاکستان کے پاس ایسے مواقع تھے جن سے دیگر ایشیائی ریاستیں محروم تھیں۔ آج زیادہ تر ریاستیں پاکستان سے کہیں آگے نکل چکی ہیں۔ اگر ہماری قیادت کی سمت درست ہوتی توہم جنوبی کوریا کے ہم پلہ ہوسکتے تھے ، لیکن ہم اپنا موقع گنوا بیٹھے ۔ اب پاکستان ان مواقع کے انتظار میں ہے ، لیکن یہ منزل اُس وقت تک حاصل نہیں کی جاسکتی جب تک قیادت کا بحران حل نہیں ہوتا ۔ جنرل راحیل شریف کی روانگی کے ساتھ ہی فوجی قیادت کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے بننے والے خدشات کے بادل چھٹ گئے ۔ ایسا نہیں کہ جنرل راحیل شریف مداخلت کرنے کا ادارہ رکھتے تھے ، لیکن ان کی کارکردگی کی وجہ سے سویلین حکومت کی چمک ماند پڑچکی تھی ۔ اس کی وجہ سے افواہوں اور قیاس آرائیوں کی منڈی میں مداخلت کے سودے کی قدر بلند تھی۔ کمال اتا ترک طرز پر حکومت سنبھالنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ تاہم ان کی روانگی کے ساتھ ہی سیاسی عمل کے سامنے کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔

اس وقت چونکہ انتخابات ہونے میں ابھی ایک سال باقی ، توپاکستان کے پاس یورپ اور امریکہ کی طرح نئے سیاسی امکانات آزمانے کا موقع ہے ۔ یہاں صرف جراتِ رندانہ کی کمی ہے ۔ ٹرمپ کی فتح اور بریگزٹ کی کامیابی کے پیچھے اشتعال کی کارفرمائی تھی ۔ اطالوی ریفرنڈم کے پیچھے بھی غصے اور مایوسی کا ہاتھ ہے ۔ لیکن پاکستانی غصہ یا اشتعال کہا ں ہے ؟دھرنوں اور لانگ مارچ کے دوران کچھ جذبات دیکھنے میں آئے‘ عمران خان اسٹبلشمنٹ مخالف طاقتوں کی ممکنہ شکل تھے جو مغرب میں عوامی بے چینی کو ایک سیاسی جہت دے رہی ہیں۔ لیکن یہ اشتعال تعمیر ی ہو، تخریبی نہیں۔ پاناما گیٹ کا سپریم کورٹ میں جو بھی نتیجہ نکلتا ہے ، یہ ضیا دور سے چلی آنیوالی قیادت کیلئے نقارہِ رحلت ہے ۔ اہم سوا ل یہ ہے کہ اس خلاکو کون پر کرے گا؟ قوم کی نئی سمت راہنمائی کا فریضہ کون سرانجام دے گا؟یہ سوال انتہائی اہم ہیں۔ کیا ہم ہاتھ آنے والے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا پھر ہماری قسمت پر منحوس ستاروں کا اثر ختم نہیں ہوگا؟